تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

کراچی کے لیے بجلی سے چلنے والی دو ہزار بسوں کی پیشکش

  30 اکتوبر‬‮ 2017   |    02:40     |     کارو بار

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک )چینی کمپنی نے 60 کروڑ ڈالر کے ٹرانسپوٹ منصوبے کے تحت صوبے سندھ کے دارالحکومت کراچی کے ٹرانسپورٹ مسائل حل کرنے کے لیے بجلی سے چلنے والی 2 ہزار بسیں فراہم کرنے کی پیشکش کردی۔یہ پیشکش انھوں نے میئر کراچی وسیم اختر سے ان کے دفتر میں ہونے والی ملاقات میں کی، جس میں چینی کمپنی کے نمائندے

تھامس وانگ نے 6 رکنی چینی وفد کی سربراہی کررہے تھے۔ چینی کمپنی 'ایکو بس' کے نمائندے تھامس وانگ کا کہنا تھا کہ چینی کمپنی شہر قائد کو 2 بسوں کا تحفہ بھی دے گی جو آئندہ 2 ماہ میں کراچی پہنچ جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بسیں اس لیے بھیجی جائیں گی تاکہ ان کو شہر کی سڑکوں کے مطابق آزمایا جا سکے اور ڈرائیورز، میکینک اور دیگر اسٹاف کو ٹریننگ دی جا سکے۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی کا کہنا تھا کہ شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کی صورتحال انتہائی خراب ہے اور اگر ان بسوں کو آزمانے کے بعد اس منصوبے کو عملی جامہ پہنایا گیا تو کراچی میں ٹرانسپورٹ کا بڑا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ چینی کمپنی کی جانب سے دی جانے والی بسیں اگلے چند ہفتوں میں کراچی پہنچ جائیں گی جس کے بعد ان کی شہر کی سڑکوں کے مطابق جانچا کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ 'یہ بسیں نہ ہی کراچی میں ہوائی آلودگی پیدا کریں گی نہ ہی ان کا کوئی شور ہوگا جبکہ ان میں درآمد کیا جانے والا تیل بھی استعمال نہیں ہوگا، جس سے ہم اپنا قیمتی زر مبادلہ بچا سکیں گے'۔ منصوبے کے بارے میں میئر کراچی نے بتایا کہ ان میں ایک دفعہ پوری طرح چارج ہونے پر 280 کلومیٹر تک چلنے کی صلاحیت ہوگی جبکہ ان بسوں کے لیے شہر میں تقریبا 500 اسٹیشنز بھی بنائے جائیں گے جہاں ان بسوں کو چارج کیا جائے گا۔ انھوں نے بتایا کہ چینی کمپنی نے منصوبے کے حوالے سے مختلف پیشکش کی ہے جن میں ان کا کہنا تھا کہ وہ خود سرمایہ لا کر ان بسوں کو چلائیں گے یا حکومت اور مقامی ٹرانسپورٹ کے ساتھ مل کر بھی ان بسوں کو چلا سکتے ہیں یا پھر صرف ان بسوں کو فروخت کیا جائے گا۔ انھوں نے مزید بتایا ان کی جانب سے کی جانے والی پیشکش پر غور کیا جائے گا کہ عام عوام کے حق میں کیا بہتر رہے گا۔ وسیم اختر کا کہنا تھا کہ دنیا کے تمام بڑے شہروں میں اربن ماس ٹرانزٹ کا نظام موجود ہے جبکہ کراچی میں پوری طرح سے چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ بھی موجود نہیں جس کی وجہ سے عوام پرائیوٹ منی بسوں میں سفر کرنے پر مجبور ہیں جن کی حالت زار سب کے سامنے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے وفد کو یقین دہانی کرائی ہے کہ شہری حکومت اس ماحول دوست منصوبے کے لیے پر امید ہے جس کی وجہ سے کراچی کے ٹراسپورٹ مسائل کے ساتھ ساتھ عوام کی مشکلات بھی حل ہوجائیں گی۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین تصاویر


>