تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

افغانستان کوپورٹ قاسم پرمزیدانحصارنہ کرنیکااعلان

  12 ‬‮نومبر‬‮ 2017   |    10:36     |     کارو بار

کابل(ویب ڈیسک)بھارت سے تجارتی سامان ایران کے راستے افغانستان لے جانے کے روٹ کا افتتاح کردیا گیا جب کہ افغان حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہ چاہ بہار کھلنے کے بعد اب و ہ کراچی پورٹ پر مستقل انحصار نہیں کریں گے۔افغان نیوز ایجنسی کے مطابق افغانستان، بھارت اور ایران کے درمیان نئے تجارتی روٹ کا افتتاح کرنے

کے ضمن میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں اعلیٰ افغان حکام اور بھارتی سفیر من پریت وہرہ نے شرکت کی اور اس نئے روٹ کا باضابطہ افتتاح کیا۔ بھارتی پورٹ سے براستہ ایرانی بندرگاہ چاہ بہار اور وہاں سے افغان پورٹ نمروز پہنچنے والی یہ پہلی کھیپ گندم کی تھی جو کہ سات لاکھ ٹن گندم پر مشتمل تھی۔ افغان صوبے نمروز کے گورنر محمد سمیع اللہ نے کہا ہے کہ ایرانی بندرگاہ چاہ بہار فعال ہونے سے اب افغانستان کراچی پورٹ پر مکمل انحصار نہیں کرے گا، اس بندرگاہ کی فعالیت سے ہزاروں نوکریاں پیدا ہوں گی، وہیں تینوں ممالک بھارت، ایران اور افغانستان کو اربوں روپے کی آمدنی ہوگی جب کہ صوبہ نمروز کے باشندوں کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ نمروز کی بندرگاہ جانے والے راستے انتہائی محفوظ ہیں۔ افغانستان کے قائم مقام وزیر زراعت ناصر احمد درانی نے کہا کہ بھارت، ایران اور افغانستان کے درمیان تجارت کو چاہ بہار کے ذریعے بڑھانے کا یہ بہترین موقع ہے۔ دوسری جانب بھارتی سفیرمن پریت وہرہ کا کہنا تھا کہ چاہ بہار خطے کے ان تین ممالک کو آسان اور مختصر راستے سے ملانے کا بہترین ذریعہ ہے، بھارت اور ایران کے درمیان اس تعاون کی وجہ افغانستان کی امداد کرنا اور تین ممالک کے درمیان تجارتی سامان کی نقل و حرکت کے لیے مزید ذرائع دریافت کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہفتے کو افغانستان کو دی گئی گندم بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے وعدے کا حصہ ہے جو انہوں نے کابل کے دورے پرکیا تھا۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین تصاویر


>