تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

ملاوٹ شدہ پٹرول فروخت کرنیوالی کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کرنے کا فیصلہ

  15 ‬‮نومبر‬‮ 2017   |    10:08     |     کارو بار

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) اوگرا کو ملک میں ملاوٹ شدہ پٹرول کی فروخت کیلئے بنائی جانے والی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ موصول ہو گئی، کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں ملاوٹ شدہ پٹرول فروخت کرنیوالی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز )کے خلاف تادیبی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔ اوگرا کی جانب سے کمپنیوں کی مانیٹرنگ اور چیکنگ کیلئے مؤثر نظام نہ ہونے کی وجہ سے ملاوٹ شدہ پٹرولیم مصنوعات عام فروخت

ہو رہی ہیں، ملک کے جنوبی علاقوں میں اسمگل شدہ ایرانی جبکہ شمالی علاقوں میں ملاوٹ شدہ پٹرولیم مصنوعات فروخت کی جا رہی ہیں ۔ واضح رہے کہ نجی ٹی وی چینل نے ایک بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنی کی طرف سے ران 90کو ران 92 بناکر فروخت کرنے کی خبر فروری 2017میں شائع کی تھی۔ اوگرا ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی نے تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پٹرول پمپوں سے نمونے حاصل کئے ، ان نمونوں کی ہائیڈرو کاربن ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان (ایچ ڈی آئی پی ) کی لیبارٹری سے سربمہر رپورٹ لی گئی۔ واضح رہے اٹلس ہنڈا پاکستان نے اوگرا کو فروخت ہونے والے ران 92پٹرول کے غیر معیاری ہونے کی رپورٹ کی تھی کہ ران 92 میں میگنیشم کی ملاوٹ سے ہنڈا کی پاکستان میں حال ہی میں متعارف کرائی گئی 1500سی سی ٹربو کار بند ہو گئی ہے اور کمپنی کو پاکستان میں یہ برانڈ بند کرنا پڑا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ چیئرپرسن اوگرا کے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے اتھارٹی کا اجلاس آئندہ ہفتے متوقع ہے ۔غیر معیاری پٹرول فروخت کرنے پر ان کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کرنے کے ساتھ بھاری جرمانہ بھی کیا جا سکتا ہے ۔ رابطہ کرنے پر اوگرا کے ترجمان عمران غزنوی نے انکوائری رپورٹ کی تصدیق کر دی مگر مزید بات کرنے سے انکار کر دیا۔ آٹو انڈسٹری ذرائع کے مطابق ریفائنریاں یورو 2معیار کا پٹرول بنا رہی ہیں، جب کہ درآمد کردہ اور مقامی طور پر تیار ہونیوالی گاڑیاں یورو2اور یورو 4کے معیار کی ہیں، جس کی وجہ سے آٹو ساز کمپنیوں کو صارفین کی جانب سے شکایات مل رہی ہیں، آئل کمپنیز اینڈ ایڈوائزری کمیٹی (ا و سی اے سی) کے ایک اہلکار نے بتایا کہ پٹرولیم ڈویژن کے معیار کی خلاف ورزی نہیں کی جا رہی ۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

بزنس خبریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین تصاویر


>