تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

وزارت توانائی نے وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی

  18 ‬‮نومبر‬‮ 2017   |    10:30     |     کارو بار

اسلام آباد ( ڈیلی آزادنیو زڈیسک ) وزارت توانائی نے وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) سے باقاعدہ طور پر تیل کی مصنوعات میں ملاوٹ کے حوالے سے فیول مارکنگ پروگرام (ایف ایم پی) کے آغاز کے لیے باقاعدہ منظوری طلب کر لی، جس کا آغاز ممکنہ طور پر مٹی کے تیل سے کیا جائے گا۔وزارتِ توانائی کی جانب سے ارسال کی جانے والی سمری میں

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مقرر کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قیمتیں مقرر کرنے کے اقدام سے مٹی کے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا تاہم اس کی قیمت بولی لگانے والے کو یہ رقم ادا کرنی ہوگی۔امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اگلے ہفتے تک اس سمری کا نوٹس لیتے ہوئے معاملہ حل کرنے کی ہدایت جاری کردیں گے۔سیکریٹری پیٹرولیم کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ 6 کمپنیوں جن میں 4 برطانوی، ایک سنگاپور، ایک جرمنی میں قائم پاکستانی کمپنی شامل ہیں جنہیں 1 سال کے معاہدے کے لیے بولی میں شامل ہونے کی درخواست دی گئی تاہم اس میں 2 کمپنیوں نے ٹینڈر کے حصول کے لیے جمع باقاعدہ کاغذات جمع کرائے جن میں سے ایک کمپنی کی بولی کو منظور کیا گیا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تیل کی قیمتیں مقرر کیے جانے کے بعد اس منصوبے کو مقامی ریفائنریز اور کمپنیوں کی جانب سے تیار کی جانے والے دیگر مصنوعات پر بھی استعمال کیا جاسکے گا اور منصوبے کی مقررہ مدت کو بڑھا دیا جائے گا تاکہ مستقبل میں صارفین سے اضافی قیمتیں وصول نہ کی جائیں۔سیکریٹری پیٹرولیم سکند سلطان راجہ نے کہا کہ ملکی سطح پر استعمال کرنے کے لیے مٹی کے تیل کی پیداور کا حجم 150 لاکھ ٹن تک ہے تاہم اس میں ایندھن شامل نہیں ہے۔پیٹرولیم کی حالیہ قیمتوں کے حساب سے مٹی کے تیل اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں 31 روپے 40 پیسے فی لیٹر کا فرق ہے جس کی وجہ سے ہائی اسپیڈ ڈیزل میں مٹی کا تیل شامل کیا جاتا ہے جس کے باعث مارکیٹ میں مٹی کے تیل کی کمی ہوجاتی ہے۔واضح رہے کہ شاہد خاقان عباسی نے وزاتِ عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے سے قبل پیٹرولیم مصنوعات کے لیے ایف ایم پی متعارف کرایا تھا، جس کی مدد سے مٹی کے تیل کی دیگر مصنوعات میں ملاوٹ اور ٹیکس چوری سے نجات حاصل کی جاسکے۔کامیاب بولی لگانے والی اوتھینٹگز نامی برطانوی کمپنی نے آئندہ 6 ماہ کے لیے فیول مارکننگ کے لیے 1.22 روپے فی لیٹر کی پیشکش کی تھی جبکہ اس مدت کے بعد اس قیمت میں 3 پیسے کا ڈسکاؤنٹ دیا جائے گا۔ای سی سی سے مٹی کے تیل کے لیے ملاوٹ اور اس کی کوالٹی کو برقرار رکھنے سے مشروط فیول مارکننگ کی منظوری طلب کی گئی ہے۔سیکریٹری پیٹرولیم نے تجویز پیش کی کہ اوگرا کے زیرِ سرپرستی مٹی کے تیل کی مارکنگ کے لیے بولی میں کامیاب ہونے والی کمپنیوں سے شراکت داری اور سرکاری نمائندوں سے رابطہ کرنے کے لیے آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) کو بااختیار بنایا جائے۔۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

بزنس خبریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین تصاویر


>