تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

غصے پر کیسے قابو پائیں؟

  6 جنوری‬‮ 2017   |    04:35     |     صحت و زندگی

رشتے داروں اور دوست احباب کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی، مالی پریشانیاں اور صحت کے مسائل آپ کی ذہنی حالت پر بہت اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان مسائل کے شکار فرد کے مزاج میں تلخی پیدا ہو جاتی ہے اور وہ معمولی معمولی باتوں پر طیش میں آنے لگتا ہے۔ اس کی قوت برداشت میں کمی واقع ہو جاتی ہے اور وہ ہر ایک سے الجھنے لگتا ہے اور پھر یوں اسے ہر وقت غصے میں رہنے کی عادت پڑ جاتی ہے۔ ایسے فرد کا بلڈ پریشر بھی بڑھ جاتا ہے، جس کے باعث اس کی صحت پر بہت خراب اثرات مرتب ہوتے ہیں۔برطانوی اخبار،دی انڈیپنڈنٹ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، ایسے تمام افراد کو چاہیے کہ وہ حالات تبدیل کرنے کی کوشش کریں اور درج ذیل اقدامات کر کے خود کو خوش و خرم اور صحت مند رکھیں۔ سبزیاں اور پھل کھائیں: سبزیاں اور پھل صحت کے لیے بہت مفید ہوتے ہیں۔ برطانیہ میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق، جو افراد روزانہ پھل یا سبزیاں کھاتے ہیں، وہ ذہنی طور پر ہشاش بشاش اور صحت مند رہتے ہیں اور ایسے افراد خوش رہنے کے ساتھ ذہنی امراض سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔ سورج کی روشنی: کیا آپ کا پورا دن گھر یا دفتر کی چار دیواری میں گزر جاتا ہے؟ اگر اس سوال کا جواب ہاں میں ہے، تو اس کا نتیجہ بد مزاجی کی شکل میں ظاہر ہو سکتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی زید یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق، سورج کی روشنی سے دور رہنے والے افراد میں حیاتین (وٹامن ڈی) کی کمی اور ڈپریشن یعنی افسردگی میں مبتلا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، جس کا نتیجہ غصے، چڑچڑے پن، بدمزاجی اور مایوسی کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس کیفیت سے بچنے کا آسان حل یہ ہے کہ روزانہ پندرہ، بیس منٹ تک چہل قدمی کر لی جائے۔ کام کا بوجھ: بہت زیادہ کام کرنے کی عادت سے نہ صرف جسمانی کمزوری واقع ہو جاتی ہے، بلکہ ذہن پر منفی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ ایک امریکی یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جو افراد ہفتے میں50گھنٹے سے زیادہ کام کرتے ہیں، ان کی جسمانی صحت خراب ہونے کے ساتھ ذہنی حالت بھی متاثر ہوتی ہے۔ ایسے افراد جلد غصے میں آجاتے ہیں اور ڈپریشن میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں۔ مسکراہٹ و ہنسی: ماہرین کے مطابق، ہنستا مسکراتا رہنے کی عادت خراب یادداشت اور ذہنی دبائو کا سبب بننے والے ہارمونز کی کارکردگی کو گھٹا دیتی ہے۔

نیند کی کمی: مناسب نیند نہ لینے سے بھی ذہنی دبائو بڑھ جاتا ہے، جس کے باعث بد مزاجی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ نیند کی کمی اداسی، غصے اور ذہنی تھکن کو بڑھا دیتی ہے۔ لہٰذا، اپنی غصے کی عادت پر قابو پانے کے لیے بھرپور نیند لیں۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
75%
ٹھیک ہے
25%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مین

loading...

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

تازہ ترین تصاویر


>