تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

دنیا کے 15 خطرناک ترین جاندار

  6 جنوری‬‮ 2017   |    04:36     |     صحت و زندگی

دنیا کا سب سے خطرناک یا قاتل جاندار کون سا ہے ؟ اگر آپ انسان کو ہی قرار دیتے ہیں تو یہ بالکل غلط ہے بلکہ بڑے بڑے جانوروں کے مقابلے میں ایک چھوٹا سا کیڑا سب سے مہلک ہے۔ اگر آپ شیر یا شارک وغیرہ سے ڈرتے ہیں تو جناب وہ ہم انسانوں کیلئے بہت زیادہ خطرناک نہیں، درحقیقت یہ بڑے بڑے جانور تو کچھ بھی نہیں، مچھر سے بڑا قاتل جاندار کوئی نہیں۔ یہ بات بل گیٹس کے ایک پرانے بلاگ میں سامنے آئی تھی، جس کا گراف بھی دنیا کے امیر ترین شخص نے پیش کرکے بتایا تھا کہ کونسے جاندار اوسطاً ہر سال لوگوں کی جانیں لیتے ہیں۔ اب ایک نئی رپورٹ میں دنیا کے 15 خطرناک ترین جانداروں کا ذکر کیا گیا ہے جو سالانہ جتنی اموات کا باعث بنتے ہیں ان پر یقین کرنا کافی مشکل ہے۔ 15۔ شارک مچھلی : سالانہ 6 اموات شارک مچھلی کی جانب سے انسانوں پر حملے کے واقعات بہت کم پیش آتے ہیں۔ 2014 میں سمندر پر راج کرنے والی اس مچھلی کے حملوں میں دنیا بھر میں صرف تین افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 2015 میں یہ تعداد چھ تھی جو کہ اس سے ہونے والی ہلاکتوں کی اوسط تعداد بھی ہے۔ 14۔ بھیڑئیے : سالانہ 10 اموات بھیڑئیوں کے انسانوں پر حملے ان علاقوں میں بھی بہت کم ہیں جہاں یہ جانور نظر آتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2002 میں بھیڑئیوں کے حملوں میں یورپ اور شمالی امریکا میں 50 ہلاکتیں ہوئیں، جبکہ انڈیا کے کچھ حصوں میں گزشتہ دہائیوں کے دوران اس کے حملوں میں چند سو ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں، بھیڑئیے اوسطاً سالانہ 10 انسانوں کے قاتل ثابت ہوتے ہیں۔ 13۔ شیر : سالانہ 22 یا اس سے زائد ہلاکتیں شیر کے حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں کا تخمینہ کافی مختلف ہے۔ 2005 کی ایک تحقیق کے مطابق 1990 سے 2005 کے دوران صرف تنزانیہ میں ہی شیروں

کے حملوں میں 563 افراد ہلاک ہوئے۔ اس افریقی ملک سے باہر بھی اس جانور کے حملے سننے میں آتے ہیں تاہم مستند اعداد وشمار کا حصول کافی مشکل ہے، اس لیے مانا جاتا ہے کہ یہ اوسطاً 22 یا اس سے زائد ہلاکتوں کا باعث بننے والا جانور ہے۔ 12۔ ہاتھی : سالانہ 500 اموات ہاتھی ہر سال کافی اموات کے ذمہ دار ہوتے ہیں، 2005 کے نیشنل جیوگرافک کے ایک مضمون کے مطابق ایک سال میں ہاتھیوں کے حملے میں 500 افراد ہلاک ہوئے ہیں، مگر اس سے بھی زیادہ بڑی تعداد میں ہاتھی ہر سال انسانوں کے ہاتھوں ہلاک ہوجاتے ہیں۔ 11۔ دریائی گھوڑے : سالانہ 500 اموات دریائی گھوڑے بہت زیادہ مشتعل مزاج ہوتے ہیں اور ماضی میں افریقہ میں اسے سب سے بڑا قاتل جانور بھی تصور کیا جاتا تھا. انسانوں کے حوالے سے ان کی جارحیت بہت واضح ہے اور یہ اکثر کشتیوں کو الٹ دیتے ہیں۔ 10۔ ٹیپ وارمز : سالانہ 700 اموات یہ ننھے کیڑے انسانوں کی غذا کی نالی میں بھی پائے جاتے ہیں اور یہ ایک انفیکشن cysticerosis کا باعث بنتے ہیں جس سے ہر سال اوسطاً 700 افراد کی ہلاکتیں ہوتی ہیں۔ 9۔ مگر مچھ : سالانہ 1 ہزار اموات مگر مچھ اب افریقہ میں انسانوں کو مارنے والا سب سے بڑا جاندار مانا جاتا ہے اور اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگری کلچرل آرگنائزیشن کے مطابق مگر مچھ ہر سال اوسطاً ایک ہزار افراد کو ہلاک کرتے ہیں۔ تاہم اس کے جبڑوں کی زد میں آنے والے افراد کی اصل تعداد کا درست اندازہ لگانا کافی مشکل ہے۔ 8۔ اسکارس راؤنڈ وارم : سالانہ 4500 اموات انسانوں کی آنتوں میں پائے جانے والے یہ کیڑے ایک انفیکشن aschariasis کا باعث بنتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ انفیکشن ہر سال اوسطاً 4500 اموات کا باعث بنتا ہے، عالمی ادارے کا مزید کہنا تھا کہ یہ انفیکشن انسانوں کی چھوٹی آنت میں ہوتا ہے اور بڑوں کے مقابلے میں بچوں کو زیادہ متاثر کرتا ہے۔ 7۔ خر مگس یا سی سی مکھی : سالانہ 10 ہزار اموات مکھیوں کی ایک قسم ایک مرض سلیپنگ سک نیس کو انسانوں میں منتقل کرتی ہے، یہ ایسا انفیکشن ہے جس میں پہلے سر درد، بخار، جوڑوں کے درد اور خارش کی شکایت ہوتی ہے مگر بعد میں یہ سنگین دماغی مسائل کا باعث بن جاتا ہے۔ اب اس مرض سے ہونے والی اموات کی تعداد میں کمی آئی ہے پھر بھی اوسطاً 10 ہزار افراد اس مکھی کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ 6۔ کسنگ بگز : سالانہ 12 ہزار اموات یہ کیڑے اپنے ساتھ چاگاز نامی مرض کے جراثیم لے کر چلتے ہیں جو ہر سال اوسطاً 12 ہزار اموات کا باعث بنتا ہے۔ چاگاز نامی یہ مرض ایسا انفیکشن ہے جو بگ سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اور یہ اکثر انسانوں کو چہرے پر کاٹتا ہے۔ 5۔ تازہ پانی کے گھونگھے : سالانہ 20 ہزار سے زائد اموات تازہ پانی کے گھونگھے اپنے ساتھ ایسے کیڑے لے کر گھومتے ہیں جو انسانوں کو ایک جان لیوا مرض schistosomiasis کا شکار کردیتا ہے جس سے معدے کا شدید درد اور فضلے میں خون آتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے تخمینے کے مطابق ہر سال لاکھوں افراد اس انفیکشن کا شکار ہوتے ہیں جن میں سے 20 ہزار سے 2 لاکھ اموات ہوتی ہیں۔ 4۔ کتے : سالانہ 35 ہزار اموات کتے خصوصاً ربیز وائرس سے متاثرہ کتے ہمارے ارگرد گھومنے والے خطرناک ترین جانوروں میں سے ایک ہیں، جن کے کاٹنے سے جسم میں پھیلنے والے وائرس کی روک تھام اگرچہ ممکن ہے مگر پھر بھی ہر سال دنیا بھر میں اس کے نتیجے میں 35 ہزار اموات ہوجاتی ہیں۔ 3۔ سانپ : سالانہ ایک لاکھ اموات 2015 میں سانپوں کے ڈسنے کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد اموات ہوئی تھیں، مزید بدترین امر یہ ہے کہ دنیا بھر میں سانپ کے زہر کے تریاق کی کمی کا مسئلہ ابھر رہا ہے جو ان ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ 2۔ انسان : سالانہ 437000 اموات اقوام متحدہ کے ڈرگز اینڈ کرائم آفس کے مطابق 2012 میں دنیا بھر میں انسانوں کے ہاتھوں 4 لاکھ 37 ہزار افراد قتل ہوئے اور اس طرح یہ دنیا کا دوسرا خطرناک ترین جاندار بن جاتا ہے۔ اگرچہ ہم نمبرون پر موجود اپنے بدترین دشمن کا مقابلہ تو نہیں کرسکتے مگر اس کے کافی قریب ضرور پہنچ چکے ہیں۔ 1۔ مچھر : سالانہ ساڑھے 7 لاکھ اموات مچھر دیکھنے میں چھوٹے سے کیڑے نظر آتے ہیں مگر یہ ہمارا خون چوسنے کے دوران مختلف جراثیم ایک سے دوسرے فرد میں منتقل کردیتے ہیں اور سب سے زیادہ تعداد میں انسانوں کی ہلاکت کا باعث بنتے ہیں۔ ساڑھے سات لاکھ میں سے پچاس فیصد اموات تو صرف ملیریا سے ہی ہوتی ہیں جن میں افریقہ سرفہرست ہے۔ اسی طرح ڈینگی بخار مچھروں کے کانٹے سے منتقل ہونے والا ایسا مرض ہے جو شدید بیماری اور اموات کا باعث بنتا ہے جبکہ آج کل زیکا وائرس بھی خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
50%
پسند ںہیں آئی
50%
اپنی رائے کا اظہار کریں -

انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مین

loading...

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

صحت و زندگی خبریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین تصاویر


>