تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

جڑواں بچے پیدا کرنے والی خواتین اور بچوں سے متعلق نیا انکشاف

  11 جون‬‮ 2017   |    11:33     |     صحت و زندگی

لاس اینجلس (ویب ڈیسک )ہولی وڈ اسٹار جارج کلونی کی اہلیہ امل کلونی نے حال ہی میں جڑواں بچوں کو جنم دیا، جس پر دنیا بھر میں ایک بار پھر جڑواں بچوں کا ذکر چھڑ گیا۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی سلیبرٹی کے ہاں جڑوا بچے پیدا ہوئے ہوں، اس سے پہلے ٹینس اسٹار راجر فیڈرر اور حال ہی میں بھارتی فلم ساز کرن جوہر کے ہاں بھی جڑواں بچے ہوئے۔ اس کے علاوہ بھی کئی شخصیات کے ہاں جڑواں بچے ہوئے ہیں، جب کہ گلوکارہ بیونسے کو بھی ڈاکٹروں نے جڑواں بچوں کی خوشخبری سنائی ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق 1980 کے بعد دنیا بھر میں جڑواں بچوں کی پیدائش میں تیزی آگئی ہے، صرف امریکا میں ہی 2014 میں ایک لاکھ 35 ہزار 336 جڑواں بچے پیدا ہوئے، جب کہ ہر سال ان میں اضافہ ہوا۔عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ جڑواں بچے پیدا کرنے والی خواتین کمزور یا بیمار پڑ جاتی ہیں، جب کہ بچے بھی غیر صحت مند ہوتے ہیں، تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔

رسرچ جرنل میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف واشنگٹن کی جانب سے 2016 میں کی جانے والی ایک تحقیق سے پتہ چلا کہ جڑواں بچے عام بچوں کے مقابلے زیادہ لمبی عمر پاتے ہیں۔ ماہرین نے 1870 سے 1900 تک یورپی ملک ڈینمارک میں پیدا ہونے والے 2900 افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا۔ماہرین نے جڑواں پیدا ہونے والے افراد اور اکیلے پیدا ہونے والے افراد کی مجموعی عمر کا تقابلی جائزہ لیا، جس سے پتہ چلا کہ جڑواں پیدا ہونے والے افراد زیادہ صحت مند اور لمبی عمر پاتے ہیں۔ جڑواں پیدا ہونے والے مرد 45 برس کی عمر تک اکیلے پیدا ہونے والے مردوں کے مقابلے 6 فیصد، جب کہ جڑواں پیدا ہونے والی خواتین 60 برس کی عمر تک اکیلے پیدا ہونے والی خواتین کے مقابلے 10 فیصد زیادہ صحت مند ہوتی ہیں۔ ایک اور امریکی تحقیق کے مطابق جڑواں بچوں کو جنم دینے والی خواتین بھی عام خواتین کے مقابلے لمبی عمر پانے سمیت صحت مند زندگی گزارتی ہیں۔ یونیورسٹی آف یوٹاہ کی جانب سے 2011 میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ایسا نہیں ہے کہ جڑواں بچوں کو جنم دینے کے بعد خواتین صحت مند ہوتی ہیں، بلکہ جڑواں بچوں کو وہی خواتین جنم دیتی ہیں، جو دیگر کے مقابلے زیادہ صحت مند ہوتی ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ خیال کرنا کہ جڑواں بچوں کی پیدائش سے لمبی عمر ملتی ہے، ایسا نہیں ہے، بلکہ ایسی خواتین کی پہلے ہی صحت بہتر ہوتی ہے، جس وجہ سے وہ جڑواں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس لیے آسان الفاظ میں یہ کہ جڑواں بچوں کو جنم دینے والی خواتین صحت مند اور لمبی زندگی گزارتی ہیں

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
55%
ٹھیک ہے
27%
کوئی رائے نہیں
9%
پسند ںہیں آئی
9%
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مین

loading...

تازہ ترین تصاویر


>