تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

لاعلاج ذیابیطس کا علاج اب ہوگا ممکن؟

  6 ستمبر‬‮ 2017   |    02:30     |     صحت و زندگی

ذیابیطس کو لاعلاج مرض سمجھا جاتا ہے تاہم سائنسدانوں نے ایک نئے طریقہ علاج کے کامیاب تجربات کیے ہیں جس کے نتیجے میں بیماری سے متاثرہ دفاعی نظام کو 'دوبارہ تربیت' دی جاتی ہے کہ وہ انسولین کو تباہ نہ کریں۔برطانیہ کے کنگز کالج لندن اور کارڈف یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق کے دوران محققین نے مریضوں کے اندر ننھے

پروٹین ذرات داخل کیے، جنھوں نے دفاعی نظام کے خلیات کو انسولین کو ہدف بنانے سے روکا۔ذیابیطس ٹائپ ون میں مریضوں کے جسمانی مدافعتی نظام انسولین پیدا کرنے والے خلیات پر حملہ آور ہوکر نقصان پہنچاتے ہیں اور اسی وجہ سے انسولین کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔اگر علاج نہ کرایا جائے تو یہ خلیات بتدریج گھٹنے لگتے ہیں اور جسم بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے کے قابل نہیں رہتا، ان حالات میں روزانہ انسولین کے انجیکشن کی ضرورت ہوتی ہے۔اس نئی تحقیق میں 27 افرادکے دو گروپس پر تجربات کیے گئے اور چھ ماہ تک انہیں ہر پندرہ روز یا ایک ماہ بعد پروٹین کے ننھے ذرات جسم میں داخل کیے گئے۔تجربات کے دوران ایک گروپ کو عام ادویات کا استعمال کرایا گیا اور ان کے انسولین کے خلیات میں کمی دیکھی گئی جبکہ دوسرے گروپ میں صورتحال میں بہتری دیکھنے میں آئی۔اب محققین اس کے زیادہ بڑے پیمانے پر تجربات کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جب کسی شخص میں ذیابیطس ٹائپ ون کی تشخیص ہوتی ہے تو عام طور پر ان کے انسولین کے خلیات پندرہ سے بیس فیصد تک باقی ہوتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ہم دیکھنا چاہتے تھے کہ کیا ہم باقی ماندہ خلیات کو جسمانی دفاعی نظام کے حملوں سے بچاسکتے ہیں یا نہیں، اس حوالے سے ابھی کافی کچھ کرنا باقی ہے مگر ابتدائی نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ہم درست سمت کی جانب گامزن ہیں۔محققین کے مطابق ہمارے تجربات اس مرحلے میں نہ صرف مریضوں کے لیے محفوظ ثابت ہوئے بلکہ اس کے جسمانی دفاعی نظام پر نمایاں اثرات دیکھنے میں آئے۔اس وقت ذیابیطس ٹائپ ون کا کوئی علاج دستیاب نہیں جو کہ جسم کے اہم اعضاءجیسے دل، خون کی شریانوں، اعصاب، آنکھوں اور گردوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔اس تحقیق کے نتائج جرنل سائنس ٹرانسلیشنل میڈیسین میں شائع ہوئے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
50%
ٹھیک ہے
50%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

صحت و زندگی خبریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین تصاویر


>