تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

اب کتے کے جراثیم انسان میں منتقل نہیں ہوں گے

  27 ستمبر‬‮ 2017   |    04:54     |     صحت و زندگی

کرا چی:(نیو ز ڈیسک)میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ آوارہ کتوں کے کاٹنے سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لئے بلدیہ عظمیٰ کراچی، عالمی ادارہ صحت اور انڈس اسپتال کے تعاون سے رے بیز فری کراچی مہم شروع کی جارہی ہے ۔اس کے لئے بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے 2 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں

اس مہم کے دوران آوارہ کتوں کو ویکسین دی جائے گی اور انہیں دنیا بھر میں رائج طریقے کے مطابق اسٹریلائز اور نیوٹرالائز کیا جائے گا جس سے کتے کے کاٹنے سے جراثیم کی منتقلی کا امکان نہیں رہے گا اور آوارہ کتوں کی تعداد میں بھی خاطر خواہ کمی ہوگی جبکہ رے بیز فری مہم ابراہیم حیدری سے شروع ہوگی۔ان خیالات کا اظہار میئر کراچی نے منگل کی سہ پہر کراچی پریس کلب میں انڈس اسپتال ہیلتھ نیٹ ورک اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تحت رے بیز فری کراچی پروگرام کے آغاز پر انڈس اسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبدالباری خان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر انڈس اسپتال کے ڈپارٹمنٹ آف میڈیسن اینڈ انفیکشس ڈیزیزز کی سربراہ ڈاکٹر نسیم صلاح الدین اور دیگر ماہرین طب بھی موجود تھے۔میئر نے شہر میں کتوں کے کاٹنے کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم اس پروگرام پر عملدرآمد کے لئے تمام وسائل بروئے کارلائیں گے۔ اس پروگرام کے دوران آوارہ کتوں کو اینٹی رے بیز دوا دی جائے گی اور ان کی تعداد پر قابو پانے کی کوشش کی جائے گی۔انڈس اسپتال کے ڈپارٹمنٹ آف میڈیسن اینڈ انفیکشس ڈیزیز کی سربراہ ڈاکٹر نسیم صلاح الدین نے کہا کہ کراچی میں روزانہ سگ گزیدگی کے متعدد واقعات پیش آتے ہیں چونکہ کتے رے بیز وائرس کے حامل ہوتے ہیں لہٰذا رے بیز پر قابو پانے اور اسے ختم کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ کتوں میں اس وائرس کو کنٹرول کیا جائے۔اس پروگرام کے دوران تمام کتوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں گے پھر ان کے تولیدی عمل کو غیر موثر کردیا جائے گا۔ ایم ڈی وی اور اے بی سی پر مشترکہ طور پر عمل کرنے کے کچھ عرصے بعد ابراہیم حیدری میں کتوں کی تعداد کم ہوجائے گی اور ان میں رے بیز کا خاتمہ ہوجائے گا۔ منصوبے کی کامیابی کے بعد اس عمل کو شہر کے دوسرے حصوں میں بھی دہرایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ رے بیز وائرس سے ہونے والی ایسی بیماری ہے جس سے بچائو ممکن ہےجبکہ یہ بیماری دماغی سوزش کا باعث بنتی ہے۔ رے بیز کے باعث ہر سال دنیا بھر میں تقریباً 55,000 لوگ ہلاک ہوجاتے ہیں جن میں اکثریت بچوں کی ہوتی ہے۔کراچی نہ صرف انسانوں کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے بلکہ یہاں کتوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے، ان کتوں کا گزارہ کچرے کے ڈھیر میں موجود خوراک پر ہوتا ہے تاہم بھوکے ہونے پر یہ کتے دوسرے کتوں یا انسانوں پر بھی حملہ کردیتے ہیں۔ رے بیز متاثرہ کتوں کے لعاب میں وائرس ہوتا ہے جو کاٹنے سے متاثرہ فرد میں منتقل ہوجاتا ہے ۔انہوں نےبتایا کہ اگر کتا کاٹ لے تو زخم کو فوراً صابن اور پانی سے اچھی طرح دھونا چاہئے تاکہ کتے کا لعاب صاف ہوجائے۔ زخم چاہے ہلکا ہو یا گہرا فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔مریض کو جلد از جلد ایسے اسپتال یا کلینک جانا چاہئے جہاں رے بیز کے ٹیکے دستیاب ہوں۔ رے بیز کی روک تھام کے لئے حکومت، جانوروں کی دیکھ بھال کرنے والے اداروں اور اسپتالوں کو مل کر کام کرناچاہئے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
25%
ٹھیک ہے
25%
کوئی رائے نہیں
25%
پسند ںہیں آئی
25%
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

صحت و زندگی خبریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین تصاویر


>