تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

8اقسام کے افراد جن سے محتاط رہنا چاہیے

  7 جون‬‮ 2017   |    02:12     |     دلچسپ و عجیب

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) انسانوں سے نفرت نہیں کرنی چاہیے اور کسی کو نقصان پہنچانے کے بارے میں بھی نہیں سوچنا چاہیے۔ تاہم روز مرہ زندگی میں ہر ایک سے تعلق اور دوستی بھی قائم نہیں کی جا سکتی۔ لہذا ضروری ہوتا ہے کہ انتخاب میں احتیاط کی جائے۔ بلا شبہ ہماری کسی کو نقصان پہنچانے کی نیت نہ ہو اور ہم اس پر راضی ہوں لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ چند لوگوں کے اطوار، رویے اور طرز عمل ہمارے اوپر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ ان کی وجہ سے کوئی فوری نقصان بھی ہو سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ آپ کی شخصیت کو آہستہ یوں بدل دیں کہ محسوس بھی نہ ہو۔ جن افراد کے اثرات منفی ہوں انہیں وقت دینے یا ان پر توانائی صرف کرنے کی بھلا کی ضرورت ہے۔ وہ غیر ضروری پیچیدگیاں، تناؤ اور پریشانی پیدا کر سکتے ہیں۔ بعض افراد ہمارے اندر حوصلہ اور ہمت پیدا کرتے ہیں جب کہ بعض ہمیں کمزور کر دیتے ہیں لہذا ان کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ ان افراد کی ایک علامت یہ ہوتی ہے کہ ان سے تعلق کسی نہ کسی طرح ذہنی دباؤ کا شکار کرتا ہے۔ ذہنی دباؤ کے انسان پر دیر پا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ چند دن ہی سہی اگر ذہنی دباؤمسلسل رہے تو انسانی دماغ کا وہ ھصہ متاثر ہوتا ہے جس کا تعلق سوچنے سمجھے اور یا داشت سے ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق چند ہفتوں تک رہنے والے ذہنی دباؤ سے دماغ کی بعض خلیے ناکارہ ہو جاتے ہیں جس سے ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے۔جذباتی یا ذہنی دباؤ کی کیفیت میں انسانی کار کردگی متاثر ہوتی ہے

۔ اچھی کار کردگی کیلئے ذہنی آسودگی کا ہونا انتہائی اہم ہے۔ دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ زندگی کے حالات مذکورہ کیفیت میں وقتاً فوقتاً مبتلا کرتے رہتے ہیں۔ تاہم وہی افراد کامیابی کی راہ پر زیادہ آگے جاتے ہیں جو جذباتی یا ذہنی دباؤ کی کیفیت پر قابو پانے کی بہتر صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق شاندار کار کردگی دکھانے والے 90فیصد افراد وہ ہوتے ہیں جو دباؤ کی حالت میں خود کو پر سکون رکھنے اور اپنے آپ پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ان کی کامیابی کی وجوہ میں مضرت رساں افراد سے بچنا بھی شامل ہے۔ کم ہی افراد ایسے ہوتے ہیں جن کے بہت زیادہ دوست ہوتے ہیں۔ عام طور پر قریب رہنے والوں کی تعداد تین سے سات تک ہوتی ہے۔ ان میں اگر منفی قسم کے افراد شامل ہوں تو زندگی اجیرن بن سکتی ہے۔ 1۔گلے شکوے کرنے وال :کچھ افراد کو دوسروں کے معاملات میں ناک گھسیڑنے کی عادت ہوتی ہے۔ وہ دوسروں کی خامیوں پر نظر رکھتے ہیں اور انہیں بڑھا چڑھا بیان کرتے ہیں۔ ان پر دوسرے فرد سے گلہ رہتا ہے۔ انہیں اس میں شاید لطف آتا ہو لیکن ان کے ساتھ رہنے کے نقصانات خاصے ہوتے ہیں۔ آج نہیں تو کل وہ اپنے دوست کے بارے میں بھی منفی باتیں کر سکتے ہیں۔ ان کی باتیں دوسروں کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتی ہیں۔ نیز ان کے ساتھ رہنے سے وقت کا ضیاع ہوتا ہے ۔ ہمارے اردگرد وہ افراد موجود ہوتے ہیں جن سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ کیوں نہ اپنا وقت ان کے ساتھ بتایا جائے اور وقت کا بہتر استعمال کر لیا جائے۔ 2۔ بے حد جذباتی :کچھ الٹا سیدھا ہو جائے تو جذباتی ہونا فطری ہوتا ہے لیکن کچھ لوگوں کے جذبات عموماً بے قابو ہو جاتے ہیں۔ وہ کسی چھوٹی سے بات پر لڑنے جھگڑنے کیلئے تیار ہو سکتے ہیں دوسروں کی بھڑاس دوستوں اور ساتھیوں پر نکالنے لگتے ہیں۔ یہ افراد آپ کو ہیجان میں مبتلا کر دیتے جس سے سکون غارت ہو جاتا ہے۔ 3۔ ہر وقت ضرورت مند:کچھ لوگ بار بار اپنی لا چارگی بتاتے رہتے ہیں ۔ اس کی مدد سے وہ کسی قسم کا فائدہ اٹھانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ ابتدا میں ان کی باتوں سے یوں لگتا ہے کہ وہ بہت ضرورت مند اور قابل رحم ہیں لیکن بار بار کی ملاقات کے بعد احساس ہوتا ہے کہ ان کا رویہ اپنی جانب توجہ مبذول کرانے کے ایک طریقے یا عادت کے سوا کچھ نہیں۔ 4۔ لا تعلق:کچھ افراد کے ساتھ رہ کر احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ ساتھ ہیں۔ وہ دکھ درد اور خوشیاں نہیں بانٹتے ۔ وہ دوسروں سے بے خبر رہتے ہیں اور ان کی خبر اس وقت لیتے ہیں جب کوئی نجی ضرورت آن پڑے۔ 5۔ حاسد: کچھ افراد پر دوسروں کی کامیابی سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں اس سے تکلیف ہوتی ہے۔ انہیں دوسروں کی محنت اور کامیابی نہیں بھاتی اور وہ اس میں بھی کیڑے نکالتے رہتے ہیں۔ 6: ساز باز کرنے والے : ساز باز کرنے والے چاہے جتنے اچھے دوست بن جائیں ان سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ رہتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ جن لوگوں کے اطوار اور پسند و نا پسند سے واقف ہیں انہیں دھوکا دینا ان کے لیے زیادہ آسان ہوتا ہے۔ 7:فوری رائے قائم کرنے والے :کچھ افراد دوسروں کے بارے میں کسی ایک واقعے یا با ت کو بنیاد بنا کر فوری رائے قائم کر لیتے ہیں۔ بعض اوقات ان کی رائے محض قیاس کا نتیجہ ہوتی ہے۔ وہ اس بات کی پروا نہیں کرتے کہ ان کی رائے دوسرے پر کیا اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ یہ کسی کو با آسانی رشوت خور یا بد چلن کہہ سکتے ہیں۔ 8: مغرور: مغرور افراد دوسروں کو نیچا دکھانے کی زیادہ کوشش کرتے ہیں۔ وہ بلا وجہ کسی کام سے انکار کر سکتے ہیں۔ انہیں دوسروں پر حکم چلانے کا بھی بہت شوق ہوتا ہے۔ ان میں پایا جانے والا اعتماد جھوٹاہوتا ہے۔ ان آٹھ اقسام کے افراد سے نفرت کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ اگر ممکن ہو تو ان میں اصلاح کی کوشش بھی کی جا سکتی ہے۔ تاہم ان سے قربت اختیار کرتے وقت احتیاط ہی دانش مندی ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

دلچسپ و عجیب خبریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین تصاویر


>