تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

وہ 8باتیں جو ساس اپنی بہو کو کبھی نہیں بتاتی۔۔ جانیں اس خبر میں

  23 ‬‮نومبر‬‮ 2017   |    04:15     |     دلچسپ و عجیب

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ساس اور بہو کا رشتہ ایسا ہے جو عموماً تنائوکا شکار رہتا ہے۔ اس رشتے کے متعلق یہی بات زبان زدعام ہے کہ ساس اور بہو کے درمیان چپقلش ہونا ایک عام بات ہے۔ شادی کے بعد لڑکی اپنا گھر، ماں باپ، بہن بھائی چھوڑ کر آتی ہے تو ساس کو بھی گھر میں نئے فرد کی آمد قبول کرنے میں تھوڑا وقت لگتا ہے۔

بہو ہمیشہ تذبذب کا شکار رہتی ہے کہ نہ جانے سسرال والوں کو اس کی کون سی بات بری لگ جائے، دوسری طرف ساس بھی بہو کے ساتھ گھلنے ملنے کی بجائے شش و پنج کی کیفیت میں مبتلا رہتی ہے۔ ڈیل میں ہم کچھ ایسی باتیں پیش کررہے ہیں جو آپ کی ساس کے دل میں تو ہوتی ہیں لیکن وہ خود کبھی بھی اپنی بہو کو نہیں بتاتی۔ -1 مجھے برا لگتا ہے جب مجھے پس پردہ کیا جائے:۔ ایک عورت جس نے 20 یا 30 سال ایک گھر میں حکمرانی کی ہوتی ہے، اپنے گھر کی ساری ذمہ داریاں بخوبی نبھائی ہوتی ہیں۔ لیکن جب ایک نیا فرد گھر میں آتا ہے اور اس کی ذمہ داریاں بانٹنے کے ساتھ ساتھ گھر میں اپنی ایک اہمیت اور ساکھ بنانے لگتا ہے ایسے میں ساس یہ محسوس کرنے لگتی ہے کہ اس کی اہمیت گھر میں کم ہونے لگی ہے۔ -2 تمہارا شوہر میرا بیٹا ہے: ایک ماں کو اپنی اولاد چاہے وہ بیٹا ہو یا بیٹی کے ساتھ کتنا پیار ہوتا ہے اس کا اندازہ انسان تب ہی لگا سکتا ہے جب اس کی اپنی اولاد ہوتی ہے۔ اولاد ماں کے جسم کا حصہ ہوتی ہے اور جب گھر میں بہو آجاتی ہے تو وہ اپنے شوہر پر ماں سے زیادہ حق جتاتی ہے۔ ایسی صورت میں بہو کو چاہیے کہ وہ ساس کا نقطہ نظر سمجھنے کی کوشش کرے۔ -3 میرا مقصد تمہیں تنقید کا نشانہ بنانا نہیں ہے: کوئی بھی شعبہ ہو کامیابی کیلئے انسان کا تجربہ بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ بہوئیں جب نیا نیا گھر چلانا شروع کرتی ہیں تو ساس انہیں کوئی مشورہ دے دے یا کام کرتے ہوئے ٹوک دے تو وہ برا مان جاتی ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ ان کے کام میں غیر ضروری نکتہ چینی کی جارہی ہے۔ حالانکہ بڑی عمر کے لوگوں سے اگر مشورہ لیا جائے یا ان کی توجہ سے بات سنی جائے تو وہ خوش ہی ہوتے ہیں اور مخلوص مشورہ دیتے ہیں۔ -4 میرے بچے خوش رہیں: میں جب اس بات کا خیال رکھتی ہوں کہ میرے بچے خوش رہیں تو کیا مجھے حق نہیں ہے کہ میں بھی خوش رہوں یا میرے بچے، پوتے پوتیاں میری خوشیوں کا بھی خیال رکھیں۔ -5 میں اپنے بیٹے سے موبائل پر بات کرلیتی ہوں: جب مجھے لگتا ہے کہ مجھے اپنے بیٹے سے علیحدگی میں بات کرنی ہے تو میں اس کے موبائل فون پر اس سے بات کرلیتی ہوں۔ -6 میں اپنی بہو کی شکر گزار ہوں: اگر بہو اپنی ساس سے اچھا سلوک کرتی ہو اور اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتی ہو تو ایسا نہیں ہوتا کہ وہ اس کی تعریف نہ کرے۔ ہوسکتا ہے ساس اپنی انا کے پیش نظر بہو کے سامنے اس کی تعریف نہ کرے لیکن وہ دیگر رشتہ داروں اور اپنی دوستوں میں بیٹھ کر اس کی اچھائیاں ضرور بیان کرتی ہے۔ -7 ہاں تمہاری ماں کے ساتھ مقابلہ ضرور کرتی ہوں: تمہاری ماں کیلئے بہت آسان ہوتا ہے کہ وہ سال میں ا یک آدھ دفعہ تمہیں تحائف بھجوادے یا پھر تمہیں سیر و تفریح پر لے جائے لیکن میں بھی تو تمہارا خیال رکھتی ہوں، تمہارے بچوں کو دن بھر سنبھالتی ہوں۔ مجھے لگتا ہے ان تحائف کے ساتھ ساتھ میری محبت کو بھی تسلیم کیا جائے۔ -8 کبھی کبھار میں جان بوجھ کر ناراض ہوجاتی ہوں: مجھے یہ خوف محسوس ہوتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ گھر میں سب مجھے اہمیت دینا چھوڑدیں اسی لئے کبھی کبھار میں اپنی بہو، بیٹے یا پوتے پوتیوں سے ناراض ہوجاتی ہوں تاکہ وہ مجھے منائیں، اس سے مجھے خوشی ملتی ہے اور احساس ہوتا ہے کہ میرے بچے مجھ سے پیار کرتے ہیں۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

دلچسپ و عجیب خبریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین تصاویر


>