تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

لڑکیاں قبل از وقت بالغ کیوں ہو رہی ہیں ؟

  18 مئی‬‮ 2017   |    04:27     |     صحت و زندگی

بلوغت کسی بھی انسان کی زندگی کا اہم مرحلہ ہوتا ہے جس سے قبول بہت سی صلاحیتیں، تجربے اور مہارتیں شخصیت کا حصہ بن چکی ہوتی ہیں یا بن جانی چاہئیں۔ جسمانی طور پر ایک مرحلے سے دوسرے میں داخل ہونے والوں کے جسم پر غیر ضروری بالوں، چہرے پر دانوں پر جسم میں بو کا آنا وہ ظاہری علامتیں سمجھا جاتا ہے جو بچے یا بچی کے زندگی کے نئے اسٹیج پر داخلے سے تعبیر کی جاتی ہیں۔ طبی ماہرین کا تسلیم کرنا ہے کہ عام طور پر 9برس تک ان علامتوں کا ظہر شروع ہو جاتا ہے تاہم فی زمانہ بچیوں اور بچیوں دونوں ہی میں 6یا7سال کی عمر سے ہی ان تبدیلیوں نے جگہ پانا شروع کر دی ہے۔ قبل از وقت بلوغت کی شرح بچوں کی نسبت بچیوں میں زیادہ ہے۔ گزشہ برسوں امریکی لڑکیوں پر ایک تحقیق کی گئی جس کے بعد محققین کا کہنا تھا کہ 23فیصہ سیاہ، فام 15فیصد ہسپانوی اور 10فیصد سفید فام لڑکیاں 7برس کی عمر میں ہی بلوغت کے مرحلے تک پہنچ گئی تھیں۔

اس ابتدائی مطالعے کے 2برس بعد 2012میں نئی تحقیق کی گئی جس میں لڑکوں کو پر کھا گیا۔ اس تحقیق کے نتائج نے بتایا کہ گزشتہ دہائیوں کے معمول کے برعکس لڑکوں میں بلوغت کے آچار 6ماہ سے 2برس قبل ہی دیکھے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قبل از وقت بلوغت کے نتیجے میں ہڈیوں کی نشو و نما رکنا، قد چھوٹا رہ جانے جیسے طبی مسائل در پیش آتے ہی ہیں لیکن اس کے سماجی و نفسیاتی اثرات بہت گہرے ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ قبل از وقت بلوغت ذہنی انتشار، تناؤ، کھانے پینے کے معمول کے بدل جانے اور قبل از وقت جنسی سر گرمیوں سمیت دیگر مسائل کی وجہ بنتی ہے۔ انسانی نفسیات اور طب سے جڑے ماہرین کہتے ہیں کہ ماضی میں بلوغت اتنی جلد کبھی حاصل نہیں ہوا کرتھی تھی مگر حالیہ تحقیق بتاتی ہے کہ 1997کے مقابلے میں اس وقت کی لڑکیاں اوسطا چار ماہ پہلے ہی بالغ ہو رہی ہیں۔ اسے کم عرصے میں پیش آنے والی بڑی تبدیلی قرار دے کر ماہرین سوال کرتے ہیں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے ؟ سائنسی علوم کے ماہرین موٹاپے کو اس کی اہم وجہ مانتے ہیں۔ گزشتہ تیس برسوں میں بچوں میں موٹاپے کی شرح دو گنا جب کہ بالغوں میں چار گنا بڑھی ہے۔ مگر ماہرین اس سادہ سے وجہ ہی کو سب کچھ نیہں مانتے، تو پھر ؟ جدید انسان کی زندگی ماضی کے قابل بہت مختلف ہے۔ موجودہ زندگی کیمیکل سے بری طرح لتھڑ چکی ہے۔ پلاسٹک کی پیکنگ ہو یا فصلوں کی افزائش کیلئے کیمیکل کا استعمال ، لباس اور استعمال کی دیگر اشیا کو جاذب نظر بنانے یا لاگت کم کرنے کیلئے مختلف کیمیکلز کا استعمال بہت بھیانگ تبدیلیوں کا سبب بن رہا ہے۔ یہ تمام عناصر انسانوں تک پہنچ کر ہارمونز میں تبدیلیاں لاتے ہیں۔ جو انسانی ذہن پر موجود دباؤ کی وجہ سے پیدا ہونے والی ہارمونز کی تبدیلیوں کو دو آتشہ کر دیتے ہیں۔ مانع حمل ادویات استعمال کرنے والی خواتین اور میڈیا کے طوفان کا سامنا کرنے والی نسل کے متعلق یہ کہا جاتا رہا کہ یہ وقت سے بہت پہلے بڑے ہو رہے ہیں تاہم لڑکوں اور لڑکیوں کی قبل از وقت بلوغت اب ایک سچائی بن کر اپنے ساتھ بہت سارے نئے چینلجز بھی لائی ہے۔ جو اس سے محض اپنا فائدہ دیکھیں گے انہیں تو شاید کوئی غرض نہ ہو لیکن ہر صاحب دل یا مستقبل کو محفوظ چاہنے والے انسان کو قبل از وقت بلوغت اور اس کے ہمراہ پیدا ہوئے اندشیوں نے بہت کچھ سوچنے پر ضرور آماد ہ کر دیا ہے۔ مکمل بالغ ہونے سے قبل اور بچپن کے درمیان کی یہ عمر بلا شبہ جسمانی، ذہنی شخصی اور سماجی تبدیلیوں کا اہم ترین مرحلہ ہے مگر کیا بغیر مناسب تیاری کے کسی کو آزمائش کی بھٹی میں جھونکنا اور خود محفوظ رہنے کی خواہش سچ ہو سکتی ہے؟

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
60%
ٹھیک ہے
15%
کوئی رائے نہیں
19%
پسند ںہیں آئی
6%
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مین

loading...

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین تصاویر


>