تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

20ہزار مسلمان قتل ، 10ہزار لاپتہ ،5ہزار خواتین سے زیادتی ،روہنگیامیں مسلم نسل کشی جاری

  17 جون‬‮ 2017   |    11:52     |     تازہ ترین

لاہور (ویب ڈیسک)میا نمار کی مسلم اکثریتی ریاست اراکان میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف قوم پرست بودھ انتہا پسندوں اور حکومتی فورسز کی ملی بھگت شروع ہونے والی نسل کشی کے پانچ برنس مکمل ہوگئے۔ اس خونریز نسل کشی مہم کے نتیجے میں پہلے ڈیڑھ ماہ کے عرصہ میں 20ہزار مسلمان قتل اور 10ہزار لاپتا ہوئے تھے۔ انسانی حقوق

کی تنظیموں کے مطابق 5ہزار مسلمان خواتین جنسی درندوں کے مجرمانہ حملوں کا نشانہ بنی تھیں 2012ءکے ماہ جون کے فسادات کی بنیاد ایک خبر پر رکھی گئی ہے جس میں ایک رکھا ئنی خاتون پر چند روہنگی مسلمانوں کے مجرمانہ حملے اور اسے قتل کردینے کی اطلاع تھی۔اس واقعہ کے تین الزام میں تین افراد کو پولیس نے گرفتار کرکے سز اجیل بھیج دیا تھا۔تاہم بودھ انتہا پسندوں نے اس واقعہ کو روہنگیا مسلمانوں کی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف ملک گھیر سطح پر پہلے مظاہرے کرکے عوام کو برانگیختہ کیا اور بعدازاں مسلمانوں کے قتل عام اور جلاوطنی کا نہ ختم ہونے والا ظالمانہ سلسلہ شروع ہوا۔ حکومت نے پہلے کرفیو نافذ کیا اور 10جون کو ایمرجنسی لگادی 2012ءمیں 22جون تک 57مسلمان مارے گئے 90 ہزار افراد بے گھر ہوئے ،31بودھ بھی ہلاک ہوئے، اڑھائی ہزار سے زیادہ مکان جلائے گئے، ان میں 13سو سے زیادہ گھر مسلمانوں کے تھے۔ اس سارے دورانیے میں مسلمانوں کے خلاف جی بھر کر امتیازی سلوک کیا گیا جس پر ایمنسٹی انٹرنیشنل اور حقوق انسانی کی تمام عالمی تنظیموں نے بری حکومت کو ملوث قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف نسل کشی مہم کی حمایتی قرار دیا۔ اس اثنا میں برمی صدر تھین سین نے اقوام متحدہ کو روہنگیا مسلمانوں کو کسی اور ملک میں منتقل کرنے کی تجویز دی تاہم ان کی یہ درخواست سختی سے رد کردی گئی۔ اس وقت سے لیکر آج تک عالمی تنظیمیں برمی حکومت پر ر وہنگی مسلمانوں کو ” انسانی بحران“ سے دو چار کرنے، کیمپوں میں رکھنے او ر امدادی کارکنوں کی گرفتاریوں پر لعن طعن کررہی ہیں۔ روہنگیا مہاجرین کے امور کے نگران عالمی مرکز کے مطابق اس وقت روہنگیا تارکین وطن کی بڑی تعداد بنگلہ دیش میں ہے ۔کوکس بازار اور چٹاکانگ میں مہاجرکیمپوں میں تقریباً3لاکھ روہنگیا مہاجرینب انتہائی کسمپری اور غیرانسانی حالات میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں تھائی لینڈ ، ملائیشیا اور دیگر ہمسایہ ممالک میں جاکر ٹھو کریں کھا رہے ہیں۔ روہنگیا مسلمانوں کی مشکلات میں بنگلہ دیشی حکومت اور میڈیا کا بھی کلیدی کردار ہے۔ میانمار میں جون 2012ءکے فسادات سے چھ ماہ قبل یعنی جنوری میں ایک بنگلہ دیشی اخبار نے اطلاع دی کہ مختلف روہنگی عسکریت پسند گروہ بنگلہ دیش میں داخل ہورہے ہیں جن میں روہنگیا سولیڈ پریٹی آرگنائزیشن، اراکان موومنٹ ، اراکان پیپلز فریڈم پارٹی اور اراکان نیشنل آرگنائزیشن بڑے نا م ہیں، ان تنظیموں نے اراکان کو ” آزاد نیوروشیا“ کے نام سے الگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس اتحاد کا نام اراکان روہنگیا یونین (ARI) تجویز کیا گیا ہے۔ جون میں اراکان میں فسادات کے آغاز دنوں میں بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ دیپومونی نے بنگلہ دیش کی ” جماعت اسلام“ پر الزام عائد کیا کہ وہ عسکریت پسند روہنگی مسلمانوں کی سرپرستی کررہی ہے۔ ستمبر میں بنگلہ دیشی اخبار ڈیلی اسٹار کے مطابق اراکان میں جماعت الاراکان عسکری سرگرمیوں میں مصروف ہے، باور کیا جارہا ہے کہ وہ کالعدم بنگلہ دیشی ”جماعت المجاہدین“ کی شاخ ہے۔ اخبار نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ اراکان روہنگیا یونین بنگلہ دیش اور ارارکانی عسکریت پسندوں کا اکٹھ ہے اور ان کے تعلقات پاکستان کے چند دہشت گرد گروہوں سے بھی ہیں۔ بنگلہ دیشی سرکار کے حمایتی میڈیا کے یہ جھوٹے الزامات میانمار میں عوامی اور حکومتی سطح پر روہنگیا مسلمانوں کے خلاف نفرت میں اضافے کا سبب ہے اور بودھ انتہا پسندوں نے انہیں خبروں کو بڑھا چڑھا کر روہنگیا مسلمانوں پر حملے کئے۔حکومتی فورسز نے بھی روہنگی مسلمانوں کو غیرملکی گروہوں سے رابطوں کے الزام میں مشکوک قرار دیکر ان کے خلاف ہر قسم کے ظالمانہ ہتھکنڈے آزمانے شروع کئے ۔ یوں تو اراکان کے روہنگی مسلمان گزشتہ ایک صدی سے نسل پرستی اور تعصب کی آگ میں جل رہے ہیں۔تاہم رواںصدی کے دوران بودھ انتہاپسندوں کے ہاتھوں ہونے والا یہ دوسرا قتل عام ہے۔ جون 2012ءسے قبل 2001ءمیں بھی میانمار میں بودھ انتہا پسندوں کے ہاتھوں سینکڑوں مسلمانوں کا قتل عام ہوا۔ یہ وہ موقع تھا جب افغانستان میں بامیان کے بدھا کو مسمار کرنے کی کوشش کی جارہی تھی جس کے جواب میں 15مئی کو پیگوڈویڑن کے شہر تاانگو میں 200 سے زیادہ مسلمان قتل، گیارہ مسجدیں شہید اور 400 مکان راکھ کیے گئے تھے۔ اس موقع پر مسجد میں 20مسلمان حالت نماز میں مارے گئے تھے، اس موقع پر سرکاری اہلکاروں نے ہانتھا کی مسجد بلڈوز کردی اور تاانگوں کی مسجد پر تالے ڈال دئیے جومئی 2012ءتک پڑے رہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مین

loading...

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین تصاویر


>