تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

کنواری سالی

  12 اگست‬‮ 2017   |    10:52     |     ڈیلی آزاد سپیشل

,, اس چھوٹے سے کارخانے کا میں چھوٹا سا سیٹھ ھوں یہاں دس مشینیں ھیں. آپ دیکھ رھے ھیں کہ نو کاریگر کام کر رھے ھیں جبکہ ایک مشین بند ھے,, اس پر کاریگر نہیں ھے,,مین نے ضرورت کاریگر کا بورڈ لگا رکھا تھا جس کے نتیجے مین ایک مزدود بالآخر دھکے کھاتا ھوا آن پہنچا,,کیا نام ھے آپ کا ؟جی,,, عمراللہ عمر دراز کرے

ھوپچھلی گلی میںویل,, اپنا مکان ھے ؟اپنا بھی ھو جاے گامطلب ؟ابھی سسرال میں رھتا ھوںاوھ,,, ویری نائساس نے سمجھا میں طنز کر رھا ھوں,, جلدی سے وضاحت کرنے لگادراصل سسرال میں کوئ ھے نہیں,,, ایک بوڑھی بیمار ساس ھے اور بس ایک کنواری سالیوھ خاموش ھو گیا اور میں کچھ سوچنے لگاکچھ دیر تک میں نے سوچا,,,,,, کچھ دیر تک سوچنے کے بعد میں نے پھر سوچا اور اپنی ھی سوچ پر چونک گیا,,, میرا ذھن اپنے کارخانے کی بند مشین سے ھوتا ھوا دور کہیں نکل گیاایک عدد سالی ,,, وھ بھی کنواری,,کنوار پنے کا اپنا ایک امتیاز ھے,,, یہ گرمیوں کے دن تھے,, اور کراچی کی گرمی آجکل رحم کھانے پر آمادھ نہیں تھی مگر جانے کہاں سے ایک ٹھنڈی ھوا کا جھونکا چلا آیا جس میں رشتوں کی خوشبو تھیوھ کنواری عمر کے گھر میں کتنا چلبلاتی ھو گی کتنا شور کرتی ھوگی وھ ,,, اپنی شوخ و شنگ اداؤں سے دل موھ لیتی ھوگی ,,, شرارتوں سے اس کا انگ انگ بھرا ھو گا ,,, کبھی چاے میں خوب سارا نمک ملا کر لاتی ھو گی اور بڑی سنجیدگی سے کہتی ھو گی,, عمر بھائ آج تو آپ کے لیے اسپیشل چاے لائ ھوں ,, پی کر دیکھیں اور بتائیں کیا انعام دیں گے اور جب عمر چاے کی پہلی چسکی لگاتا ھو گا تو بھاگ کر دور کھڑی ھو جاتی ھو گی اور ھنس ھنس کر برا حال کر لیتی ھو گی ,,, عمر چپل اٹھا کر کہتا ھو گا ,, آ تجھے انعام دیتا ھوں ,, اور جب وھ مارنے کو دوڑتا ھو گا تو اس کی بیوی بیچ میں آ جاتی ھو گی ,, جانے دیجیے نا ,,, بچی ھے ,,پندرھ سال بعد رشتوں کی مہک نے مجھے بے قرار کر دیا,, سر اٹھا کر دیکھا تو عمر جا چکا تھا,, شاید میں نے ھی کہا ھو کہ وھ مشین پر جا کر کام کرے کیونکہ کھڑکی سے وھ نظر آ رھا تھا کبھی میرے آگے پیچھے بھی اس طرح کے رشتے تھے ,,, معصوم رشتے, شرارتی رشتے , آنکھ مچولی یا علی الاعلان محبت جتانے والے رشتے مگر پھر ایک دن کسی بات پر دل ٹوٹ گیا اور میں نے ھر ایک سے ملنا جلنا ترک کر دیا کام کام اور صرف کام,, بابا جی قائداعظم مجھ سے خوش تھے کہ میں نے کام کو ھی اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ھے… رات کو گھر جاتا بیوی کھانا دیتی تو اس سے بھی مشینوں کی باتیں کرتا رھتا میری بیوی سائرھ کہتی آج فلاں کے گھر چلو نا,,, وھ لوگ کتنا بلاتے ھیں,, کتنا پوچھتے ھیں ھمیں ,,جواب ملتا میں چلتی مشینوں کے ساتھ مشین بن چکا ھوں اور مشین صرف پروڈکشن دیتی ھے رشتے نہیں نبھاتی سائرھ کچھ مایوس سی ھو کر چپ کر جاتی,, اس سے زیادھ وھ کیا کرتی کارخانے میں اب مزید کسی کاریگر کی ضرورت نہیں تھی.. ضرورت کاریگر کا بورڈ ھٹا دیا گیا تاھم اس دن کے بعد کجھ دوسری ضرورتیں اپنا احساس دلانے لگیں,,, یوں کب تک میں تمام عزیزوں دوستوں رشتے داروں سے منہ موڑے بیٹھا رھوں گا یہ سوال خود سے بار بار کرتا رھا دوسرے دن عمر دیر سے کام پر آیا,, کہنے لگا آنکھ نہیں کھلی اور گھر والی نے بھی نہیں جگایا ,,,,میں نے کہا اپنا گھر دکھا دو میں خود تمھیں جگانے آ جایا کروں گا دوسرے دن صبح میں عمر کے دروازے پر تھا ,,, دستک کے جواب میں ایک عورت نے سر نکالا جی ؟ عمر کو بھیجو,,, میں نے کہا اور فورا ھی اس کے چہرے پر کوئ خوبصورتی تلاش کرنے کی کوشش کی عمر نہہں ھے ,,,, ساتھ ھی دروازھ دھڑ سے بند ھو گیا ,,, كوشش بھی ناکام گئ ,,,کہیں کوئ خوبصورتی کی جھلک نہ ملی ,,کیلشم کی کمی والا چہرھ مرجھایا مرجھایا سا تھا غربت اور رخساروں پر جھائیاں عموما اکھٹی ھی پائ جاتی ھیں وھ دروازھ جو مجھ پر اب بند ھوچکا تھا اس کے پیچھے ایک بوڑھی ساس زندگی کے دن گن رھی تھی اور ایک کنواری سالی یقینا آنے والے دنوں کے سپنے سجاے کسی کی منتظر ھو گی کیا وھ کبھی دروازے پر نہیں آتی ,,, کیا وھ بھی فاقہ مست ھے , کیا اس کی آنکھوں کی جھیلیں بھی سوکھ چکی ھوں گی کیا اس کے ھونٹ بھی اسی طرح خشک ھوں گے یہی سب سوچتے سوچتے میں کارخانے جا پہنچا عمر مشین پر کام کر رھا تھا میں نے اسے بتایا کہ تمہارے گھر سے آ رھا ھوں ,, جانے کیوں وھ خوش دکھائ دینے لگا رات کو سائرھ کے ساتھ کھانا کھاتے ھوے کئ بار میں نے اسے دزدیدھ نگاھوں سے دیکھا اس کا چہرھ شاداب تھا ,, اچھی غذا صورت پر حسن بن کر چمک رھی تھی ,,, مگر اس کی آنکھیں,,,,,,,, شاید آنکھوں میں کوئ بات تھی ,, کوئ ویرانی تھی ,, کوئ محرومی تھی ,, کوئ سوال تھا ,, شاید وھ مجھ سے کچھ کہنا چاھتی تھی مگر جھڑک دیے جانے کے خوف سے خود پر جبر کیے تھی مجھے معلوم ھے تمھیں کیا چاھیے,,, ھم کسی کے گھر نہیں جاتے نہ کوئ ھمارے گھر آتا ھے ,, کوئ تقریب کوئ شادی کوئ مایوں کوئ رت جگا کوئ منگنی کوئ دعوت نام کی چیز ھماری زندگی میں نہیں ,,, تمھیں لوگو ں سے باتیں کرنی ھوں گی ان کے ساتھ ھنسنا کھیلنا ھوگا اپنے بھت سے راز شئیر کرنے ھوں گے خوشیاں بانٹنی ھوں گی چغلی غیبت کرنی ھو گی مگر سنو اے میری نرم خو شریک حیات ,,, سارے رشتے ناطے جھوٹے ھیں سب تعلق ڈھونگ ھیں کوئ کسی کے ساتھ مخلص نہیں ,,, یاد کرو جب ھم بدحال تھے تو کیا کیا سلوک نہیں کیا تھا انہی لوگوں نے ,, کس کس طرح ھمیں بے توقیر نہیں کیا گیا تھا,, آج پیسہ ھے تو ھر کوئ ھاتھ بڑھا رھا ھے,,, ایسے لوگوں کو تم اپنا کہتی ھو ؟ ,,, یہ اپنے ھیں ؟ اپنے ایسے ھوتے ھیں ؟ رات کے آخری پہر میں بول رھا تھا اور خود ھی سن رھا تھا ,,, سائرھ سو چکی تھی,, اگر جاگ بھی رھی ھوتی تو کیا فرق پڑتا,, یہ سب باتیں میں اتنی بار بول چکا تھا کہ اسے زبانی یاد ھو گئ تھیں دوسرے دن عمر کہنے لگا ,, میری گھر والی آپ کو بلا رھی ھے یا اللہ خیر ,,, کیا اس نے میری آنکھوں میں چھپی ان کہی باتیں پڑھ لی تھیں ,, کیا وھ جان چکی تھی کہ میں اس کی کنواری بہن کو دیکھنے کی آرزو رکھتا ھوں ,, کیا اس آرزو کے عوض وھ مجھ سے کوئ فائدھ اٹھانا چاھتی تھی ؟ یہ غریب لوگ تو ایسے ھی ھوتے ھیں ,, مگر کیوں ؟ میں نے پوچھا آپ خود ھی جا کر پوچھ لیں ,,, عمر نے جواب دیا اور مشین کی طرف متوجہ ھو گیا میں نے لوگوں سے فالتو ملنا جلنا ترک کر رکھا تھا مگر اب عمر کی بیوی سے ملنے جا رھا تھا بہت معافی چاھتی ھوں کل آپ آے اور میں نے دروازھ بند کر دیا سیدھے منہ بات نہیں کی,,, مجھے پتہ نہیں تھا کہ آپ عمر کے سیٹھ ھیں یہ افلاس سے لپٹا ایک کمرا تھا جس کی دیواریں مجھے اپنے درمیان پا کر شرمندھ ھو رھی تھیں کہ ایسی کیوں ھیں معافی کی کوئ بات نہیں مجھے صبح آٹھ بجے کاریگر اپنی مشین پہ چاھیے ورنہ میں انہیں بلانے چلا آتا ھوں کچھ دیر بعد وھ چاے اور دیگر لوازمات لے آئ جنہیں دیکھ کر مجھے ھوشیار ھو جانا پڑا چاے کے ساتھ کھانے پینے کا ایسا پرتکلف سامان تھا جو اس نے خود کبھی نہ کھایا ھوگا میری زندگی میں ایسا پہلے بھی ھو چکا تھا میں جانتا تھا کہ اس کے بدلے وھ کیا چاھے گی ,, یہی کہ عمر کو اس ماھ کی تنخواھ ایڈوانس میں دے دوں ,, بہت مہربانی ھو گی وغیرھ وغیرھ نامہربانی کا خول چڑھا کر میں نے صرف چاے کا کپ اٹھایا اور کہا یہ سب لے جاؤ وھ منت خوشامد کرنے لگی,, میں نے کہا اگر زیادھ اصرار کیا تو چاے بھی نہیں پیوں گا میری سرد مہری دیکھ کر وھ مایوس دکھائ دینے لگی اسے کیا پتہ کہ کتنے کاریگر مجھ سے پیسے لے کر بھاگ چکے ھیں اب میں کسی کو ایک پائ بھی نہیں دیتا اور پھر یہاں وھ سالی بھی تو نظر نہیں آرھی تھی ,, جانے کہاں چھپا کے رکھا گیا تھا اسے ,,, پتہ نہیں وھ ھے بھی یا نہیں کیا پتہ وھ صرف ایک خیالی کردار ھو اور محض دل کے خوش رکھنے کے لیے بنایا گیا ھو بقول غالب,,, دل کے خوش رکھنے کو سالی کا خیال اچھا ھے ,,, چاے اچھی تھی مگر میں کچھ بدمزھ سا ھو کر وھاں سے اٹھا,, یہی حال عمر کی بیوی کا بھی تھا وھ بھی خائف خائف سی لگ رھی تھی مگر جیسے ھی میں دروازے سے نکلنے لگا ھم دونوں کی قسمت چمک گئ میں دروازے سے نکل رھا تھا کہ ٹھیک اسی وقت وھ اندر آ رھی تھی کہاں عمر کا دروازھ اور کہاں وھ پریوں کی رانی مگر غالب کل وھ جاتی تھی کہ ھم نکلے عمر تم بہت محنتی ھو میں چاھتا ھوں کہ اس ماھ کی تنخواھ تمھیں ایڈوانس ھی دے دوں تاکہ تم اور دل لگا کر کام کرو صاحب,, نہیں چاھیے,,, تنخواھ اپنے وقت پر ھی لوں گا لو رکھ لو ,, شاید تمھیں اس کی ضرورت ھے نہیں میں گزارا کر لوں گا عمر نے پیسے نہیں لیے ,,,, رات کو میں سوچتا رھا کہ پھر عمر کی بیوی نے کیوں بلایا تھا اور وھ چاے وغیرھ کا کیا مطلب تھا ,,, یوں بے مقصد اور بے غرض تو کوئ نہیں بلاتا کسی کو ,,, صرف عزت کے لیے صرف خلوص اور محبت بانٹنے کے لیے تو اپنے رشتے دار تک نہیں بلاتے ,, غیروں سے کیسے تو قع ھو اس کے علاوھ رھ رھ کر اس کا چہرھ بھی سامنے آ رھا تھا ,,, وھ جو اسکول سے پڑھ کے آئ تھی ,, آسمانی رنگ کی قمیص پر سفید شلوار اور ڈوپٹہ رنگت اجلی آنکھوں میں چمک ھونٹ رسیلے ,,, اس معمولی گھر کی تو لگتی ھی نہیں تھی ,,, میں دروازے سے نکل رھا تھا وھ اندر آ رھی تھی ,, مجھے دیکھ کر ٹھٹھک گئ یہ لمبا تڑنگا سا توند نکلا آدھا گنجا آدمی کون ھے ؟ اس کی آنکھوں میں سوال تھا تو اتنی جلدی کیسے آ گئ ؟ سوال عمر کی بیوی نے اٹھایا تو کیا آج جمعہ نہیں ھے ,,, الہڑ کنواری نے ھاتھ نچاے اچھا اچھا چل ھاتھ منہ دھو لے میں حیران پریشان دیکھتا رھا کہ اتنے دھلے ھوے صاف شفاف ھاتھ پیر کیا ایک بار پھر دھلیں گے ؟ میں بہانے بہانے سے عمر کے گھر جانے لگا عمر کی سالی کا نام دعا تھا ,, یہ نام مجھے پسند نہیں آیا اس پر قطعی میچ نہیں کرتا تھا ,,,نام کے اندر مکے مدینے کا تاثر تھا جبکہ اس کے اندر کوئ اور ھی بات تھی نیز اس کا رشتہ بھی ایک جگہ لگ چکا تھا بقول عمر کی بیوی میں جلد سے جلد اس کے ھاتھ پیلے کردینا چاھتی ھوں مگر ,,,,, پیسے جمع نہیں ھو پا رھے کیونکہ عمر کسی ایک جگہ ٹک کے کام نہیں کرتا کبھی یہاں تو کبھی وہاں دعا زیادھ شرارتی تو نہیں تھی مگر آنکھ مچولی کر لیتی تھی میری نگاھیں دیکھ کر کبھی وھ منہ چڑا کر چلی جاتی تو کبھی سنجیدھ سی ھو کر دیکھنے لگتی سوچتی ھو گی کاش یہی میرا. منگیتر ھوتا یا سوچتی ھو گی کہ اس تایا ابو کے ساتھ بھلا کیا جوڑ وھ حسن و عشق کے تمام لوازمات سے پیدائشی واقف تھی یا ممکن ھے وھ یہ کھیل پہلے بھی کسی کے ساتھ کھیل چکی ھو میں نے فیصلہ کر لیا کہ اگر عمر نے اس کی شادی کے لیے دبے یا کھلے الفاظ میں پیسے مانگے تو دے دوں گا ,,, عمر کے گھر میں میری اتنی آؤ بھگت ھوتی تھی تو ظاھر ھے ان کی یہی نیت ھو گی عمر کی گھر والی بھی آے دن دعا کی شادی کا تذکرھ زبان پر لے آتی تھی دعا کی طرف روز بہ روز اپنے بڑھتے قدم دیکھ کر میں اس کشمکش میں بھی تھا کہ آخر کس کے گھر جاے گا یہ سیلاب بلا میرے بعد ,,, ایسا کیوں کر رھا ھوں ,,, کیا اس کی وجہ وھ تنہائ ھے میں نے جس میں خود کو قید کر رکھا ھے کیا اپنی ذات کے گرد بنایا جانے والا بند بھی ھمیشھ پائیدار نہیں رھتا کہیں نہ کہیں سے ٹوٹتا ضرور ھے ؟ ایک دن جبکہ دعا میری دسترس میں تھی مجھے خیال آیا کہ سائرھ کا کیا ھو گا اگر کسی دن اس کا بھی دم گھٹ گیا اس کی تنہائ بھی چنگھاڑتی ھوئ بند ذات سے باھر نکل آئ تو ,,,,, اس تو کے بعد کچھ بھی سوچنے کی ھمت نہ ھوئ. میں نے دعا کو صرف ایک بار چوما اور چھوڑ دیا ,,, یہ پہلا اور آخری پیار تھا جو میں نے اسے کیا اگلے روز عمر کی بیوی سے معاملات طے کرتے ھوے میں نے اسے دو لاکھ روپے فراھم کرنے کا وعدھ کیا وھ بھی اس شرط پر کہ عمر میرے یہاں کام کرتا رھے گا اور اس کی تنخواھ سے بیس فیصد کٹوتی ھوگی حالانکہ میرا ایسا کوئ ارادھ نہیں تھا بس انکی عزت نفس کا خیال تھا کچھ دنوں بعد میں نے سائرھ سے کہا ,, جو ھوا سو ھوا,,, اب ھر کوئ ھم سے ملنا چاھتا ھے تو ضد کر کے کیوں بیٹھے رھیں,,, اور پھر یہ بات بھی ٹھیک ھی ھے کہ پہلے آپ اپنی قابلیت شو کریں پھر دنیا سے عزت کروائیں اب ھم نئے تعلقات بھی بنائیں گے اور ساتھ ھی پرانے تعلقات بھی بحال کریں گے ,,, خوش ھو جاؤ ,,, سائرھ خوش ھو گئ ,,, پوچھنے لگی ,,نئے تعلقات سے کیا مراد ھے ,, میں نے اسے بتایا کہ اس سے مراد دعا ھے جس کی کچھ دنوں میں شادی ھونے والی ھے اور ھم اس شادی میں بھرپور شرکت کر رھے ھیں (تحریر:انورجمال انور)

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مین

loading...

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین تصاویر


>