تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

مسلم لیگ کا ریاستی اداروں سے محاذ آرائی نہ کرنے کا فیصلہ

  13 ‬‮نومبر‬‮ 2017   |    12:48     |     تازہ ترین

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ایک پالیسی واضح کی ہے جس میں ریاستی اداروں جیسے فوج اور عدلیہ سے محاذ آرائی سے گریز کرنے اور اپنی ساری توجہ 2018 کے عام انتخابات کی مہم پر لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔گذشتہ روز قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کی جانب سے پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے اعزاز میں غیر رسمی عشائیہ دیا گیا، جس میں

جماعت کی آئندہ کی حکمت عملی کے ساتھ آئندہ انتخابات پر غور کیا گیا۔واضح رہے کہ یہ ملاقات لاہور میں ہونے والے حالیہ اجلاس کے سلسلے ہی کی ایک کڑی تھی۔عشائیہ میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی شرکت کی اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، ڈپٹی اسپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی، وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور گورنر پنجاب رفیق رجوانہ سے ملاقات کی۔اس موقع پر سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید نےمیڈیا کو بتایا کہ پارٹی نے کسی بھی ادارے کے ساتھ لڑائی نہ کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے، مسلم لیگ (ن) محاذ آرائی سے گریز کرنا اور اپنی توجہ 2018 کے عام انتخابات پر مرکوز کرنا چاہتی ہے۔پارٹی کی حکمت عملی واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کو کرپشن کے ریفرنسز کا سامنا ہے، تاہم سابق وزیر اعظم رواں ماہ سے رابطہ مہم کا آغاز کریں گے جس میں وہ آئندہ انتخابات کے لیے کارکنوں کو متحرک کریں گے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی جانب سے سپریم کورٹ پر تنقید عدلیہ کے ساتھ براہ راست تصادم نہیں تھا، ہر کسی کو یہ حق ہے کہ وہ پاناما یا کسی بھی کیس میں ججوں کے ریمارکس پر تبصرہ کرسکے، شریف خاندان کی تنقید پاناما پیپرز کیس میں دیئے گئے ریمارکس پر تھی ججوں کے اوپر نہیں۔انہوں نے کہا کہ حتی کہ ججوں کی جانب سے بھی فیصلے پر سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے، ان کا مزید کہنا تھا کہ ’گوڈ فادر‘ اور ’مافیا‘ جیسے تبصرے کوئی قانونی نکات نہیں بلکہ یہ ججوں کے جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔پرویز رشید کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور ان کے ساتھی کسی کے ساتھ لڑ کر اپنی توانائی ضائع نہیں کریں گے، بلکہ وہ آئندہ انتخابات میں ووٹ کے احترام کو بحال کرنے اور اقتدار میں آنے کے لیے لڑیں گے۔ان سے جب پوچھا گیا کہ اطلاعات ہیں کہ بہت سے مسلم لیگ ( ن ) کے ایم این ایز اسٹیبلشمنٹ سے رابطے میں ہیں اور وہ مناسب وقت آنے پر پرواز بھی کرسکتے ہیں؟ جس پر پرویز رشید کا کہنا تھا کہ ایم این ایز کو یاد رکھنا چاہیے کہ انہوں نے نواز شریف کے نام پر ووٹ حاصل کیے اور انہیں یہ پتہ ہونا چاہیے کہ وہ آئندہ انتخابات میں خود سے پارلیمان میں نہیں آسکتے۔وفاقی حکومت میں شہباز شریف کے ممکنہ کردار پر ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ نواز شریف ہی انتخابی مہم کی قیادت کریں گے، کیونکہ پارٹی میں وزیر اعظم کے لیے کوئی اور امیدوار نہیں ہے،اگر ہم کامیاب ہوئے تو نواز شریف ہی وزیر اعظم کے امیدوار ہوں گے۔سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے 23 جماعتی اتحاد پر تبصرہ کرتے ہوئے پرویز رشید کا کہنا تھا کہ ہم پرویز مشرف کو اس وقت سیاست دان مانیں گے جب وہ قومی ٹی وی پر اپنے گرینڈ الائنس کی تمام 23 جماعتوں کو نامزد کریں گے۔مسلم لیگی رہنما نے خیال ظاہر کیا کہ نااہلی نے نواز شریف کو عوام میں زیادہ مقبول بنا دیا ہے اور اگر کوئی مداخلت نہ ہوئی تو مسلم لیگ ( ن) آئندہ انتخابات میں ضرور کامیابی حاصل کرے گی۔شریف خاندان خاص طور پر شہباز شریف سے ممکنہ اختلافات کے حوالے سے پرویز رشید کا کہنا تھا کہ شہباز شریف، مریم نواز اور حمزہ شہباز پارٹی اجلاسوں میں اپنی رائے دیتے ہیں لیکن جب نواز شریف معاملات کا فیصلہ کرتے ہیں تو سب ان کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کی افواہوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدام سے حکومت خود کو خطرے میں کیوں ڈالے گی۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مین

loading...

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین تصاویر


>