تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

مشرف کاحافظ سعیدکے ساتھ اتحاد۔۔۔دھماکے دارخبرآگئی

  4 دسمبر‬‮ 2017   |    11:11     |     تازہ ترین

دبئی (ویب ڈیسک ) سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کو جمہوریت یا الیکشن کے بجائے قومی حکومت کی ضرورت ہے،جمہوریت اور آئین کو ریاست کیلئے قربان کیا جاسکتا ہے،2018 میں الیکشن ہوتے نہیں دیکھ رہا،آئندہ الیکشن میں حافظ سعید اور ملی مسلم لیگ کے ساتھ انتخابی اتحاد ہو سکتا ہے اتوار کو

نجی ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا کہ الیکشن پاکستان کی ضرورت نہیں صرف سلیکشن کی ضرورت ہے سابق صدر نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ پاکستان میں آئندہ الیکشن نہیں ہونے چائیں ، انہوں نے کہا کہ اگر لشکرطیبہ بھی الیکشن میں آنا چاہتی ہے تو اچھی بات ہے،جمہوریت اور آئین کو ریاست کیلئے قربان کیا جاسکتا ہے،اگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو ہی پھر سے اقتدار میں آنا ہے تو پھر یہ پاکستان پر ظلم کے مترادف ہو گا جنرل(ر) پرویز مشرف نے کہا کہ آل پاکستان مسلم لیگ کا آئندہ الیکشن میں حافظ سعید اور ملی مسلم لیگ کے ساتھ انتخابی اتحاد ہو سکتا ہے خود کو سب سے بڑا جمہوریت پسند کہتے ہوئے سابق صدر نے کہا کہ مجھے حافظ سعید اور لشکر طیبہ پر پابندی نہیں لگانی چاہیے تھی ، ہمیں پاگل کتے نے کاٹا ہے کہ ہم کہیں کہ لشکر طیبہ دہشتگرد ہے ، لشکر طیبہ نے کشمیر میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جمہوریت کی کوئی ضرورت نہیں ہے،جمہوریت اور آئین کو ریاست کے لئے قربان کیا جا سکتا ہے ۔ اگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو ہی پھر سے اقتدار میں آنا ہے تو پھر یہ پاکستان پر ظلم ہے ۔ الیکشن 2018 ہوتے نظر نہیں آرہے ، پرویز مشرف نے کہا کہ پاکستان کو سلیکٹڈ قومی حکومت کی ضرورت ہیسابق صدر نے اپنے دورحکومت میں حافظ سعید پر پابندی کو عالمی دبائو کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی دبائو کے باعث اپنے دورحکومت میں حافظ سعید اور لشکر طیبہ پر پابندی لگانی پڑی مجھے حافظ سعید اور لشکر طیبہ پر پابندی نہیں لگانی چاہیے تھی۔اب بھی ہمیں حافظ سعید کے بارے میں امریکی مطالبہ نظر انداز کرنا چاہیے پرویز مشرف نے کہا کہ ہمیں امریکہ کے سامنے یہ سوال اٹھانا چاہیے کہ کیا بھارت اقوام متحدہ کی مقبوضہ کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلم کرنے کے حوالے سے پاس کردہ قراردادپر عمل کررہا ہے۔کیا اسرائیل فلسطین کے حوالے سے قرارداد مان لیتا ہے؟ پرویز مشرف نے کہا کہ میں اقوام متحدہ کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ نجی ٹی وی انٹریو میں ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں سب سے زیادہ قربانیاں لشکر طیبہ نے دیں ۔جماعت الدعوۃ نے بہترین این جی او کام کیا ہے جمہوریت اور آئین کو ریاست کیلئے قربان کیا جاسکتا ہے پرویز مشرف نے کہا کہ میں امریکا میں چھوٹے موٹے لوگوں سے نہیں ملتابلکہ ہائی لیول میٹنگز ہوتی تھیں ، انہوں نے خود کو سب سے بڑا جمہوریت پسند قرار دیتے ہوئے پاکستان میں قومی حکومت کے قیام پر زور دیا

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مین

loading...

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین تصاویر


>