تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

نئی شاعری

 تابش دہلوی   ربط کیا جسم و جاں سے اٹھتا ہے

احمد فراز   میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا

 تابش دہلوی   بارِ حیات اٹھائیے تنہا اٹھائیے

 تابش دہلوی   موسمِ ہجر و وصال اچھا ہے

 تابش دہلوی   آسماں سر پہ ہے جہاں جاؤں

 تابش دہلوی   کبھی ایک دجلہ ہے خون کا کبھی ایک بوند لہو کی ہے

(بہادر شاہ ظفر(آخری مغلیہ بادشاہ   اے سرور دوجہان شہنشاہ ذوالکرم

(بہادر شاہ ظفر(آخری مغلیہ بادشاہ   کرتا تھا تیرے اسم مبارک کو دل پہ نقش

(بہادر شاہ ظفر(آخری مغلیہ بادشاہ   وللیل تیرے گیسوئے مشکیں کی ہے ثنا

 ابراہیم ذوقؔ   * وقت پیری شباب کی باتیں *

 ابراہیم ذوقؔ   مرکے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

 ابراہیم ذوقؔ   لائی حیات ، آئے قضا لے چلی چلے

 ابراہیم ذوقؔ   * لیتے ہی دل جو عاشقِ دل سوز کا چلے *

اکبر الہ آبادی   یاں نہ وہ نعرۃء تکبیر نہ وہ جوشِ سپاہ

اکبر الہ آبادی   تو اگر عہد وفا باندھ کے میری ہو جائے

اکبر الہ آبادی   ہائے وہ حسن وہ شوخی وہ نزاکت وہ ابھار

اعتبار ساجد   یہ موسم کا غذی پھولوں سے ٹالا جا رہا ہے

اعتبار ساجد   بھری محفل میں تنہائی کا عالم

اعتبار ساجد   نہ گمان موت کا ہے ،نہ خیال زندگی کا

اعتبار ساجد   جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

احسان دانش   ناموسِ زندگی بھی بڑی شے ہے دوستو

احسان دانش   ہستی کا ہر نفَس ہے نیا دیکھ کر چلو

احسان دانش   نظر فریب قضا کھا گئي تو کيا ہوگا

 ایوب خاور   ضبط کرنا نہ کبھی ضبط میں وحشت کرنا

 ایوب خاور   سات سروں کا بہتا دریا تیرے نام

 حبیب جالب   شہرِ ظلمات کو ثبات نہیں

 حبیب جالب   کسی سے حال دلِ زار مت کہو سائیں

 حبیب جالب   دینا پڑے کچھ ہی ہرجانہ سچ ہی لکھتے جانا

 حبیب جالب   رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے

 حبیب جالب   اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا

 حبیب جالب   نہ گفتگو سے نہ وہ شاعری سے جاۓ گا

 حبیب جالب   یہ ضابطہ ہے، کہ باطل کو مت کہوں باطل

 حبیب جالب   ہر ایک دشمن جاں کو، کہوں میں ہمدم و یار

 حبیب جالب   نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں

 حبیب جالب   فرنگی کا جو میں دربان ہوتا

 حبیب جالب   اس دیس کا رنگ انوکھا تھا اس دیس کی بات نرالی تھی

  جس سے دنیا نے آشنائی کی

مولانا الطاف حسین حالی   کیا کہوں حالِ دردِ پنہانی

مولانا الطاف حسین حالی   دل کو باتیں جب اس کی یاد آئیں

مولانا الطاف حسین حالی   بلبلِ ہند مر گیا ہیہات

امجد اسلام امجد   حسابِ عمر کا اتنا سا گوشوارا ہے

امجد اسلام امجد   آئینوں میں عکس نہ ہوں تو حیرت رہتی ہے

پیرسید نصیر الدین نصیر   کوئی جائے طور پہ کس لئے کہاں اب وہ خوش نظری رہی

  حفیظ تائب   رہی عمر بھر جو انیسِ جاں، وہ بس آرزوئے نبیؐ رہی

احمد ندیم قاسمی   چراغِ مردہ کو اک بار اور اُکساؤں

امجد اسلام امجد   خدا یہ وقت تری آنکھ کو نہ دِکھلائے

عدیم ہاشمی   کٹ ہی گئی جدائی بھی کب یہ ہوا کہ مر گئے

عدیم ہاشمی   فاصلے ایسے بھی ہونگے یہ کبھی سوچا نہ تھا

احمد فراز   برسوں کے بعد دیکھا اک شخص دلربا سا

امجد اسلام امجد   بستیوں میں اک صدائے بے صدا رہ جائے گی

امجد اسلام امجد   جو کچھ دیکھا جو سوچا ہے وہی تحریر کر جائیں!

امجد اسلام امجد   آئینوں میں عکس نہ ہوں تو حیرت رہتی ہے

امجد اسلام امجد   اب تک نہ کھل سکا کہ مرے روبرو ہے کون!

احمد فراز   وہ قحطِ عشق کہ دشوار ہو گیا جینا

امیر مینائی   آئینہ ایک طرف‘عکس بھی حیراں ہو گا

امیر مینائی   ذرا سی بات پر ہوتا ہے فیصلہ دل کا

امیر مینائی   سب تڑپنے بلبلانے کا مزہ جاتا رہا

امیر مینائی   جس بزم میں وہ رخ سے اٹھا دیتےہیں پردہ

امیر مینائی   مٹ گئے ہم، تو مِلا ہم کو ٹھکانا تیرا

امیر مینائی   کچھ اور بلا ہوتی ہے وہ دل نہیں ہوتا

امیر مینائی   یہ نہ تھا تو کاش دل پر مجھے اختیار ہوتا

امیر مینائی   تیور نہیں آتے ہیں کہ چکر نہیں آتا

امیر مینائی   باغباں! کلیاں ہوں ہلکے رنگ کی

امیر مینائی   جب سے بلبل تُو نے دو تنکے لیے

امیر مینائی   شمشیر ہے سناں ہے کسے دوں کسے نہ دوں

افتخار عارف   قلم جب درہم و دینار میں تولے گئے تھے

افتخار عارف   سمجھ رہے ہیں اور بولنے کا یارا نہیں

افتخار عارف   اک روز کوئی تو سوچے گا

افتخار عارف   گلی کوچوں میں ہنگامہ بپا کرنا پڑے گا

 شکیب جلالی   خزاں کےچاند نے پوچھا یہ جھک کےکھڑکی میں

 شکیب جلالی   سوچتا ہوں کہ وہ کتنے معصوم تھے وہ ہوا ہوگئے۔۔۔ دیکھتے دیکھتے

 شکیب جلالی   جہاں تلک یہ صحرا دکھائی دیتا ہے

 شکیب جلالی   پھر سن رہا تھا گزرے زمانے کی چاپ کو

 شکیب جلالی   خاموشی بول اٹھے، ہر نظر پیغام ہو جائے

 شکیب جلالی   عشق پیشہ نہ رہے داد کے حقدار یہاں

 شکیب جلالی   کیا کہیے کہ اب اُس کی صدا تک نہیں آتی

 شکیب جلالی   اُتریں عجیب روشنیاں، رات خواب میں

 شکیب جلالی   وہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہت

 شکیب جلالی   آگ کے درمیان سے نکلا

 شکیب جلالی   رعنائی نگاہ کو قالب میں ڈھالیے

 شکیب جلالی   اُتر گیا تن نازک سے پتیوں کا لباس

محسن نقوی�   شامل میرا دشمن صف یاراں میں رہے گا

محسن نقوی�   میں دل پہ جبر کروں گا، تجھے بھلا دوں گا

پیرسید نصیر الدین نصیر    لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں

محسن نقوی�   بچھڑ کے مجھ سے کبھی تو نے یہ بھی سوچا ہے

محسن نقوی�   آندھی چلی تو دھوپ کی سانسیں الٹ گئیں

محسن نقوی�   چاہت کا رنگ تھا نہ وفا کی لکیر تھی

محسن نقوی�   چہرے پڑھتا، آنکھیں لکھتا رہتا ہوں

افتخار عارف   ہم اہلِ جبر کے نام و نسب سے واقف ہیں

افتخار عارف   کھوئے ہوئے اک موسم کی یاد میں

افتخار عارف   جہاں بھی رہنا یہی اک خیال رکھنا

افتخار عارف   رات کے دوسرے کنارے پر

پروین شاکر   یہ کیسا اذنِ تکلّم ہے جس کی تاب نہ ہو

پروین شاکر   دُعا وہ مانگ رہی تھی جو مستجاب نہ ہو

خواجہ میر درد   جگ میں کوئی نہ ٹک ہنسا ہو گا

خواجہ میر درد   سب کے ہاں تم ہوئے کرم فرما

خواجہ میر درد   مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کی رقم کا

خواجہ میر درد   ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک! جستجو کریں

خواجہ میر درد   دیکھئے جس کو یاں، اُسے اور ہی کچھ دماغ ہے

خواجہ میر درد   ہے غلط گر گُمان میں کچھ ہے

خواجہ میر درد   روندے ہے نقش پا کي طرح خلق ياں مجھے

خواجہ میر درد   تہمت چند اپنے ذمے دھر چلے

علامہ اقبال   کبھی اے نوجواں مسلم! تدبر بھی کیا تو نے

علامہ اقبال   مجنوں نے شہر چھوڑا تو سحرا بھی چھوڑ دے

  

علامہ اقبال    حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ

علامہ اقبال   گلہ ضرب کلیم

علامہ اقبال   اے باد صبا کملی والے جاکہیو میرا پیغام

علامہ اقبال   یا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے

احمد فراز   تیرے قریب آ کے بڑی الجھنوں میں ہوں​

احمد فراز   ہم سُنائیں تو کہانی اور ہے

احمد فراز   دکھ فسانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں

احمد فراز   اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں

نوشی گیلانی   نام لے لے کر نہ میرا شہر کی نظروں میں آ

نوشی گیلانی   مرے خلاف ہوا ہے تو اس کا ڈر بھی نہیں

نوشی گیلانی   محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا

نوشی گیلانی   نہ کوئی خواب نہ سہیلی تھی

نوشی گیلانی   رکتا بھی نہیں ٹھیک سے چلتا بھی نہیں ہے

نوشی گیلانی   تری خوشبو نہیں ملتی، ترا لہجہ نہیں ملتا

نوشی گیلانی   سب اپنی ذات کے اظہار کا تماشا ہے

نوشی گیلانی   تم نے یہ کہہ دیا کہ محبت نہیں ملی

نوشی گیلانی   وہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئے

نوشی گیلانی   وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہے

نوشی گیلانی   وہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہے

اسداللہ خان غالب   دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے

اسداللہ خان غالب   ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

اسداللہ خان غالب   ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے

اسداللہ خان غالب   اشعار کا دفتر کھلا

اسداللہ خان غالب   محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا

اسداللہ خان غالب   ایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب

اسداللہ خان غالب   شب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا

اسداللہ خان غالب   شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا

ادا جعفری   ہرشخص پریشان سا حیراں سا لگے ہے

ناصر کاظمی   کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے

بشیر بدر   یونہی بے سبب نہ پھرا کرو

قتیلؔ شفائی   نہ جانے کن اداؤں سے لبھا لیا گیا مجھے

محسن نقوی�   مقروض کہ بگڑے ہوئے حالات کی مانند

احمد فراز   تپتے صحراؤں پہ گرجا سرِ دریا برسا

واصف علی واصف رحمہ اللہ علیہ   میں نعرہ مستانہ میں شوخی رندانہ

قتیلؔ شفائی   تمہاری انجمن سے اُٹھ کے دیوانے کہاں جاتے

قتیلؔ شفائی   جب تصور مرا چُپکے سے تجھے چھُو آئے

قتیلؔ شفائی   قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے

قتیلؔ شفائی   ہم اپنی شام کو جب نذرِجام کرتے ہیں

قتیلؔ شفائی   ڈھل گیا چاند، گئی رات، چلو سو جائیں

ساغر صدیقی   ایک وعدہ ہے کسی کا جو وفا ہوتا نہیں

افتخار عارف   وحشت کا اثر خواب کی تعبیر میں ہوتا

افتخار عارف   مرے خدا مرے لفظ وبیاں میں ظاہر ہو

ساغر صدیقی   اے دلِ بے قرار چپ ہو جا

ساغر صدیقی   پھول چاہے تھے مگر ہاتھ میں آئے پتھر

ساغر صدیقی   آنکھ روشن ہے جیب خالی ہے

ساغر صدیقی   آج روٹھے ہوئے ساجن کو بہت یاد کیا

ابن انشا   یہ جھوٹی باتیں ہیں

ابن انشا   یہ جھوٹی باتیں ہیں

ابن انشا   جھلسی سی اک بستی میں

ابن انشا   انشا جی اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر میں جی کا لگانا کیا

ابن انشا   اک بار کہو تم میری ہو

ابن انشا   دیکھ ہمارے ماتھے پر یہ دشتِ طلب کی دھول میاں

ابن انشا   کل چودہویں کی رات تھی، شب بھر رہا چرچا ترا

ابن انشا   ہم لوگوں نے عشق ایجاد کیا

ابن انشا   اے دل والو گھر سے نکلو

محسن نقوی�   کوئی نئی چوٹ پِھر سے کھاؤ! اداس لوگو

قتیلؔ شفائی   سورج مرے دل میں جل رہا ہے​

قتیلؔ شفائی   کُھلا ہے جُھوٹ کا بازار، آؤ سچ بولیں

پروین شاکر   سارے وعدوں کو بھلا سکتی ہوں مگر رہنے دو

واصف علی واصف رحمہ اللہ علیہ   میں نعرۂ مستانہ، میں شوخئ رِندانہ

احمد فراز   کب تک درد کے تحفے بانٹو!نذر جالب

احمد فراز   انکار نہ اقرار بڑی دیر سے چپ ہیں

احمد فراز   سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے

احمد فراز   سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں

پروین شاکر   اپنی تنہائی مرے نام پہ آباد کرے

پروین شاکر   عکس خوشبو ہوں، بکھرنے سے نہ روکے کوئی

پروین شاکر   قریئہ جاں میں کوئی پھول کھلانے آئے

پروین شاکر   تجھ سے تو کوئی گلہ نہیں ہے

پروین شاکر   شام آئی، تری یادوں کے ستارے نکلے

پروین شاکر   موجیں بہم ہوئیں تو کنارہ نہیں رہا

پروین شاکر   رستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھی

پروین شاکر   سبز مدھم روشنی میں سُرخ آنچل کی دھنک

پروین شاکر   وہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئی

ساحر لدھیانوی   تنگ آ چکے ہیں زندگی کی کشمکش سے ہم

ساحر لدھیانوی   محبت ترک کی میں نے گریبان سی لیا میں نے

ساحر لدھیانوی   تم چلی جائو گی، پرچھائیاں رہ جائیں گی

ساحر لدھیانوی   کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے

ساحر لدھیانوی   میں پل دوپل کا شاعر ہوں

دلاور فگار   شاعر اور شعر

دلاور فگار   کیا کوئی اونچی سفارش لائے ہو

دلاور فگار   ریڈیو انٹرویو

دلاور فگار   دلاور فگار صاحب کی ایک انوکھی نظم

جوش ملیح آبادی   بے تعلق ہوں دین و دنیا سے

جوش ملیح آبادی   جنگل کی شاہزادی

جوش ملیح آبادی   جنگل کی شاہزادی

جوش ملیح آبادی   لہراتا ہے ایک حسن کا دریا میرے آگے

جوش ملیح آبادی   ساری دنیا ہے ایک پردۂ راز

جوش ملیح آبادی   سرشار ہوں، سرشار ہے دنیا مرے آگے

جوش ملیح آبادی   لہروں کے تھپیڑوں میں تھا دریا کا کنارا

جوش ملیح آبادی   وہ یارِ پری چہرہ کہ کل شب کو سِدھارا

جوش ملیح آبادی   فکر ہی ٹھہری تو دل کو فکرِ خُوباں کیوں نہ ہو

جوش ملیح آبادی    دنیا کو حیراں کر کے چھوڑوں گا​

جوش ملیح آبادی    دنیا کو حیراں کر کے چھوڑوں گا​

عبد الحمید عدم   دل نے دیکھی ہے تِری زُلف کے سر ہونے تک

عبد الحمید عدم   آدمی بے نظیر ہوتے ہیں​

جان نثار اختر   یہ زندگی تو کوئی بددعا لگے ہے مجھے

جان نثار اختر   اُن کی نظروں میں مجسّم دل ہوا جاتا ہوں

عدیم ہاشمی   گُم اپنی محبت میں دونوں، نایاب ہو تم نایاب ہیں ہم​

عدیم ہاشمی   اتنا قریب ہو گیا ، اتنے رقیب ہو گئے

حیدرعلی آتش   گُستاخ بہت شمْع سے پروانہ ہُوا ہے

حیدرعلی آتش   گُستاخ بہت شمْع سے پروانہ ہُوا ہے

حیدرعلی آتش   تا صبح نیند آئی نہ دم بھر تمام رات

  حفیظ تائب   خوشبو ہے دو عالم میں تری اے گل چیدہ​

  حفیظ تائب   دے تبسم کی خیرات ماحول کو ہم کو درکار ہے روشنی یا نبیؐ

امجد اسلام امجد   قاصد جو تھا بہار کا، نامعتبر ہُوا

امجد اسلام امجد   ہم لوگ نہ تھے ایسے

جگر مراد آبادی   اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے

جگر مراد آبادی   نہ راہزن، نہ کسی رہنما نے لوٹ لیا

ساحر لدھیانوی   یہ محلوں ، یہ تختوں ، یہ تاجوں کی دنیا

ساحر لدھیانوی   جانے وہ کیسے لوگ تھے

ساحر لدھیانوی   چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں

جون ایلیا   سوگئے پیڑ جاگ اٹھی خوشبو

جون ایلیا   مستئی حال کبھی تھی کہ نہ تھی ، بھول گئے

جون ایلیا   ہم بصد ناز دل و جاں میں بسائے بھی گئے

آفتاب اقبال شمیم    اس طرح یاد آنے سے کیا فائدہ

آفتاب اقبال شمیم   اک چادرِ بوسیدہ میں دوش پہ رکھتا ہوں

سید ضمیر جعفری   ۭالٹ ڈالا، عوام الناس نے فرعون کا تختہ

مظفر وارثی    اویسیوں میں بیٹھ جا ، بلالیوں میں بیٹھ جا

سید ضمیر جعفری   وہ چلتی ہے تو دو طرفہ ندامت ساتھ چلتی ہے

آغا شورش کاشمیری   فضا میں رنگ ستاروں میں روشنی نہ رہے

آغا شورش کاشمیری   بے گناہوں کا لہو عام تھا بازاروں میں

بشیر بدر   سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گا

بشیر بدر   تھا میر جن کو شعر کا آزار مر گئے

اسداللہ خان غالب   دلِ ناداں تجھے ہُوا کیا ہے

احمد فراز   شعلہ تھا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دو

احمد فراز   نہ جانے ظرف زیادہ تھا یا انا زیادہ تھی

 حبیب جالب   بندے کو خدا کیا لکھنا

ساغر صدیقی   بھنور آنے کو ہے اے اہلِ کشتی ناخدا چُن لیں

انور مسعود   مری آبائی تلواروں کے دستے بیچ ڈالے ہیں

امیر خسرو   چھاپ تلک سب چھین لی رے موسے نیناں

امیر خسرو   ابر می بارد و من می شوم از یار جدا

امیر خسرو   زحالِ مسکیں مکن تغافل دُرائے نیناں بنائے بتیاں

مظفر وارثی   تو امیرِ حرم، میں فقیرِعجم

محسن نقوی�   شکل اس کی تھی دلبروں جيسی

افتخار عارف   صبح کی بنیاد رکھنی ہے تو پہلے خواب دیکھ

افتخار عارف   عذابِ وحشتِ جاں کا صلہ نہ مانگے کوئی

امیر مینائی   موت کی راہ نہیں دیکھتے مرنے والے

امیر مینائی   تُو سراپا ناز ہے‘ ميں ناز برداروں ميں ہوں

پیرسید نصیر الدین نصیر   دین سے دور ، نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں

پیرسید نصیر الدین نصیر   میری زندگی تو فراق ہے

پیرسید نصیر الدین نصیر   مِری زیست پُر مسرت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی

پنڈت ہری چند اختر   آباد اگر نجد کا ویرانہ نہیں ہے

پنڈت ہری چند اختر   دُنیا ہَمہ تن گوش ہے، آہستہ سے بولو

گلزار حسین شاہ   اچھا نہیں کہ اوج سے پندار گر پڑے

گلزار حسین شاہ   پھر بہا لے گیا رعنائی کا سیلاب ہمیں

گلزار   تیری آواز

گلزار   دِل ڈھونڈتا ہے

گلناز کوثر   شام اترتی رہی

گلناز کوثر   کرچی کرچی یاد

وصی شاہ   تم میری پہلی محبت تو نہیں ہو لیکن

وصی شاہ   تیری یادوں کا سورج نکلتا رہا، چاند جلتا رہا

ن م راشد   جانتا ہوں مادر فطرت ! کہ میں آوارہ ہوں

ن م راشد   رقص

وسیم بریلوی   میں اِس اُمید پہ ڈوبا کہ تو بچا لے گا

وارث شاہ   داھڑی شیخ دی عمل شیطان والے

وارث شاہ   ہیر دیاں سہیلیاں

چراغ حسن حسرت   یا رب غم ہجراں میں اتنا تو کیا ہوتا

چراغ حسن حسرت   اس طرح کرگیا دل کو مرے ویراں کوئی

بہزاد لکھنوی   اک حُسن کی خِلقت سے ہر دل ہوا دیوانہ

بہزاد لکھنوی   اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آجائے

بابا بلھے شاہ   بُلّھا! کِیہ جاناں میں کون؟

بابا بلھے شاہ   ۔ اِک نقطے وِچ گل مُکدی اے

اسداللہ خان غالب   کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا

اسداللہ خان غالب   دل سے تیری نگاہ جگر تک اتر گئی

علامہ اقبال   ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی

علامہ اقبال   لَوح بھی تُو , قلم بھی تُو ، تیرا وجود الکتاب

محسن نقوی�   قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کےبیچ

محسن نقوی�   ہجوم شہر سے ہٹ کر، حدود شہر کے بعد

محمد رفیع سودا   ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کا

محمد رفیع سودا   مقدور نہیں اس کی تجلّی کے بیاں کا

مجید امجد   اے قوم

مجید امجد   اس پتھر پر، اک اک پل کی گھائل آنچ بھی گھاؤ

مومن خان مومن   و ہ بہت پوچھتے ہیں کہ کیا عشق ہے

مومن خان مومن   ميں نے تم کو دل ديا‘ تم نے مجھے رسوا کيا

مولانا الطاف حسین حالی   اس کے جاتے ہی یہ کیا ہوگئی گھر کی حالت

مولانا الطاف حسین حالی   ذکرِ رسولِ پاک سے پر نور ہے فضا

منیرنیازی   ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں، ہر کام کرنے میں

منیرنیازی   اشکِ رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو​

فیض احمد فیض   رقص مے تیز کرو ۔۔۔ساز کی لے تیز کرو

قمر جلالوی    ابرُو تو دِکھا دیجیے شمشِیر سے پہلے

قمر جلالوی   میں تماشہ تو دکھادوں سِتم آرائی کا

فرحت عباس شاہ   تمہارا پیار مرے چارسو ابھی تک ہے

فرحت عباس شاہ   لاکھ دوری ہو مگر عہد نبھاتے رہنا

فیض احمد فیض   زہر پیتے رہے، گیت گاتے رہے

 حفیظ جالندھری   او دِل توڑ کے جانیوالے! دِل کی بات بتاتا جا

 حفیظ جالندھری   جہاں قطرے کو ترسایا گیا ہوں

احمد ندیم قاسمی   جب تیرا حکم ملا ، ترک محبت کر دی

احمد ندیم قاسمی   کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا 

 شکیب جلالی   کنار آب کھڑا خود سے کہہ دیاہے کوئی

نوشی گیلانی   کُچھ بھی کر گزرنے میں دیر کِتنی لگتی ہے

ساغر صدیقی   تمہاری بستی میں ہم فقیروں کاحال کیوں سوگواروں سا ہے

ساغر صدیقی   دستور یہاں بھی گونگےہیں فرمان یہاں بھی اندھےہیں

ساغر صدیقی   میں تلخئی حیات سے گھبرا کے پی گیا

 حبیب جالب   ميں نہيں مانتا ميں نہيں جانتا

 حبیب جالب   ہم نے سنا تھا صحن چمن میں کیف کے بادل چھائے ہیں

انور مسعود   اگلے دن کچھ ايسے ہونگے

انور مسعود   رات آئی ہے بلاؤں سے رہائی دے گی

داغ دہلوی   اس قدر ناز ہے کیوں آپ کو یکتائی کا

داغ دہلوی   واعظ بڑا مزا ہو یوں اگر عذاب ہو

وسیم بریلوی   وہ میرے گھر نہیں آتا میں اس کے گھر نہیں جاتا

وسیم بریلوی   محبت ناسمجھ ہوتی ہے سمجھانا ضروری ہے

پیرسید نصیر الدین نصیر   ایک میں ہی نہیں  اس پرقربان سارا زمانہ ہے

پیرسید نصیر الدین نصیر   پیمان وفا اور ہے ، سامان جفا اور

جاوید اختر    کوئی فریاد تیرے دل میں دبی ہوجیسے

جاوید اختر   راتیں مہکی ،سانسیں دہکی ، نظریں بہکی ، رُت لہکی

 شکیب جلالی   اتنی جلدی نہ یہ فیصلہ کیجیے

مظفر وارثی   شعبدہ گر بھی پہنتے ہیں خطیبوں کا لباس

ناصر کاظمی   کِسی کا درد ہو دِل بے قرار اپنا ہے

ابن انشا   یہی عشق بالآخر روگ بنا، کہ ہے چاہ کے ساتھ بجوگ بنا

ابن انشا   چاند کو اُترے دیکھا ہم نے، چاند بھی کیسا؟ پورا چاند

ساغر صدیقی   تمہاری بستی میں ہم فقیروں کا حال کیوں سوگوار سا ہے

فیض احمد فیض   رقصِ مے تیز کرو، ساز کی لے تیز کرو

 آغا حشر کاشمیری   چوری کہیں کھلے نہ نسیمِ بہار کی

 آغا حشر کاشمیری   آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کیلئے

فیض احمد فیض    چلو پھر سے مسکرائیں

فیض احمد فیض   خدا وہ وقت نہ لائے کہ سوگوار ہو تو

ناصر کاظمی   غم ہے یا خوشی ہے تو

ناصر کاظمی   گزری ہے مجھ پہ یہ بھی قیامت کبھی کبھی

پروین شاکر   آج ملبوس میں ہے کیسی تھکن کی خوشبو

پروین شاکر    کیا کیا دل نے دکھ نہ پائے

ماہر القادری   مجاز ہی کو حقیقت بنائے جاتے ہیں

ماہر القادری   میری امیدوں کی دنیا مل گئی

ناصر کاظمی   کسی کلی نے بھی دیکھا نہ آنکھ بھر

ادا جعفری   ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے

نوشی گیلانی   محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا

ظہیر احمد مغل    کبھی خوابوں میں ہوں وہ روبرو تو شعر ہوتا ہے

احمد فراز   قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگے

پروین شاکر   تجھ کو میں دیکھوں کہ یہ آگ کا دریا دیکھوں

           
>