تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

شہباز شریف کا ایسا شاندار اعلان کہ شہریوں کے دل جیت لیئے

شہباز شریف کا ایسا شاندار اعلان کہ شہریوں کے دل جیت لیئے

  12 جنوری‬‮ 2017   |    09:15     |     پاکستان

لاہور(ڈیلی آزاد نیوز ڈیسک ) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ صوبے کی ساڑھے پانچ کروڑ دیہی آبادی کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی ایک بڑا چیلنج ہے اورہمیں اس چیلنج سے بطریق احسن عہدہ برآ ہونا ہے ۔شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے اور اپنے شہریوں کو بنیادی حقوق دینے میں ہی کسی ریاست کی بقاء مضمر ہے ۔ پنجاب حکومت صوبے کے 10کروڑ عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہے اوراس مقصد کیلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔صوبے کے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے خادم پنجاب صاف پانی پروگرام مرتب کیا گیا ہے اوراس کاآغاز جنوبی پنجاب کی ڈویژن بہاولپور سے کیاگیا ہے ۔مرحلہ وار پروگرام کے تحت

وسطی اورشمالی پنجاب تک اس پروگرام کا دائرہ کار بڑھایا جائے گااور صوبے کے ہر گھرتک پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔2013ء کے انتخابات میں عوام نے اپنے ووٹ کی طاقت سے پاکستان مسلم لیگ(ن) کواقتداردیااوروزیراعظم نوازشریف کی قیادت میںمسلم لیگ(ن) کی حکومت نے عوام کی خدمت کے سفر کا آغاز کیااورگزشتہ ساڑھے تین برس کے دوران توانائی بحران اوردہشت گردی کے خاتمے اورعوام کو ریلیف کی فراہمی کیلئے نتیجہ خیز اقدامات کیے گئے ہیں اوران پروگراموں میں شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے بھی شامل تھے ۔وزیراعظم کی قیادت میں عوامی خدمت کے ایجنڈے کو کامیابی سے آگے بڑھایا جارہا ہے ۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ان خیالات کا اظہار آج مقامی ہوٹل میں پنجاب صاف پانی کمپنی کے زیر اہتمام صوبے کی دیہی آباد ی کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے موضوع پر منعقدہ دو روزہ مشاورتی سیمینار کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔سیمینار میںچین،ترکی،فرانس،یورپ اورمشرق وسطی سے واٹر سیکٹر سے تعلق رکھنے والے مندوبین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔صوبائی وزراء ،اراکین اسمبلی،چیف سیکرٹری،متعلقہ اعلی حکام اورواٹر سیکٹر سے تعلق رکھنے والی بین الاقوامی کمپنیوں کے سربراہان بھی اس موقع پر موجود تھے ۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے اپنے کلیدی خطاب میںکہا کہ سیمینار میں غیرملکی مندوبین کی شرکت پرانہیں خوش آمدید کہتے ہیںاوران کی سودمند تجاویز اور آرا ء کی روشنی میں پنجاب صاف پانی پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھانے کیلئے لائحہ عمل طے کیا جائے گاکیونکہ سیمینار کے انعقاد کا مقصدصاف پانی پروگرام کو آگے بڑھانے کیلئے بین الاقوامی ماہرین کیساتھ مشاورت کے بعد پروگرام کا ازسرنو جائزہ لے کراسے جدید خطوط پر استوار کرنا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ تین سال قبل پنجاب حکومت نے صوبے کے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے ایک جامع اوربڑا پروگرام مرتب کیا ۔بدقسمتی سے2017ء کے آغاز پر بھی متعلقہ اداروںنے مفادعامہ کے اس بڑے پروگرام کو نااہلی،اقرباء پروری،عزم کی کمی اوراسے غیر پیشہ ورانہ انداز سے آگے بڑھانے کی کوشش کی جس کے باعث اس پروگرام میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوسکی۔صرف جنوبی پنجاب کے ضلع بہاولپور میں 80واٹر فلٹریشن پلانٹس لگائے گئے ہیں جو کہ بہت کم ہیں۔اس پروگرام کے تحت پہلے مرحلے میں جنوبی پنجاب کی آبادی کو پینے کے صاف پانی فراہم کیا جائے گا جبکہ بتدریج اس کا دائرہ کار پنجاب کے دیگراضلاع تک بڑھایا جائے گا۔شروع میں نیسپاک کو کنسلٹنٹ رکھا گیا لیکن نیسپاک نے بہت غلطیاں کیںجس پر اسے ہٹایا گیا اس کے بعد ای سی ایس پی کوکنسٹلٹنٹ بنایاگیا اوراب انٹرنیشنل کنسلٹنٹ لئے گئے ہیں۔بدقسمتی سے پنجاب صاف پانی کمپنی کے دو چیف ایگزیکٹو آفیسر تبدیل ہوئے جن میں سے ایک چیف ایگزیکٹو آفیسر کو عہدے سے ہٹایاگیا ہے ۔اس پروگرام پر عملدر آمد کے حوالے سے سنگین نوعیت کی خامیاں سامنے آئی ہیں جس پر تمام عمل کوختم کردیاگیا ہے اوراب ازسرنوشفاف طریقے سے کمپنیوں کا انتخاب کیا جائے گا۔پروگرام کو آگے بڑھانے کیلئے میں ،چیف سیکرٹری،چیئرمین منصوبہ بندی وتربیات اورمتعلقہ سیکرٹریزدن رات محنت کرتے رہیں تاکہ اس صوبے کے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے اور اس حوالے سے پنجاب حکومت نے اربوں روپے اپنے خزانے سے مختص کیے کیونکہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی سے ان بیماریوں سے بھی شہریوں کو محفوظ رکھا جاسکتا ہے جو آلودہ پانی کے باعث جنم لیتی ہیں۔یہ پروگرام کثیرالجہت نوعیت کا ہے جس کا بے پناہ فائدہ ہوگااورمیں سمجھتا ہوں کہ صحت مند معاشرے کی تشکیل کیلئے یہ پروگرام انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔صوبے کی دس کروڑ آبادی کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے ہم سب کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہے۔پنجاب حکومت نے اس پروگرام کیلئے رواں مالی سال کے بجٹ میں 30ارب روپے کی خطیر رقم مختص کررکھی ہے لیکن افسوس کہ کنسلٹنٹ رکھے گئے جس افسرنے اس پروگرام کو آگے بڑھانے میں نااہلی ، غفلت ،کوتاہی اوربدانتظامی کا مظاہرہ کیا ہے اسے برطرف کردیاگیا ہے ۔انہوںنے کہا کہ پنجاب میں مختلف وجوہات کی بنا پر 1400واٹر سپلائی کی سکیمیںغیر فعال ہے اوران سکیموں کو عزم،جذبے اورنگرانی کی کمی کے باعث فعال نہیں کیا جاسکاحالانکہ اللہ تعالیٰ نے صوبے کو پانی کے بے پناہ ذخائر دیئے ہیں لیکن ہم ان ذخائر کو اپنی ضروریات کے مطابق استعمال میں نہیں لاسکے۔انہوںنے کہا کہ عام انتخابات میں عوام نے ہمیں صرف اس لئے ووٹ نہیں دیئے کہ ہم بجلی کے منصوبے لگائیں ،تعلیم،کھیتوں سے منڈیوں تک سڑکوں کی تعمیر،سیف سٹی پراجیکٹ ،لیپ ٹاپ یا دیگر منصوبوں پر توجہ دیں لیکن دوردراز کے علاقے پینے کے صاف پانی سے محروم رہیںبلکہ اس لئے ووٹ دیئے کہ عوام کو پینے کا صاف پانی بھی ملے۔یہ متعلقہ محکموں اورافسروں کی نااہلی،غفلت،کوتاہی ،غیر پیشہ ورانہ انداز،عزم کی کمی اورلالچ کی وجہ ہے کہ یہ پروگرام تاخیر کا شکار ہوا ہے اوراس کی سزا ذمہ داروں کو ضرور ملے گی کیونکہ ان افسروں کی ذمہ داری تھی وہ عوام کی خدمت کرتے اورانہیںصاف پانی ملتا۔میں آج آپ کے سامنے کھل کر باتیںاس لئے کررہا ہوں ساری صورتحال اورحقائق کاقوم کو علم ہوسکے۔پروگرام کو جس غیر ذمہ داری کے ساتھ چلانے کی کوشش کی گئی وہ انتہائی تکلیف دہ تھااور میں عوام کا خادم ہوں،عوام کی تکلیف میری تکلیف ہے اور میں سب سے پہلے اپنے آپ کو جوابدہ سمجھتا ہوںاورپھرہم سب درجہ بہ درجہ جوابدہ ہیں۔انہوںنے کہا کہ پروگرام کیلئے ابتدائی طورپر 121ارب روپے کی لاگت کا تخمینہ لگایا گیا جوان عناصر کی نااہلی،غیر پیشہ ورانہ انداز،کوتاہی اورلالچ کی وجہ سے 191 ارب روپے تک پہنچ گیاجس پرذمہ داران کیخلاف کارروائی عمل میںلائی گئی۔ہم ایک غریب قوم ہے اور ہم نے اس قوم کے وسائل شفاف طریقے سے خرچ کرنے ہیں۔ہم نے اس پروگرام کو آگے بڑھانے کیلئے انتہائی آسان، مستقبل اورانفرادیت کے ساتھ ایسے قابل عمل اقدامات کرنے ہیں جو کہ کم خرچ اورپائیدار ہوں لیکن یہاں ایسی بے پناہ غلطیاں کی گئیں جس کا میں تصور بھی نہیں کرسکتا۔اگر میں یہ موجودہ عمل نہ روکتا تو ایک سیکنڈل بننا تھا اور ہم پر انگلیاں اٹھنی تھیںلیکن اللہ تعالیٰ کا شکرہے کہ بروقت نااہلی ،غفلت ،کوتاہی ا ورغیر پیشہ ورانہ انداز سے منصوبے کو آگے بڑھانے کا علم ہوا۔میں نے واضح ہدایت کی تھی کہ پروگرام کیلئے غیر ملکی کنسلٹنٹس کا انتخاب کیا جائے کیونکہ پاکستانی کمپنیوں کے پاس ایسے پروگرام کیلئے استعدادکار موجود نہیںلیکن افسوس کی بات کہ پاکستانی کمپنیوں کو چنا گیااوران کمپنیوں کے غلط اعداد وشمار کے باعث پروگرام کی لاگت کا تخمینہ کئی ارب روپے بڑھااور پروگرام پر عملدر آمدکاموڑ بھی بی او کیو (BOQ)سے بدل کرای سی پی(ECP)کردیاگیا،مزید برآں یہ کہ تخمینہ جات میں اضافے کی ایک وجہ کنٹری رسک کو شامل کرنا تھا جسے 9فیصد رکھا گیاحالانکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور191ارب روپے کے پروگرام میں9فیصد کنٹری رسک کو شامل کیا جائے تو یہ ساڑھے 18ارب روپے کی رقم بنتی ہے حالانکہ اس منصوبے کیلئے تمام تر وسائل پنجاب حکومت نے دینے تھے ،لہذاکنٹری رسک کی کوئی گنجائش نہیں بنتی کیونکہ اس پروگرام کیلئے نہ قرضہ لیا جارہا تھا نہ کسی سے فنڈزتمام تر سرمایہ کاری پنجاب حکومت کررہی ہے ۔قوم کے خون پسینے کی کمائی کو 70برس کے دوران کئی باربے دردی سے لوٹا گیا ہے اورپاکستان اپنی منزل سے ہٹا ہے۔9فیصد کنٹری رسک شامل کرنے کا اقدام انتہائی شرمناک بات تھی اوریہ نااہلیت ،غفلت،کوتاہی اورلالچ کیساتھ کرپشن کی کہانی بھی سنارہی تھی ۔میں نے اپنی زندگی میںاس طرح کا غیر پیشہ ورانہ انداز میں کسی پروگرام پر عملدر آمد ہوتے ہوئے نہیںدیکھااورپھرسکیڈاSupervisory control and data acquisition (SCADA)، کو بغیر تصدیق اور سروے کیے پورے پروگرام کیلئے رکھا گیاا وراس کیلئے 27ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیاحالانکہ جنوبی پنجاب میں قابل اعتماد توانائی اورانٹرنیٹ کنکشن کا فقدان ہے جبکہ واٹر فلٹریشن پلانٹ چلانے کیلئے سولرپینلز کاآپشن بھی رکھا گیا حالانکہ اس بارے فیصلہ کیا جاچکا تھا کہ رواں برس بجلی کے کئی منصوبے مکمل ہوںگے اورپلانٹس کیلئے سولرپینلز کی ضرورت نہیں پڑے گی لیکن اس کے باوجود اسے آپشنل حصہ بنایا گیااوراس طرح یہ منصوبہ انتہائی نااہلیت،بے پناہ کوتاہی،ڈھیروںغفلت،کرپشن اوربے حساب غیر پیشہ ورانہ انداز میں چھلانگیں لگاتا ہوا121ارب روپے سے 191ارب روپے تک پہنچ گیا۔یہ مقام افسوس نہیں بلکہ اس بے حسی اورغفلت پر ماتم کرنا چاہیے کیونکہ اگر صوبے کے عوام کوپینے کا صاف پانی نہ ملا تو میں اورمیری حکومت عوام کو جوابدہ ہوںگے۔میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ صوبے کے 10کروڑ عوام کو بھی جوابدہ ہوں۔اس پروگرام کے تخمینہ جا ت میں اضافے کی وجوہات میں جہاں نااہلی،کوتاہی،غفلت،غیر پیشہ ورانہ انداز کا عمل دخل رہا ہے وہاں کرپشن بھی اس کی ایک وجہ تھی حالانکہ ابھی یہ پروگرام شروع نہیں ہوا لیکن اس میں کرپشن بے پناہ ہونا تھی ،اسی لئے ملی بھگت کے ساتھ تخمینہ جات میں اضافہ کیاگیا۔کیا یہ پاکستان کی عوام کی خدمت کا طریقہ ہے ۔کیا یہ عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا انداز ہے۔یقینا نہیں کیونکہ یہ چالیں صرف اورصرف بربادی اورتباہی کی چالیں ہیںاور میںنے اس طرح کی چالوں کو کبھی گوارا کیا ہے نہ کبھی آئندہ کروں گا۔میری حکومت میں کرپشن کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔جنہوںنے غفلت کامظاہرہ کیا ہے انہیں اس کی سزا ضرور ملے گی۔اگر یہ لوگ ذمہ داری کیساتھ اپنے فرائض ادا کرتے تو آج ملک وقوم کی یہ حالت نہ ہوتی۔اگر ہمت ،عزم ،جذبہ اورجنون ہوتو اللہ تعالیٰ بھی ہاتھ تھام لیتا ہے ۔میراایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ مخلصانہ محنت کرنے والوں کو ضرور نوازتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ یہ بربادی اورتباہی کی چالیں تھیںاور غریب قوم کے وسائل کو ضائع کرنے کے حوالے سے بدترین غفلت کا مظاہرہ تھا ۔ذمہ داران کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی اورانہیں اپنے کیے کی سزا ضرور ملے گی۔وسائل ہونے کے باوجود صوبے کے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے پروگرام کوپیشہ ورانہ انداز سے آگے نہ بڑھانا متعلقہ اداروںکی واضح نااہلی ہے۔اگر وہ عزم کیساتھ پنجاب کے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے اس پروگرام کو آگے بڑھاتے تو صوبے کے عوام آج صاف پانی سے محروم نہ ہوتے۔انہوںنے کہا کہ یہ بھی ایک افسوسناک پہلو ہے کہ صاف پانی پروگرام میںکیلئے غیر ملکی کمپنیوں کو لیٹر آف کریڈٹ کی بجائے چیکوں کے ذریعے ادائیگی کا میکانزم بنایا گیا جو ایک بہت بڑی غلطی تھی۔191ارب روپے کے پروگرام کیلئے ایل سی کی جگہ چیکوں کے ذریعے ادائیگیاں کے میکانزم پر میں حیران وپریشان رہ گیااوراس کامقصد صرف پیسے بٹورنا تھا۔انہوںنے کہا کہ صوبے کے عوام کو 3برس کے دوران پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے حوالے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے اورہم عوام کی امیدوں پر پورا نہیں اترے۔اب میں نے سارا پرانا عمل ختم کردیا ہے اورنئے عمل کا آغاز کردیا ہے۔وزیراعلیٰ نے سمینار میں شریک غیر ملکی مندوبین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ پاکستان غریب ملک ہے اورہمیں اپنے محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے آ گے بڑھنا ہے ۔اس لئے میری آپ سے درخواست ہے کہ ہمارے محدودوسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے صاف پانی پروگرام کے حوالے سے ایسی پائیداراورقابل عمل تجاویز دیں جن پر عمل پیرا ہوکرہم اپنے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنا سکیں۔کم خرچ اورپائیدار حل دیں تاکہ صوبے کے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔ آپ کو پروگرام پر عملدرآمدکے حوالے سے بلاتاخیر ادائیگیاں ہوں گی۔سب کچھ ٹیبل کے اوپر ہوگا انڈر دی ٹیبل کچھ نہیں ہوگا۔میں ذاتی ضمانت دیتا ہوں کہ کوئی کک بیکس یا کمیشن نہیں لے گا۔میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ پنجاب میں واٹر سیکٹر میں آگے آئیں آپ کو ادائیگیاں شفاف انداز سے ہوں گی اورکوئی آپ کو کک بیکس یا کمیشن کی وصولی کیلئے مجبور نہیں کرے گا۔ترقیاتی منصوبوں میں معیار ،شفافیت اوربرق رفتاری سے تکمیل پنجاب حکومت کا طرئہ امتیاز ہے اوراسی پالیسی کے تحت صاف پانی پروگرام کو بھی آگے بڑھایا جائے گااوراگر کہیں آپ کو کوئی شکایت یا مسئلہ پیش آئے تومیںفوری سخت ایکشن لوں گا لیکن ہم نے اس پروگرام کو ٹائم لائن کے اندر اعلی کوالٹی کے ساتھ مکمل کرنا ہے۔ انہوںنے کہا کہ ہمیں غار کے زمانے سے نکل کر جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے صاف پانی پروگرام کو آگے بڑھانا ہے اوراسی مقصد کے پیش نظر آج یہ اہم سیمینار کاانعقاد کیا گیا ہے ۔پینے کا صاف پانی ہر شہری کا بنیادی حق ہے اوریہ حق ہم اسے دیں گے۔ پاکستان میں عوام کی اکثریت پینے کیلئے زیر زمین پانی استعمال کرتی ہے جو مختلف وجوہات میں آلودہ ہوچکا ہے اورمختلف بیماریوںکا باعث بن رہا ہے ہمیںاپنے عوام کو پینے کا صاف پانی فراہم کر کے بیماریوں سے بچانا ہے اسی مقصد کے پیش نظر صاف پانی پروگرام کے بڑے منصوبے کا آغاز کیاگیا ہے جس کے تحت بہاولپور ڈویژن میں 80فلٹریشن پلانٹس کام کررہے ہیں اوراس پروگرام کا دائرہ پورے صوبے تک بڑھایا جائے گا۔انہوںنے کہا کہ پنجاب میں 1400رورل واٹر سپلائی سکیمیں غیر فعال ہے انہیں بھی پوری طرح فعال کیا جائے گا۔ماضی کی کوتاہیوں پر رونے دھونے کی بجائے ہمیں ان سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا ہے اوراپنے عوام کی خدمت کرنا ہے ۔ قومیں وہی ترقی کرتی ہے جومحنت،عزم،دیانت اورامانت کو اپنا شعار بناتی ہیں۔جاپان اورجرمنی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جو جنگ عظیم دوئم میں تباہ ہوچکی تھیں لیکن اپنی محنت کے بل بوتے پر دونوں ملک ترقی کی بلندیوںکو چھو رہے ہیں ۔70کی دہائی میںچین کی فی کس آمدنی پاکستان سے کم تھی لیکن آج وہ ہم سے کہیں آگے ہیں اوردنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت بن چکا ہے ۔ترقی کی منزل کسی کی جادو کی چھڑی یا چھو منترسے نہیں بلکہ انتھک محنت ،مقصد سے لگن اورجہد مسلسل سے حاصل کی جاسکتی ہے ۔انہوںنے کہاکہ وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں پاکستان میں توانائی بحران کے خاتمے کیلئے کی گئی محنت اورکاوشیں رنگ لارہی ہے اور پاکستان سے توانائی بحران ختم ہونے کوہے۔ انہوںنے کہاکہ گیس کی بنیاد پر 3600میگاواٹ کے پاور پلانٹس پر دن رات کام ہورہاہے ۔انشاء اللہ اس سال کے آخر تک ان منصوبوں سے بجلی کی پیداوار شروع ہوجائے گی۔انہوںنے کہا کہ ایک طرف تو یہ توانائی کے منصوبے ہیں جو تیزرفتاری سے تکمیل کی جانب بڑھ رہے ہیں جبکہ دوسری جانب 2002ء شروع کیا گیا نیلم جہلم پاور منصوبہ جو 16سال گزرنے کے بعد آج بھی نامکمل ہے۔نندی پور پاورپلانٹ کی مشینری بھی چار سال تک بندرگاہ پر سڑتی رہی اور یہ اہم منصوبہ بھی سابق حکمرانوں کی لالچ ،حرص اور کرپشن کی نذرہوا۔سابق حکمرانوں نے اپنی کرپشن کے باعث ملک وقوم کو اندھیروں میں دھکیلا تھا اورقوم یقیناان کامحاسبہ کرے گی۔وزیراعظم نوازشریف کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے توانائی منصوبوں کو تیزرفتاری سے آگے بڑھایا ہے اور متعدد منصوبے تکمیل کی جانب بڑھ رہے ہیں۔گزشتہ 70سال میں ایسی کوئی مثال موجود نہیںکہ کوئی منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل ہوا ہولیکن مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے منصوبے وقت سے پہلے مکمل کرنے کی بھی تاریخ بنائی ہے ۔انہوںنے کہاکہ ہم اپنے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی بھی یقینی بنائیں گے اوراس مقصد کیلئے ہر ضروری اقدام کریں گے۔ چیئرمین منصوبہ بندی وترقیات جہانزیب خان نے سیمینار کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالی جبکہ سی ای او اربن یونٹ ڈاکٹر ناصر جاوید نے پنجاب میں پینے کے صاف پانی کی صورتحال اور مسائل کے بارے میں بریفنگ دی۔پنجاب صاف پانی کمپنی کے قائمقام چیف ایگزیکٹو آفیسرخالدشیر دل نے پنجاب صاف پانی کمپنی کے امور اور طریقہ کار کے بارے میں آگاہ کیا ۔وائس نائب صدر کانٹل ٹیکنالوجیز شکیل ہاشمی،حاجی محمد فاروق اورواٹر سیکٹر کے عاصم قادری نے بھی تقریب سے خطاب کیا

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مین

loading...

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین تصاویر


>