تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ

  12 ‬‮نومبر‬‮ 2017   |    09:02     |     پاکستان

پشاور(ڈیلی آزادنیو زڈیسک )وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ چوروں لیٹروں کا دور ختم ہوچکا ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف 2018 کے انتخابات میں چاروںصوبوں اور وفاق میں حکومت بنائے گی اور عمران خان ہی اس ملک کے وزیر اعظم ہوںگے۔افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے غریب عوام کو روٹی،

کپڑا اور مکان کاجھانسا دے کر عوام سے سب کچھ چھین کر بیرونی ممالک کے بینکوںمیںسرمایہ منتقل کیا اور بیرون ملک جائیدادیں اور محلات بنائے ۔ سابق وزیر اعظم نوازشریف نے تین سو ارب روپے کی کرپشن کرکے بیرون ملک جائیدایں بنائیں اور پوچھتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا۔ نواز شریف اوران کاپورا خاندان جیل جانے والا ہے اور اب سب کرپٹ عناصر کااحتساب ہوگا۔کوئی بھی احتساب سے نہیں بچ سکے گا۔ اب کرپشن اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے ۔عمران خان نے کرپشن کے خلاف جہاد شروع کردیا ہے پوری قوم ا ن کے ساتھ ہے۔پی ٹی آئی کے جنون کاکوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اے این پی ، پی پی پی اور ایم ایم اے نے اپنے دورحکومت میں عوام اور اسلام کی کوئی خدمت نہیں کی۔سب نے اپنی اپنی تجوریاں بھریں۔ ہمیں ورثے میں کرپشن سے بھرا تباہ حال صوبہ ملا۔ ہم نے پولیس استاد اور ڈاکٹر پٹواری پر سیاست ختم کردی ہے۔ غریب عوام کوان کاحق دلانے اور انصاف پر مبنی معاشرے کے قیام کے لیے نظام کی تبدیلی کے ایک نکاتی ایجنڈے پر عمل کیا۔امیر مقام صوبے کے عوام کومزید دھوکہ نہیں دے سکتے۔ اس کے پاس کو ئی اختیار نہیں۔ این اے فورے سے گیس کے پائپ اور ٹرانسفارمراٹھانے نہیں دیں گے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے سیاسی ڈاکہ زنی اور لوٹ مار نے قومی ادارے میں پنجے گاڑھ رکھے تھے ۔اُن کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اُنہیں بھی حساب دینا پڑے گا۔عمران خان پاکستان کو ان کرپٹ عناصر سے نجات دلانے کیلئے جدوجہد میں مصروف ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے نظام پور ضلع نوشہرہ میں2 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے مروبہ ڈیم کا افتتاح کرنے کے بعد بڑے جلسے جبکہ یونین کونسل انزری میں شمولیتی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر میاں جمشید الدین کاکاخیل ،ڈیڈک نوشہرہ کے چیئرمین ایم پی اے ادریس خٹک، ڈسٹرکٹ ممبران امین زادہ ، فلک ناز ، ذوالفقار خٹک، تحصیل نائب ناظم جہانگیرہ حمید اﷲ خٹک، احسان اللہ خٹک،نذر دین ،، سابق ناظم شاد خان، اکبر خٹک جنرل کونسلر ڈاگئی خان گل اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔یونین کونسل انزری میں حاجی ملتان زرین مرحوم کے خاندان کے ریاض خٹک ، ظہور خٹک، راشد خٹک، کونسلر جمروز خان، حاجی خان بادشاہ، ہارون خٹک، حضرت حسین ، اور اعجاز خٹک نے مسلم لیگ ن سے مستعفیٰ ہوکر اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ قومی وسائل پر ڈاکہ ڈالنے والے پانامہ کی شکل میں قدرت کی گرفت میں آچکے ہیں۔پاکستان لوٹ مار کیلئے نہیں بنا تھا ۔یہ عوام کے اپنے ہاتھ میں ہے کہ اگر وہ چاہیںتو کرپشن پر مبنی سیاسی بادشاہت سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ عوام اپنے مستقبل کا سوچیںاور ایماندار آدمی کو آگے لائیںتب ہی ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔اگر صرف پانچ سالوں کیلئے بھی ایماندار قیادت مل جائے تو پاکستان کی شکل بد ل جائے گی ۔عمران خان نے اسی مقصد کیلئے نظام کی تبدیلی کا نعرہ بلند کیاجس کو نوجوانوں نے سپورٹ کیا۔صوبائی حکومت نے ساڑھے چار سالوں میں نظام کی تبدیلی کیلئے قابل عمل اصلاحات کیں۔پی ٹی آئی کے چار سالوں کا ماضی کی حکومتوں سے موازنہ کریں تو فرق واضح نظر آئے گا۔تنقید سب کرتے ہیں مگر سچ اور انصاف پر مبنی بات کوئی نہیں کرتا۔ صوبائی حکومت کی عوام دوست پالیسیوں اور غریب کی فلاح کے اقدامات کا نتیجہ ہے کہ آج خیبرپختونخوا کی سیاسی تاریخ کے برعکس عوام وخواص کا تحریک انصاف پر اعتماد بڑھتا جارہا ہے۔مخالفین کا حلقہ این اے۔فور پشاور کے ضمنی الیکشن میں پروپیگنڈہ بھی بری طرح ناکام ہوااور تحریک انصاف نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ۔آئندہ انتخابات میں تحریک انصاف نہ صرف صوبے میں بلکہ مرکز میں بھی حکومت بنائے گی ۔تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اپنے منشور ، نظام کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ عوام کودرپیش دیگر مسائل کے حل کیلئے بھی کوشاں ہے۔نظام پور میں سمال ڈیم کی تعمیر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔مروبہ ڈیم سے3000 ایکڑ اراضی سیراب ہو گی ۔مروبہ ڈیم سے منسلک 18 کلومیٹر طویل سڑک بھی تعمیر کی جائے گی اور متاثرین کی زمین کو سیرابی کی مفت سہولت میسر ہو گی ۔صوبائی حکومت پانی کی کمی اور ماحولیاتی تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبہ بھر میں سمال ڈیم بنارہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ترقیاتی کام اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیںاور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔گلی ، نالی یا کسی سڑک کی تعمیر کو سیاست کا مطمع نظر نہیں ہونا چاہیئے ۔اگر عوام ایماندار اور مخلص نمائندوں کا انتخاب کریں تو کام ہوتے رہتے ہیں ۔ ترقی کا عمل آگے بڑھتا رہتا ہے ۔اس مقصد کیلئے سیاسی ڈاکوئوں کا راستہ روک کر ایماندار قیادت اور مخلص نمائندوں کو آگے لانا ہو گا جن کو عوام کی تکالیف کا احساس ہو۔وزیراعلیٰ نے افسوس کا اظہار کیا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ملک میں لوٹ مار کا سلسلہ جاری رہا مگر خواص و عوام میں سے کوئی ٹس سے مس نہیں ہوا۔مفاد پرست سیاستدان سائیکل پر ایوانوں میں آتے اور لینڈ کروزر لے کر چلتے رہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ اگر عوام اپنے مستقبل کی فکرکریں ، اپنی نسلوں کا سوچیں اور اس ملک سے حقیقی معنوں میں وفاداری کا اظہار کریں تو ممکن ہی نہیں کہ کوئی چور ، ڈاکو یا بد عنوان عناصر ایوان کے اقتداروں میں گھس سکے۔یہ عوام کے اپنے ہاتھ میں ہے اب فیصلہ کرنا ہے اور ایک جیتی جاگتی قوم کی طرح اپنے مستقبل کا تعین کرنا ہے۔ہم سب کو ملکر ملک کو تباہی سے بچانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ تحریک انصاف اور روایتی سیاسی جماعتوں میں یہی فرق ہے کہ تحریک انصاف کرپشن کے خلاف جبکہ دیگر مفاد پرست جماعتیں کرپشن کی حمایت میں کھڑی ہیں۔ ہم نے کسی سے سڑک یا گلی کے نام پر ووٹ نہیں لیا اور نہ عوام نے ہمیں اس مقصد کیلئے ووٹ دیا۔ہمارا نعرہ نظام کی تبدیلی تھا اور شروع دن سے اسی پر کاربند ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ جب وہ حکومت میں آئے تو تعلیمی اداروں ، ہسپتالوں ، تھانوں اور سماجی خدمات کے دیگر اداروں کا برا حال تھا ۔صوبائی حکومت نے ان تمام اداروں کو ٹھیک کرکے عوامی خدمت کے قابل بنایا ۔پرویز خٹک نے کہاکہ گورے انگریزوں کے چلے جانے کے بعد کالے انگریزوں (سیاسی ڈاکوئوں)نے غریب کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا۔ امیر اور غریب کیلئے الگ الگ معیار مقرر کئے تاکہ سرمایہ دار طبقے کا رعب و دبددبہ برقرار رہ سکے۔انہوںنے کہاکہ جب تک معاشرے کے تمام افراد کو ترقی کے یکساں مواقع میسر نہ ہو خوشحالی ممکن نہیں اور ترقی کی بنیاد تعلیم ہے اور غریب کے ساتھ تعلیم ہی کے شعبے میں سب سے زیادہ ظلم ہوا۔ صوبے کے 28 ہزار پرائمری سکول اصطبل کا منظر پیش کر رہے تھے جن کی بہتری کیلئے 30 ارب روپے خرچ کئے ۔80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔صوبائی حکومت طبقاتی نظام تعلیم کی حوصلہ شکنی کیلئے سرکاری سکولوں میں انگلش اور اسلامی تعلیمات کو فروغ دے رہی ہے۔صوبے بھر میں 40 سے45 بچوں میں ایک اُستاد مہیا کرنے کیلئے 45 ہزار نئی بھرتیاں عمل میں لائی گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ تحریک انصاف کی کارکردگی پر تنقید کرنے والے سرخ پوشوں کو یہ ادارے کبھی نظر نہیں آئے ۔ وہ اپنے دور میں ایک قاضی حسین احمد ہسپتال کو بھی مکمل نہ کرسکے وہ کونسی شکل لیکر دوبارہ عوام کے سامنے آئیں گے۔پرویز خٹک نے صوبائی محکموں میں اصلاحاتی عمل میں درپیش رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ انہوںنے عوام کے سر پر مافیاز سے جھگڑ ا مول لیا ہے۔ اُن کی اپنی کوئی لالچ نہیں تھی ۔غریب کی فکر ہے جو تحریک انصاف کا منشور ہے ۔یہی وجہ ہے کہ حکومت کے آخری سال میں لوگ پارٹی سے دور بھاگتے ہیں مگر اس کے برعکس تحریک انصاف میں شمولیت کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔صوبے کی تاریخ ہے کہ یہاں کسی پارٹی نے دوبارہ حکومت نہیں بنائی مگر ہم باشعور نوجوانوں کے تعاون اور اپنی کارکردگی کی بدولت یہ تاریخ بدل کر دکھائیں گے۔#/s#

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین تصاویر


>