تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

مارچ میں کس سیاسی جماعت کی نمائندگی ختم ہوجائے گی

مارچ میں کس سیاسی جماعت کی نمائندگی ختم ہوجائے گی

  13 ‬‮نومبر‬‮ 2017   |    03:41     |     پاکستان

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سینیٹ میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے 12، سندھ کے 11، خیبر پختونخوا کے 11، بلوچستان کے 11، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے 2 اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کے 4 سینیٹرز آئندہ سال 11میں سے 18 سینیٹرز کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے، 9 کا مسلم لیگ مارچ کو ریٹائر ہو جائیں گے۔

52 (ن)، 5 کا عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، 4 کا مسلم لیگ (ق)، 4 متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)، 3 جمعیت علماء اسلام (ف)، 2 بلوچ نیشنل پارٹی (اے) اور ایک کا تعلق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، اور ایک پاکستان مسلم لیگ (ف) سے ہے جبکہ 5 کا آزاد سینیٹرز بھی اگلے سال اپنا وقت مکمل کرلیں گے۔ ریٹائر ہونے والے نمایاں سینیٹرز میں سے سینیٹ چیئرمین میاں رضا ربانی، وزیر خزانہ اسحٰق ڈار، قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن، مشاہد حسین سید، فرحت اللہ بابر، اعظم سواتی، کامران مائیکل، شاہی سید، کامل علی آغا، طلحہ محمود، طاہر حسین مشاہدی، نصرین جلیل اور الیاس بلور شامل ہیں۔ سینیٹرز کے ریٹائر ہونے کے بعد مسلم لیگ (ق) کی سینیٹ میں نمائندگی بھی ختم ہوجائے گی۔ پنجاب سے ریٹائر ہونے والے سینیٹرز میں مسلم لیگ (ن) کے محمد حمزہ، محمد ظفراللہ خان، سعود مجید، آصف سعید کرمانی، اسحٰق ڈار جبکہ مسلم لیگ (ق) کے کامل علی آغا، آزاد سینیٹر محمد محسن علی آغا اور پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن شامل ہیں۔ سندھ سے اپنی مدت پوری کرنے والے 12 سینیٹرز میں پیپلز پارٹی کے مرتضیٰ وہاب، کریم احمد خواجہ، رضا ربانی، مختار احمد دھامرہ، تاج حیدر، سحر کامران اور ہری رام جبکہ ایم کیو ایم کے کرنل (ر) طاہر حسین مشاہدی، مولانا تنویر الحق تھانوی، محمد فروغ نسیم اور نسرین جلیل ہیں اور دیگر میں مسلم لیگ فنکشنل کے مظفر حسین شاہ بھی شامل ہیں۔ ریٹائر ہونے والے خیبر پختونخوا کے 11 سینیٹرز میں احمد حسن (پی پی پی)، باز محمد خان (اے این پی)، حاجی سیف اللہ خان بنگش (پی پی پی)، اعظم خان سواتی (پی ٹی آئی)، محمد طلحہ محمود (جے یو آئی ف) نثار محمد (پی ایم ایل ن) شاہی سید (اے این پی)، فرحت اللہ بابر (پی پی پی)، الیاس احمد بلور (اے این پی)، روبینہ خالد (پی پی پی) اور زاہدہ خان (اے این پی) شامل ہیں۔ بلوچستان سے ریٹائر ہونے والے 11 سینیٹرز میں محمد داؤد خان اچکزئی (اے این پی)، مولونا حافظ حمداللہ (جے یو آئی ف)، میر اسراراللہ خان زہری (بی این پی اے) محمد یوسف (پی پی پی)، نواب سیف اللہ مگسی (پی پی پی) سعید الحسن مندوخیل (پی ایم ایل این)، سردار فتح محمد حسنی (پی پی پی)، مفتی عبدالستار (جے یو آئی ف)، روزی خان کاکڑ (پی پی پی)، نسیمہ احسن (بی این پی اے) اور روبینہ عرفان (پی ایم ایل این) شامل ہیں۔ اگلے سال ریٹائر ہونے والوں میں فاٹا کے چار آزاد سینیٹرز ہدایت اللہ، ہلال الرحمٰن، نجم الحسن اور محمد صالح شاہ شامل ہیں۔ اسلام آباد کے دو سینیٹرز عثمان سیف اللہ (پی پی پی) اور مشاہد حسین (پی ایم ایل ق) بھی اگلے سال ریٹائر ہوجائیں گے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

پاکستان خبریں

تازہ ترین تصاویر


>