تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

آزاد عدلیہ آزاد

آزاد عدلیہ آزاد

  20 دسمبر‬‮ 2017   |    11:43     |     پاکستان

جب پاکستان میں ادارے آزاد،مضبوط،خودمختار اور غیرجانبدار ہونے کی نوید سُنائی دینے لگے ۔حالیہ سنائے گئے بڑے فیصلوں کی بدولت عدلیہ ملک کے مضبوط ترین ادارے کی حیثیت سے اُبھر رہی ہو تو ایسے پس منظر میں کوئی ادارہ اچانک اپنے اختیارات سے تجاوزکرے تو غیر معمولی تنقید تو ہوگی۔سپریم کورٹ میں30,000 ہزار سے زائد کیسوں کے فیصلے التوا کا شکار نہ ہوتے اور چیف جسٹس

عوامی مسائل سُننے کیلئے سڑکوں پر ہوتے تو شاید اِسے قابل قدر اقدام قرار دے کر ہر سطح پر سراہا جا رہا ہوتا مگر اپنے فرائض منصبی سے بری الذمہ ہو کر چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کا لاہور میو ہسپتال کا اچانک دورہ اور ہسپتال میں موجود سہولیات کا تنقیدی جائزہ ہی عوام میں بحث و مباحثہ کے متن کا سبب بنا ہے۔ردعمل کے طور پر عدلیہ کی بالادستی کے محافظ عزت مآب چیف جسٹس صاحب کا عوام کے کئی سوالات کی زد میں آنا شاید ایک فطری عمل ہوسکتا تھا مگرسوشل میڈیا پر عوام پھر بھی عدلیہ کے احترام کا علم بلندتو کئے ہوئے ہے مگر عوام کے رحجان سے اِن سوالات کا تاثر دیکھائی دے رہا ہے کہ کیا عدلیہ دوسرے اداروں کے کاموں میں مداخلت کر سکتی ہے؟اور کاروائیوں کا حصہ بن سکتی ہے؟ انتظامیہ کو ہدایات جاری کر سکتی ہے ؟کیا اس اقدام کی کوئی آئینی حیثیت ہےَ؟کیا ایسے اقدام سے جمہوریت کو فروغ ملے گا؟کیا ایسی مثالیں سنہرے الفاظ میں تاریخ کا حصہ بنیں گی؟ایک نہیں کئی سوالات۔۔۔۔۔ دعا ہے کہ جمہوری نظام میں عدلیہ، مقننہ اور پارلیمنٹ اپنی اپنی حدود میں کام کرتی رہیں تا کہ پاکستان کادنیا میں کھویے ہوئے تشخص کی بحالی کا عمل جاری رہ سکے۔ تحریر: آصف علی رانجھا

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

پاکستان خبریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین تصاویر


>