تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

شہباز شریف کی جانب سے سب قومی لیڈروں کو اس درندگی کے خلاف یک جان ہو کر لڑ نے کی دعوت

شہباز شریف کی جانب سے سب قومی لیڈروں کو اس درندگی کے خلاف یک جان ہو کر لڑ نے کی دعوت

  17 جنوری‬‮ 2018   |    04:35     |     پاکستان

پہلے آنسو تھمے نہیں تھے کہ قوم کو ایک اور صدمے نے گھیر لیا ایک اور درندے کے ہاتھوں ایک ننھی کلی کو مسل دیا گیا ۔مردان میں 3 سالہ اسماء کی عصمت دری پر وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی جانب سے انتہائی گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا ہے اور سب قومی لیڈروں کو اس درندگی کے خلاف یک جان ہو کر لڑ نے کی دعوت دی گئی ہے کہ

ملکی مسائل کا حل نا گزیر ہے اس طرح ننھی جانوں کا قتل ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے اور باعث تکلیف بھی ہمیں آپسی جھگڑے مٹا کر اس مسئلے کے خلاف جنگ لڑنی چاہیے۔ مردان میں ہونے والا یہ اندوہناک واقعہ ہم سب کے لئے ایک صدمہ کی گھڑی ہے ۔ یاد رہے کہ مردان کے علاقے جندر پار گوجر گڑھی میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل ہونے والی 4سالہ بچی عاصمہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ڈاکٹروں نے بچی پر جنسی تشدد اور زیادتی کی تصدیق کر دی ہے‘ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتولہ عاصمہ کے جسم کے مختلف حصوں پر زخم تھے تا ہم بچی کی ہلاکت گلا گھونٹنے سے ہوئی ۔ شیطان صفت اور جنسی جنونی قاتلوں نے معصوم بچی عاصمہ سے زیادتی کرنیکے بعد بچی کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناکر قتل کیا اور نعش کھیتوں میں پھینک دی‘ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی مردان میں 2بچیوں کو جنسی تشدد کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیاگیا تھا‘22اگست 2016کو مردان کے علاقے لونڈ خوڑ میں6سالہ شب نور کو زیادتی کا نشانہ بنا کرموت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا جبکہ مردان کے علاقہ شیر گڑھ میں 9سالہ بچی کو تین نوجوانوں نے زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کردیاتھا۔پی ٹی آئی حکومت اور عمران خان خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں‘ عمران خان کی جانب سے زینب قتل کیس پر تو کلمہ حق بلند کیا گیا مگر جب اپنے صوبے کی بات آتی ہے تو ان کہ من سے ایک حرف تک سننے کو نہیں ملتا۔اس واقعے نے عمران خان کی مثالی پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان پیدا کر دیا ہے اور تاحال واقعے کی نہ تو ایف آئی آر درج ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔ بچوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کسی ایک صوبے تک محدود نہیں نہ ہی ایسے مظالم پر کسی ایک شحص کو ذمہ وار بنانا انصاف ہے یہ ایک قومی مسئلہ ہے اور اس کا مل کر مقابلہ کرنا سب لیڈرز قومی اداروں اور انصاف دینے والی عدالتوں کا فرض ہے۔ ملک میں احتجاج کے نام پر تماشہ لگانے کی نجائے تمام لیڈرزاور سیاسی پارٹیوں کو اپنی قوم اور بچوں کی خفاطت کیلئے ہم قدم اوریک آواز ہونا ہوگا تبھی ہمارے ملک سے اس درندگی کاخاتمہ ہو سکے گا ۔ https://twitter.com/CMShehbaz/status/953573999241506816 https://twitter.com/CMShehbaz/status/953573672152895488

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

پاکستان خبریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین تصاویر


>