تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

شاعر ابن انشا

٭ابن انشا کا شمار اردو کے ان مایہ ناز قلمکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے نظم و نثر دونوں میدانوں میں اپنے فن کے جھنڈے گاڑے۔ ایک جانب وہ اردو کے ایک بہت اچھے شاعر تھے دوسری جانب وہ مزاح نگاری میں بھی اپنا ثانی نہ رکھتے تھے اور کالم نگاری اور سفرنامہ نگاری میں ایک نئے اسلوب کے بانی تھے۔
ابن انشا کا اصل نام شیر محمد خان تھا، وہ 15 جون 1927ء کو موضع تھلہ ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے۔ جامعہ پنجاب سے بی اے اور جامعہ کراچی سے اردو میں ایم اے کیا۔
انہوں نے 1960ء میں روزنامہ ’’امروز‘‘ کراچی میں درویش دمشقی کے نام سے کالم لکھنا شروع کیا۔ 1965ء میں روزنامہ ’’انجام‘‘ کراچی اور 1966ء میں روزنامہ جنگ سے وابستگی اختیار کی جو ان کی وفات تک جاری رہی۔ وہ اک طویل عرصہ تک نیشنل بک کونسل کے ڈائریکٹر رہے۔ زندگی کے آخری ایام میں حکومت پاکستان نے انہیں انگلستان میں تعینات کردیا تھا تاکہ وہ اپنا علاج کرواسکیں لیکن سرطان کے بے رحم ہاتھوں نے اردو ادب کے اس مایہ ناز ادیب کو ان کے لاکھوں مداحوں سے جدا کرکے ہی دم لیا۔
ابن انشا کا پہلا مجموعہ ٔ کلام ’’چاند نگر‘‘ تھا۔ اس کے علاوہ ان کے شعری مجموعوں میں ’’اس بستی کے ایک کوچے‘‘ میں اور ’’دلِ وحشی‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے اردو ادب کو کئی خوبصورت سفرنامے بھی عطا کئے جن میں آوارہ گرد کی ڈائری، دنیا گول ہے، ابن بطوطہ کے تعاقب میں، چلتے ہو تو چین کو چلیے اور نگری نگری پھرا مسافرشامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی دیگر کتابوں میں اردو کی آخری کتاب، خمارِ گندم ،باتیں انشا جی کی اور قصہ ایک کنوارے کا قابل ذکر ہیں۔
انتقال
جناب ابن انشا کا انتقال 11 جنوری 1978ء کو لندن کے ایک اسپتال میں ہوا اور انہیں کراچی میں دفن کیا گیا۔
 

دو شعری مجموعے، چاند نگر اور اس بستی کے کوچے میں 1976ء شائع ہوچکے ہیں۔ 1960ء میں چینی نظموں کا منظوم اردو ترجمہ (چینی نظمیں) شائع ہوا۔

سفر نامے
ابن انشاء نے یونیسکو کےمشیر کی حیثیت سے متعدد یورپی و ایشیائی ممالک کا دورہ کیا تھا۔ جن کا احوال اپنے سفر ناموں میں اپنے مخصوص طنزیہ و فکاہیہ انداز میں تحریر کیا۔اُن کے سفرنامے درج ذیل ہیں۔
آوارہ گرد کی ڈائری
دنیا گول ہے
ابن بطوطہ کے تعاقب میں
چلتے ہو تو چین کو چلئے
نگری نگری پھرا مسافر
مضامین
آپ سے کیا پردہ
خمار گندم
اردو کی آخری کتاب
مکتوبات‘خط انشا جی کے‘تراجم اندھا کنواں
انتقال
آپ کا انتقال 11 جنوری 1978ء کو لندن میں ہوا۔
 

"ابن انشا " کی شاعری

1 - یہ جھوٹی باتیں ہیں

2 - یہ جھوٹی باتیں ہیں

3 - جھلسی سی اک بستی میں

4 - انشا جی اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر میں جی کا لگانا کیا

5 - اک بار کہو تم میری ہو

6 - دیکھ ہمارے ماتھے پر یہ دشتِ طلب کی دھول میاں

7 - کل چودہویں کی رات تھی، شب بھر رہا چرچا ترا

8 - ہم لوگوں نے عشق ایجاد کیا

9 - اے دل والو گھر سے نکلو

10 - یہی عشق بالآخر روگ بنا، کہ ہے چاہ کے ساتھ بجوگ بنا

11 - چاند کو اُترے دیکھا ہم نے، چاند بھی کیسا؟ پورا چاند

           
>