تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

شاعر حبیب جالب

پیدائش حبیب احمد
24 مارچ 1928 
ہوشیار پور: پنجاب،برطانوی ہند (موجودہ پنجاب، پاکستان)
(وفات مارچ 12، 1993 (عمر 65 سال)
لاہور، پاکستان
پیشہ اردو شاعری
قومیت پاکستانی
ادبی تحریک ترقی پسند تحریک
اہم اعزازات نگار ایوارڈ
نشان امتیاز (بعد از مرگ 23 مارچ 2009))
اردو شاعر حبیب جالب1928ء میں دسوہہ ضلع ہوشیار پور ’’بھارتی پنجاب‘‘ میں پیدا ہوئے۔ اینگلو عربک ہائی اسکول دہلی سے دسویں جماعت کا امتحان پاس کیا۔ بعد ازاں گورنمنٹ ہائی اسکول جیکب لائن کراچی سے مزید تعلیم حاصل کی ، روزنامہ جنگ اور پھر لائلپور ٹیکسٹائل مل سے روزگار کے سلسلے میں منسلک ہوئے۔
حالات زندگی
،پہلا مجموعہ کلام برگ آوارہ کے نام سے 1957میں شائع کیا،مختلف شہروں سے ہجرت کرتے ہوئے بلآخر لاہور میں مستقل آباد ہوگئے اور ان کا یہ شعر ہمیشہ کے لئے امر ہوگیا۔
یہ اعجاز ہے حسن آوارگی کا
جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے
آزادی کے بعد کراچی آگئے اور کچھ عرصہ معروف کسان رہنما حیدر بخش جتوئی کی سندھ ہاری تحریک میں کام کیا۔ یہیں ان میں طبقاتی شعور پیدا ہوا اور انھوں نے معاشرتی ناانصافیوں کو اپنی نظموں کا موضوع بیایا۔ 1956ء میں لاہور میں رہائش اختیار کی۔
سیاسی حالات زندگی
ایوب خان اور یحیی خان کے دور آمریت میں متعدد بار قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں ۔ جالب کو 1960 کے عشرے ميں جيل جانا پڑا اور وہاں انہوں نے کچھہ اشعار لکھے”سرِمقتل” کے عنوان سے جو حکومتِ وقت نے ضبط کر لي ليکن انہوں نے لکھنا نہيں چھوڑا۔ جالب نے1960 اور 1970 کے عشروں بہت خوبصورت شاعری کي جس ميں انہوں نے اس وقت کے مارشل لا کے خلاف بھرپور احتجاج کيا ۔
نومبر 1997 میں جب اس وقت کے حکمراں جنرل پرویز مشرف نے ایمرجنسی لگائی تو مشرف کے سیاسی مخالفین کے جلسوں میں حبیب جالب کی شاعری دلوں کو گرمانے کے لیے پڑھی جاتی تھی۔
 

" حبیب جالب " کی شاعری

1 - شہرِ ظلمات کو ثبات نہیں

2 - کسی سے حال دلِ زار مت کہو سائیں

3 - دینا پڑے کچھ ہی ہرجانہ سچ ہی لکھتے جانا

4 - رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے

5 - اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا

6 - نہ گفتگو سے نہ وہ شاعری سے جاۓ گا

7 - یہ ضابطہ ہے، کہ باطل کو مت کہوں باطل

8 - ہر ایک دشمن جاں کو، کہوں میں ہمدم و یار

9 - نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں

10 - فرنگی کا جو میں دربان ہوتا

11 - اس دیس کا رنگ انوکھا تھا اس دیس کی بات نرالی تھی

12 - بندے کو خدا کیا لکھنا

13 - ميں نہيں مانتا ميں نہيں جانتا

14 - ہم نے سنا تھا صحن چمن میں کیف کے بادل چھائے ہیں

           
>