تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

شاعر ناصر کاظمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ناصر کاظمی
پیدائش: 8 دسمبر، 1925ء امبالہ بھارت
وفات: 2 مارچ، 1972ء لاہور پاکستان
کارہائے نمایاں : اردو شاعری، ادب،ریڈیو، صحافت
اصلی نام : سید ناصر رضا كاظمی
قلمی نام : ناصر
ناصر کاظمی 8 دسمبر، 1925ءکو امبالہ شہر میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد محمد سلطان کاظمی رائل انڈین آرمی میں صوبیدار میجر کے عہدے پر فائض تھے۔
تعلیم
ناصر کے والد محمد سلطان کاظمی سرکاری ملازم تھے۔ والد کے پیشہ ورانہ تبادلوں کی وجہ سے ان کا بچپن کئی شہروں میں گزرا تھا۔ انہوں نے میٹرک مسلم ہائی اسکول انبالہ سے کیا ۔ آگے کی تعلیم کے لیےاسلامیہ کالج لاہور آ گئے تھے۔ ناصر کاظمی وہاں کے ایک ہوسٹل میں رہتے تھے ۔ ان کے استادِ خاص رفیق خاور ان سے ملنے کے لئے اقبال ہاسٹل میں جاتے اور ان کے کمرے میں شعر و شاعری پر بات کرتے تھے۔ تاہم اس کے باوجود بھی ناصر بنا بی اے پورا کیے تعلیم ترک کردیے۔
آزادی اور ہجرت
ناصر آزادی کے ساتھ ہی پاکستان آ گئے اور لاہور شہر کو اپنا مسکن بنایا۔ جلد ہی انھیں یکے بعد دیگرے والدین کے چل بسنے کا غم بھی جھیلنا پڑا۔
ادبی دنیا میں قدم
ناصر نے پہلے ادبی رسالہ ”اوراق نو“ کی ادارت کے فرائض انجام دئیے۔ 1952ءمیں رسالہ“ہمایون”کی ادارت سے وابستہ ہوئے۔
دیگر پیشے
1957ءمیں“ہمایون”کے بند ہونے پر ناصر کاظمی محکمہ دیہات سدھار سے منسلک ہوگئے۔ اس کے بعد وہ زندگی کے باقی سال ریڈیو پاکستان سے جڑے رہے۔
مجموعات کلام
"برگِ نَے"”دیوان“ اور ”پہلی بارش“ ناصر کاظمی کی غزلوں کے اور ”نشاطِ خواب“ نظموں کا مجموعہ ہے۔ سٔر کی چھایا انکا منظوم ڈراما ہے۔ برگِ نَے انکا پہلا مجموعہ کلام تھا جو 1952ء میں شائع ہوا۔
انتقال
2 مارچ، 1972ءکو ناصر کاظمی کا انتقال ہوگیا تھا۔ 
 

"ناصر کاظمی " کی شاعری

1 - کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے

2 - کِسی کا درد ہو دِل بے قرار اپنا ہے

3 - غم ہے یا خوشی ہے تو

4 - گزری ہے مجھ پہ یہ بھی قیامت کبھی کبھی

5 - کسی کلی نے بھی دیکھا نہ آنکھ بھر

           
>