لاہور گلوکارہ شازیہ خشک نے کہا ہے کہ پاکستانی گائیکی کو سمجھنے والے دنیا بھر میں موجود ہیں ا" /> Daily Azad
تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

شاعر محسن نقوی

پیدائش سید غلام عباس نقوی
  پانچ مئی 1947ء 
ڈیرہ غازی خان، برطانوی ہند
وفات 15 جنوری 1996ء
سادات گاؤں، ڈیرہ غازی خان
پیشہ شاعر
قومیت پاکستانی
مضمون عشق، فلسفہ، اہل بیت
سید محسن نقوی اردو کے مشہور شاعر تھے۔ان کا مکمل نام سید غلام عباس تھا۔ لفظ محسن اُن کا تخلص تھا اور لفظ نقوی کو وہ تخلص کے ساتھ استعمال کرتے تھے۔ لہذا بحیثیت ایک شاعر انہوں نے اپنے نام کو محسن نقوی میں تبدیل کرلیا اور اِسی نام سے مشہور ہو گئے۔محسن نقوی 5، مئی 1947ء کو محلہ سادات، ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے- انہوں نے گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان سے گریجویشن اور پھر پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا تھا۔ گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان سےگریجویشن کرنے کے بعد جب یہ نوجوان جامعہ پنجاب کے اردو ڈیپارٹمنت میں داخل ہوا تو دنیا نے اسے محسنؔ نقوی کے نام سے جانا۔ اس دوران ان کا پہلا مجموعۂ کلام چھپا۔ بعد میں وہ لاہور منتقل ہو گئے۔ اور لاہور کی ادبی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے جہاں انہیں بے پناہ شہرت حاصل ہوئی۔ بعد میں محسن نقوی ایک خطیب کے روپ میں سامنے آئے مجالس میں ذکرِ اہل بیت اور واقعاتِ کربلا کے ساتھ ساتھ اہلبیت پہ لکھی ہوئی شاعری بیان کیا کرتے تھے۔
 

"محسن نقوی " کی شاعری

1 - شامل میرا دشمن صف یاراں میں رہے گا

2 - میں دل پہ جبر کروں گا، تجھے بھلا دوں گا

3 - بچھڑ کے مجھ سے کبھی تو نے یہ بھی سوچا ہے

4 - آندھی چلی تو دھوپ کی سانسیں الٹ گئیں

5 - چاہت کا رنگ تھا نہ وفا کی لکیر تھی

6 - چہرے پڑھتا، آنکھیں لکھتا رہتا ہوں

7 - مقروض کہ بگڑے ہوئے حالات کی مانند

8 - کوئی نئی چوٹ پِھر سے کھاؤ! اداس لوگو

9 - شکل اس کی تھی دلبروں جيسی

10 - قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کےبیچ

11 - ہجوم شہر سے ہٹ کر، حدود شہر کے بعد

           
>