دبئی ٹوئنٹی 20 میں انگلینڈ کا شکار کرنے کے لیے گرین شرٹس نے ہتھیار تیز کرلیے، گذ" /> Daily Azad
تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

شاعر شکیب جلالی

اردو شاعر۔ اصل نام۔ سید حسن رضوی۔ یکم اکتوبر 1934ء کو اتر پردیش کے علی گڑھ کے ایک قصبے سیدانہ جلال میں پیدا ہوئے۔انہوں نے اپنے شعور کی آنکھیں بدایوں میں کھولیں جہاں ان کے والد ملازمت کے سلسلے میں تعینات تھے۔ لیکن والدہ کی حادثاتی موت نے سید حسن رضوی کے ذہن پر کچھ ایسا اثر ڈالا کہ وہ شکیب جلالی بن گئے۔ انہوں نے 15 یا 16 سال کی عمر میں شاعر ی شروع کر دی اور شاعری بھی ایسی جو لو دیتی تھی جس میں آتش کدے کی تپش تھی۔ شکیب جلالی پہلے راولپنڈی اور پھر لاہور آ گئے یہاں سے انہوں نے ایک رسالہ ” جاوید “ نکالا۔ لیکن چند شماروں کے بعد ہی یہ رسالہ بند ہو گیا۔ پھر ”مغربی پاکستان“ نام کے سرکاری رسالے سے وابستہ ہوئے۔ مغربی پاکستان چھوڑ کر کسی اور اخبار سے وابستہ ہو گئے۔
خودکشی
تعلقاتِ عامہ کے محکمے میں بھی انہیں ایک ذمہ دارانہ ملازمت مل گئی۔ لیکن وہ ان سب چیزوں سے مطمئن نہیں تھے۔ ان کی شاعری ویسے ہی شعلہ فشانی کرتی رہی اور پھر احساسات کی اس تپش کے آگے انہوں نے سپر ڈال دی اور محض 32 سال کی عمر میں سرگودھا اسٹیشن کے پاس ایک ریل کے سامنے کود کر خودکشی کر لی اور اس طرح شعلوں سے لہلہاتے ہوئے ایک شاعر کا خاتمہ ہو گیا۔ موت کے بعد ان کی جیب سے یہ شعر ملا:
تونے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہیں
آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتے بھی دیکھ
 
 

" شکیب جلالی " کی شاعری

1 - خزاں کےچاند نے پوچھا یہ جھک کےکھڑکی میں

2 - سوچتا ہوں کہ وہ کتنے معصوم تھے وہ ہوا ہوگئے۔۔۔ دیکھتے دیکھتے

3 - جہاں تلک یہ صحرا دکھائی دیتا ہے

4 - پھر سن رہا تھا گزرے زمانے کی چاپ کو

5 - خاموشی بول اٹھے، ہر نظر پیغام ہو جائے

6 - عشق پیشہ نہ رہے داد کے حقدار یہاں

7 - کیا کہیے کہ اب اُس کی صدا تک نہیں آتی

8 - اُتریں عجیب روشنیاں، رات خواب میں

9 - وہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہت

10 - آگ کے درمیان سے نکلا

11 - رعنائی نگاہ کو قالب میں ڈھالیے

12 - اُتر گیا تن نازک سے پتیوں کا لباس

13 - کنار آب کھڑا خود سے کہہ دیاہے کوئی

14 - اتنی جلدی نہ یہ فیصلہ کیجیے

           
>