لاہور: پاکستانی اداکارہ میرا نے بالی وُڈ فلمسٹار عامر خان کو پاکستان شفٹ ہونے کی پیشکش کر دی " /> Daily Azad
تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

شاعر دلاور فگار

پیدائش دلاور حسین
8 جولائی 1929 ء
بدایوں، یوپی بھارت
وفات 25جنوری1998(عمر 68 سال)
کراچی،سندھ، پاکستان
قلمی نام فگار
پیشہ اردو شاعر
دلاور فگار (Dilawar Figar) کا حقیقی نام دلاورحسین تھا۔ وہ ایک شاعر، مزاح نگار، نقاد، محقق اور ماہرتعلیم کے طور پر شہرت رکھتے ہیں۔ وہ 8 جولائی، 1929ء کو بھارت کے صوبہ اتر پردیش کے قصبہ بدایوں میں پیدا ہوئے۔
شعروشاعری کا آغاز
دلاورنے شعر گوئی کا آغاز 14 برس کی عمر میں 1942ء میں کیا۔ انہیں مولوی جام نوائی بدایونی اور مولانا جامی بدایونی نامی اساتذہ کی رہنمائی ملی تھی۔
تعلیم
دلاورنے اپنی ابتدائی تعلیم بدایوں ہی میں حاصل کی ۔اس کے بعد انہوں نے آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے (اردو) کیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے ایم اے (انگریزی) اور ایم اے (معاشیات) کی سندیں بھی حاصل کیں۔ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز انہوں نے بھارت میں درس و تدریس سے کیا۔ اس کے بعد وہ ہجرت کرکے کراچی آئے۔ وہ یہاں کے عبداﷲ ہارون کالج میں بحیثیت لیکچرار کچھ عرصے تک اردو پڑھاتے تھے۔ اس وقت فیض احمد فیض یہاں کے پرنسپل ہوا کرتے تھے۔
انتقال
25 جنوری 1998ء کو دلاور فگار کا انتقال ہوگیا۔ 
تخلیقات
دلاور کی غزلوں کا مجموعہ ’’حادثے‘‘ 1954ء میں چھپا تھا۔ ان کی ایک طویل نظم ’’ابو قلموں کی ممبری‘‘ 1956ء میں کافی مقبول ہوئی۔ ان کی مزاحیہ نظموں، قطعوں اور رباعیوں کا مجموعہ ’’ستم ظریفیاں‘‘ 1963ء میں شائع ہوا۔
 

"دلاور فگار " کی شاعری

1 - شاعر اور شعر

2 - کیا کوئی اونچی سفارش لائے ہو

3 - ریڈیو انٹرویو

4 - دلاور فگار صاحب کی ایک انوکھی نظم

           
>