تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

شاعر بابا بلھے شاہ

بابا بلھے شاہ (1680ء - 1757ء) جن کا اصل نام عبداللہ شاہ تھا اوچ شریف، بہاولپور میں 1680 میں پیدا ہوئے۔ آپ پنجابی صوفی شاعر تھے۔ جب آپ کی عمر 6 ماہ تھی تو آپ کے والدین ملکوال، ضلع منڈی بہاوالدین ہجرت کر گئے۔ آپ کے والد مقامی مسجد کے امام اور استاد تھے۔ بعد میں آپ اعلی تعلیم کے لئے قصور تشریف لے گئے جہاں آپ کے استاد غلام مرتضی تھے۔حقیقت کی تلاش بلھے شاہ کو مرشد کامل حضرت شاہ عنایت قادری کے در پر لے گئی۔ بابا عنایت شاہ قادری کا ڈیرا لاہور ميں تھا۔ آپ ذات کے آرائیں تھے اور کھیتی باڑی اور باغ بانی پر گزارا کرتے تھے۔ شاہ عنایت کی صحبت نے بلھے شاہ کو بدل کر رکھ دیا اور بلھے شاہ بے اختیار پکار اٹھے :
بلھیا جے توں باغ بہاراں لوڑیں
چاکر ہو جا رائیں دے
ایک سید کا ایک معمولی آرائیں کو اپنا مرشد مان لینا کوئی معمولی بات نا تھی۔ بلھے شاہ کو اپنی زات برادری کے لوگوں کی مخالفت اور کئی قسم کے طعنے برداشت کرنے پڑے۔ بلھے شاہ نے ـ بڑی بے خوفی سے اس بات کا اعلان کیا کہ مرشد کامل خواہ کسی ادنا سے ادنا زات میں آیا ہوں ان کا دامن کڑ کر ہی انسان بہر ہستی سے پار اتر سکتا ہے۔ وہ بے دھڑک ہو کر کہتا ہے کہ سید ذات کا غرور کرنے والے دوزح کی آگ میںجلیں گے اور سائیں عنایت جیسے آرائیں کا دامن تھامنے والا روحانی دولت سے مالا مال ہو جائیں گئے۔
 

"بابا بلھے شاہ " کی شاعری

1 - بُلّھا! کِیہ جاناں میں کون؟

2 - ۔ اِک نقطے وِچ گل مُکدی اے

           
>