لاہوردو ہزار بارہ کی طرح اس بار بھارت کی تجوری نہیں بھرے گی۔ پاک بھارت سیریز کے ریونیو میں سے" /> Daily Azad
تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

شاعر محمد رفیع سودا

محمد رفیع سودا 1713ء میں دہلی، بھارت میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد شفیع بہ سلسلہ تجارت ہندوستان میں وارد ہوئے تھے۔ مرزا سودا کی تعلیم و تربیت دہلی میں ہوئی۔ چھوٹی عمر میں شاعری کا شوق پیدا ہوا۔ اور فارسی میں شعر کہنے لگے۔ پھر خان آرزو کے کہنے پر اردو میں طبع آزمائی شروع کی اور سلیمان قلی داد سے اصلاح لی۔ بعد میں شاہ حاتم کے شاگرد ہوئے اور تھوڑے عرصے میں درجہ کمال حاصل کرکے بڑے بڑے استادوں سے خراج تحسین وصول کیا، یہاں تک کہ شاہ عالم کو بھی شاگردی کا شوق ہوا۔ اور اصلاح لینے لگے لیکن تھوڑے ہی عرصے میں زمانے نے پلٹا کھا اور دہلی تباہ ہوگئی۔
مرہٹوں نے لوٹ مار شروع کر دی چنانچہ شعرا و شرفاء دہلی سے نکلنے لگے۔ ناچار سودا نے بھی فرخ آباد نواب بنگش کے یہاں آکر قیام کیا اور سترہ سال تک آسودگی سے یہیں زندگی بسر کی۔ اس وقت مرزا کی عمر ساٹھ سال کی تھی۔ نواب کی وفات پر مرزا لکھنؤ چلے آئے، یہاں نواب شجاع الدولہ نے بڑی قدر کی۔ مگر معمولی سی بات پر ناراض ہو کر چلے آئے اور پھر دوبارہ دربار نہ گئے۔ یہاں تک کہ آصف الدولہ مسند آراء ہوئے۔ وہ مرزا پر بڑے مہربان تھے۔ چھ ہزار سالانہ وظیفہ مقرر ہوا اور ملک الشعراء کا خطاب ملا۔
'مرزا رفیع نام پیدائش مابین1118ھ و1120ھ مطابق1706ء و1708ء بزرگوں کا پیشہ سپہ گری تھا ۔ باپ سبیل تجارت ہندوستان وارد ہوئے تھے سوداؔ پہلے سلیمان علی خاں و داؤدبعد کو شاہ حاتمؔ کے شاگرد ہوئے خان آرزو کی صحبت سے بھی فائدے حاصل کئے ۔ خصوصاً اردو میں شعر گوئی انہیں کے مشورے سے شروع کی ۔ محمد شاہ بادشاہ کے زمانے میں ان کی شاعری عروج پر تھی کئی روسا کے ہاں ان کی قدر ہوتی تھی ۔ خصوصاً بسنت خاں خواجہ سرا و مہربان خان زیادہ مہربان تھے ۔ جب احمد شاہ ابدالی اور مرہٹوں کے حملوں سے دہلی تباہ و برباد ہوگئی تو سوداؔ نے باہر کا رخ کیا ۔1134ھ مطابق1721ء میں عمادالملک کے پاس متھرا گئے ۔پھر اسی سال فرخ آباد میں نواب مہربان خاں امید کے یہاں تقریبا22برس رہے ۔ وہاں سے 1182ھ ،1770میں نواب کے انتقال پر شجاع الدولہ کے زمانے میں فیض آباد پہونچے پانچ سال بعد جب آصف الدولہ تخت نشیں ہوئے اور اپنا پایۂ تخت لکھنؤ میں منتقل کیا تو یہ بھی ان کے ہمراہ لکھنؤ آگئے یہاں ان کی زندگی با فراغت بسر ہوئی چھ ہزار (6000)روپے سالانہ مقرر تھے ۔ تقریبا 76برس کی عمر میں 4رجب (جمادی الثانی) 1195ھ1781میں انتقال ہوا ۔ 

"محمد رفیع سودا " کی شاعری

1 - ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کا

2 - مقدور نہیں اس کی تجلّی کے بیاں کا

           
>