اسلام آباد پاک فضائیہ کا ایف ٹی 7 طیارہ گر کر تباہہوگیاجس کے نتیجے میں ; خاتون فلائنگ آفیسر مر" /> Daily Azad
تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

شاعر ماہر القادری

مولانا ماہر القادری
پیدائشی نام منظور حسین
ماہر القادی (پیدائش: 30 جولائی، 1907ء - وفات: 12 مئی 1978ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور شاعر، صحافی، محقق اور نقاد تھے۔
حالات زندگی
ماہر القادری30 جولائی، 1907ء کو بلند شہر، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام منظور حسین تھا۔انہوں نے عملی زندگی کا آغاز حیدر آباد دکن سے کیا، پھر بجنور چلے گئے۔ جہاں مدینہ بجنور اور غنچہ کے مدیر رہے۔ زندگی کا بڑا حصہ حیدرآباد دکن، دہلی، بمبئی میں گزرا اور پھر مستقل قیام کراچی میں رہا۔ چند ماہ ملتان میں بھی گزارے۔ اس کے علاوہ سیر و سیاحت کا بارہا اتفاق ہوا۔ 1928ء میں ریاست حیدرآباد کے مختلف محکموں میں کام کرنے کا موقع ملا۔ قیام حیدرآباد کے دوران میں جب نواب بہادر یار جنگ کی تقاریر کا طوطی بولتا تھا، نواب صاحب نے قائد اعظم سے ان کا تعارف یوں کرایا میری تقریروں اور ان (ماہرالقادری) کی نظموں نے مسلمانانِ دکن میں بیداری پیدا کی ہے۔
1943ء میں حیدرآباد سے بمبئی منتقل ہوگئے۔ وہاں فلمی دنیا میں کچھ عرصہ گزارا۔ کئی فلموں کے گیت لکھے جو بڑے مقبول ہوئے۔ اپنے فلمی تعلق پر وہ کبھی نازاں نہ رہے ۔اس پر ان کا تبصرہ ان کے الفاظ میں سنیے چند دن فلمی دنیا سے بھی تعلق رہا۔ فلمی دنیا میں میرے لیے شہرت اور جلب منفعت کے بعض زرّیں مواقع حاصل تھے، مگر اللہ کا بڑا فضل ہوا کہ میں اس دلدل سے بہت جلد نکل آیا۔ اس چند روزہ فلمی تعلق پر آج تک متاسّف ہوں۔
قیام پاکستان کے بعد انہوں نے کراچی میں مستقل سکونت اختیار کی اور علمی جریدے فاران کا اجرا کیا جو ان کی وفات کے کچھ عرصہ بعد تک جاری رہا۔[2]
تصانیف
مولاناماہر القادری کے شعری مجموعوں میں ظہورِ قدسی (نعتیہ مجموعہ)، طلسمِ حیات ، محسوساتِ ماہر، نغماتِ ماہر، نقشِ توحید اور جذباتِ ماہر شامل ہیں[1]۔ 1954ء میں ماہر القادری نے حج کے مشاہدات و تاثرات پر کاروان حجاز کے نام سے کتاب تحریر کی۔ماہر القادری کے فن و شخصیت پر کتب ومقالہ جات۔۔ماہر القادری حیات اور ادبی کارنامے (پی ایچ ڈی مقالہ)، عبدالغنی فاروق، پنجاب یونیورسٹی،1990ء
نمونہ کلام فارسی
وفات
ماہر القادری 12 مئی، 1978ء کو جدہ کے ایک مشاعرہ کے دوران انتقال کرگئے اور مکہ مکرمہ میں جنت المعلیٰ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
 

"ماہر القادری " کی شاعری

1 - مجاز ہی کو حقیقت بنائے جاتے ہیں

2 - میری امیدوں کی دنیا مل گئی

           
>