لاہوراسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں سزا پانے والے کرکٹرز سلمان بٹ اور محمد آصف طلبہ کو لیکچر دینے ل" /> Daily Azad
تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

شاعر وسیم بریلوی

 
وسیم بریلوی
پیدائشی نام: زاہد حسن
8 جولائی 1940 
یوپی بھارت
پیشہ اردو شاعر
تعلیم پی ایچ ڈی
مادر علمی آگرہ یونیورسٹی
وسیم پریلوی کا حقیقی نام زاہد حسن ہے۔ ان کا تخلص وسیم ہے۔ وہ 8 فروری 1940ء کو بریلی (یوپی) بھارت میں پیدا ہوئے۔
تعلیم
وسیم نے آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے (اردو) کیا۔ اسکولی دور سے ایم اے تک انھوں نے تعلیم میں امتیازی مقام حاصل کیا
ابتدائی ملازمت
وسیم نےدہلی یونیورسٹی سے ملازمت کا آغاز کیا۔ بعد میں وہ بریلی کالج کے شعبہ اردو سے جڑگئے۔ دیگرذمے داریوں میں وہ روہیل کھنڈ یونیورسٹی میں ڈین آف فیکلٹی آرٹس بھی رہے۔
وسیم پر تحقیق
پروفیسر وسیم بریلوی کے فن اور شخصیت پر ڈاکٹر جاوید نسیمی(بھارت) نے مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
ادبی زندگی
وسیم بریلوی کی ادبی خدمات کا آغاز 1959ء سے ہوا۔ ان کی تصانیف اس طرح ہیں:’’تبسم غم‘‘’’آنسو میرے دامن میں‘‘(شعری مجموعہ۔دیوناگری رسم الخط میں)’’مزاج‘‘’’آنسو آنکھ ہوئی‘‘’’پھرکیا ہوا‘‘(مجموعہ کلام)۔
اعزازات
’’مزاج‘‘ پر اردو اکیڈمی لکھنؤ کی جانب سے اعلی تحقیقی ایوارڈ سے نوازے کئےمیراکادمی کی جانب سے ’’امتیاز میر‘‘ ایوارڈ سے نوازے کئے۔
 

"وسیم بریلوی " کی شاعری

1 - میں اِس اُمید پہ ڈوبا کہ تو بچا لے گا

2 - وہ میرے گھر نہیں آتا میں اس کے گھر نہیں جاتا

3 - محبت ناسمجھ ہوتی ہے سمجھانا ضروری ہے

           
>