اسلام آباد(آن لائن)الیکشن کمیشن نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات میں سمارٹ فونز ٹیکنالوجی " /> Daily Azad
تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

شاعر قتیلؔ شفائی

برعظیم پاک و ہند میں بہت کم شعرا ایسے ہوں گے، جنھوں نے نہ صرف ایک غزل گو کی حیثیت سے زبردست شہرت حاصل کی بل کہ فلمی گیت نگاری میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا ۔ قتیلؔ شفائی کا نام اُن معدود ے چند شعرا میں سے ایک ہے ۔24دسمبر 1919ء کو ہری پور ہزارہ (خیبر پختونخوا) میں پیدا ہونے والے قتیلؔ شفائی کا اصل نام اورنگزیب خان تھا ۔ قتیلؔ اُن کا تخلص تھا جب کہ حکیم محمد شفائی اُن کے اُستاد تھے ، اس حوالے سے وہ قتیل ؔشفائی کے نام سے پہچانے جاتے تھے ۔ قتیلؔ شفائی بنیادی طور پر ایک رومانوی شاعر تھے۔ ندرتِ خیال ، رچائو اور غنائیت اُن کے وہ شعری اوصاف ہیں، جن سے انکار ممکن نہیں ۔ اُن کی شاعری میں جمالیاتی طرزِ احساس ،جس بھرپور توانائی اور تنوع کے ساتھ نظر آتا ہے ،اس کی مثال بہت کم ملتی ہے ۔ جمالیاتی طرزِ احساس کے ساتھ اُنھوں نے شعری طرز ِاحساس کو بھی نظر انداز نہیں کیا ۔اُن کے شعری مجموعے ’’گفت گو ‘‘ میں فیض احمد فیضؔ نے انھی دو اوصاف کی وجہ سے قتیلؔ صاحب کو زبردست خراج ِتحسین پیش کیا : ’’ رومانیت کوانوکھے تخیل کی چادر میں لپیٹ کر انتہائی خوبصورت اور شستہ اُسلوب میں بیان کر دینا قتیلؔ شفائی کا بہت بڑا کارنامہ ہے‘‘ ۔ اب اُن کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیے : یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے وہ میرا دوست ہے سارے جہاں کو ہے معلوم دغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے قتیل ؔشفائی کی رومانوی شاعری جب سلاست اور شگفتگی کا روپ دھارتی ہے، تو قاری کو مسرت و انبساط کی نئی وادیوں میں اُتار دیتی ہے ۔ اس کے ساتھ وہ حیرت و استعجاب کے دروازے بھی کھول دیتی ہے ۔ مندرجہ ذیل اشعار قاری کو تاثریت کے مختلف زاویوں سے آشنا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں: مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو ۔ وہ شخص کہ میَں جس سے محبت نہیں کرتا ہنستا ہے مجھے دیکھ کے نفرت نہیں کرتا قتیلؔ شفائی نے ایک دفعہ کہا تھا کہ جو شاعر عصری صداقتوں اور سماجی و سیاسی عوامل کوارادتاً اپنی شاعری کا موضوع نہیں بناتا ،وہ بد دیانتی کا مرتکب ہوتا ہے ۔ بسا اوقات اُس کی یہ کوتاہی نا قابل معافی جرم بن جاتی ہے ۔ اُن کی اس بات کی تصدیق ،اُن کے مندرجہ ذیل اشعار سے بخوبی ہو جاتی ہے : سچ بات پہ ملتا ہے سدا زہر کا پیالہ جینا ہے تو پھر جرأتِ اظہار نہ مانگو ۔۔۔۔۔دُنیا میں قتیلؔ اُس سا منافق نہیں کوئی جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا قتیلؔ شفائی نظم کے شاعر نہیں تھے، لیکن اُن کی ایک نظم صرف دو الفاظ پر مشتمل ہے، جو قاری کو حیرت کے سمندر میں ڈبو دیتی ہے ۔دو الفاظ پر مشتمل اُن کی یہ نظم ’’سہل ِ ممتنع ‘‘ کا وہ شاہکار ہے، جس کی نظیر نہیں ملتی ۔ ذرا دیکھئے: پیسے کیسے ؟ قتیلؔ شفائی کی شاعری کی دوسری اہم جہت اُن کی فلمی نغمہ نگاری ہے، جس نے اُنھیں بے پناہ شہرت عطا کی ۔ قتیلؔ صاحب نے اَن گنت فلمی گیت لکھے ۔ کچھ نقادوں کے نزدیک اُن کی شہرت فلمی گیت نگاری کی وجہ سے زیادہ تھی ۔ قتیلؔ شفائی کے فلمی نغمات میں بھی رچائو ، رومانویت اور غنائیت کا عنصر غالب تھا ۔اُن کی بڑی خوبی یہ ہے کہ اُنھوں نے فلمی گیتوں میں معیار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا ۔ عظیم سنگیت کار خواجہ خورشید انور نے اُن کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ اپنی دھنوں کے لیے قتیل ؔشفائی کے نغمات کو اس لیے پسند کرتے تھے کہ اُنھوں نے معیار کا دامن نہیں چھوڑا ۔ قتیلؔ شفائی نے صرف پاکستانی فلموں کے لیے ہی نہیں بل کہ بھارتی فلموں کے لیے بھی گیت تخلیق کیے ۔ وہ بھارتی فلمی صنعت میں بھی بہت مقبول تھے ۔ ذیل میں قتیلؔ شفائی کے چند لازوال گیتوں کے بول لکھے جا رہے ہیں، جو اُن کی فنی عظمت کی گواہی دیتے ہیں : ٭زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں ٭یہ محفل جو آج سجی ہے، اس محفل میں ہے کوئی ہم سا ٭ہر آدمی الگ سہی مگر امنگ ایک ہے ٭کیوں ہم سے خفا ہو گئے اے جان تمنا ٭یہ وادیاں یہ پربتوں کی شہزادیاں ٭ہم سے بدل گیا وہ نگاہیں تو کیا ہوا ٭پریشاں رات ساری ہے، ستارو تم تو سو جائو ٭جھوم اے دل وہ مرا جان بہار آئے گا ٭کہاں ہو تم سہیلیو، آواز دو ٭حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں قتیلؔ شفائی کی بطورِ نغمہ نگار آخری فلم ’’ گھر کب آئو گے ‘‘ تھی ۔ 11جولائی 2001ء کو طویل علالت کے بعد ہمارا یہ لاجواب شاعر اور گیت نگار موت کی وادی میں اُتر گیا ۔ اُن کی وفات پر احمد ندیم قاسمی نے کیا خوب کہا: ’’جو کام قتیلؔ نے کیا بس وہ اسی کا تھا ‘‘ ۔ ٭…٭…٭
 
 

"قتیلؔ شفائی " کی شاعری

1 - نہ جانے کن اداؤں سے لبھا لیا گیا مجھے

2 - تمہاری انجمن سے اُٹھ کے دیوانے کہاں جاتے

3 - جب تصور مرا چُپکے سے تجھے چھُو آئے

4 - قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے

5 - ہم اپنی شام کو جب نذرِجام کرتے ہیں

6 - ڈھل گیا چاند، گئی رات، چلو سو جائیں

7 - سورج مرے دل میں جل رہا ہے​

8 - کُھلا ہے جُھوٹ کا بازار، آؤ سچ بولیں

           
>