سڈنی (نیوز ڈیسک ) ہانگ ک" /> Daily Azad

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

شاعر اکبر الہ آبادی

الٰہ آباد کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔آپ کا اصل نام سید اکبر حسین تھا اور تخلص اکبر تھا۔ آپ 1846ء مین پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سرکاری مدارس میں پائی اور محکمہ تعمیرات میں ملازم ہوگئے۔ 1869ء میں مختاری کا امتحان پاس کرکے نائب تحصیلدار ہوئے۔ 1870ء میں ہائی کورٹ کی مسل خوانی کی جگہ ملی۔ 1872ء میں‌وکالت کا امتحان پاس کیا۔ 1880ء تک وکالت کرتے رہے۔ پھرمنصف مقرر ہوئے ۔ 1894ء میں عدالت خفیفہ کے جج ہوگئے۔ 1898ء میں خان بہادر کا خطاب ملا۔ 1903ء میں ملازمت سے سبکدوش ہوگئے۔ انہوں نے جنگ آزادی ہند 1857ء، پہلی جنگ عظیم اور گاندھی کی امن تحریک کا ابتدائی حصہ دیکھا تھا۔
ابتداء میں خواجہ حیدرعلی آتش سے اصلاح لی۔ پھر اپنا الگ رنگ پیدا کیا۔ ان کی شہرت ظرافت آمیز اور طنزیہ اشعار پر مبنی ہے۔ مشرقیت کے دلدادہ اور مغربی تہذیب کی کورانہ تقلید کے سخت خلاف تھے۔ مغرب زدہ طبقے کو طنز و مزاح کی چٹکیاں لے کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرتے تھے۔ کلام میں مس، سید ، اونٹ ، کالج، گانے ، کلیسا، برہمن ، جمن ، بدھو میاں مخصوص اصطلاحیں اور علامتیں ہیں۔ مخزن لاہور نے انھیں لسان العصر خطاب دیا۔ مبطوعہ کلام تین کلیات پر مشتمل ہے۔ دو ان کی زندگی میں شائع ہوگئے تھے۔ تیسرا انتقال کے بعد شائع ہوا۔اکبر الہ آبادی اردو کے سب سے بڑے طنزیہ شاعر مانے جاتے ہیں،اکبر الہ آبادی کا دور ہندوستان پہ انگریزوں کے قبضہ کا دور تھا،اس دور میں مسلمانوں کی تہذیب اور اقدار کو مسخ کرنے کی شدید کوشیش کی گئیں،اکبر الہ آبادی نے اپنی شاعری میں ان غیر اسلامی رسوم اور چیزوں کو نشانہ ِ تنقید بنایا جو اسلامی حوالے یا اسلامی اقدار اور تہذیب کی رو سے قابلِ اعتراض تھیں اکبر الہ آبادی نے سنجیدہ شاعری بھی بہت اچھی کی ہے۔
نئی تہذیب سے ساقی نے ایسی گرمجوشی کی
کہوں کس سے قصۂ درد و غم، کوئی ہمنشیں ہے نہ یار ہے
انہیں شوق عبادت بھی ہے اور گانے کی عادت بھی
اکبر الہ آبادی کے طنزیہ اشعار
اے بُتو بہرِخُدا درپئے آزار نہ ہو
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارہ نہیں ہوتا
آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے
 
 

"اکبر الہ آبادی " کی شاعری

1 - یاں نہ وہ نعرۃء تکبیر نہ وہ جوشِ سپاہ

2 - تو اگر عہد وفا باندھ کے میری ہو جائے

3 - ہائے وہ حسن وہ شوخی وہ نزاکت وہ ابھار

           
>