اسلام آباد(نیو ز ڈیسک )" /> Daily Azad

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

شاعر تابش دہلوی

مسعود الحسن تابش دہلوی دبستان دہلی کے آخری چراغ، اردو کے مایہ ناز غزل گو شاعر، دانشور اور براڈکاسٹر تھے۔ تابش دہلوی اپنے مخصوص لب و لہجے کے باعث معروف ہیں۔
پیدائش و تعلیم
تابش دہلوی نے 9 نومبر 1910ء کو دہلی کے علمی گھرانے میں جنم لیا ۔ ابتدائی تعلیم اپنی والدہ سے حاصل کی۔ اس کے بعد حیدرآباد دکن سے ثانوی تعلیم حاصل کی۔ تقسیم ہند کے بعد کراچی آئے اور 1958ء میں کراچی یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔
ملازمت
1939ء میں آل انڈیا ریڈیو سے منسلک ہوئے۔ تابش کا آڈیشن پطرس بخاری نے لیا اور انہیں پروگرام اناؤنسر کے لیے منتخب کیا جس کے کچھ عرصے بعد انہوں نے خبریں بھی پڑھنا شروع کیں۔ ریڈیو کے لئے 3 جون 1947ء کو قیام پاکستان کے تاریخی اعلان کی خبر تابش صاحب ہی نے ترتیب دی تھی۔ تقسیم ہند کے بعد 17 ستمبر 1947ء کو ہجرت کر کے پاکستان آگئے اور اپنی زندگی ریڈیو پاکستان کے لئے وقف کر دی ۔
ادبی خدمات
تابش دہلوی نے پہلا شعر تیرہ برس کی عمر میں کہا تھا جب کہ ان کی پہلی نظم یا غزل 1931ء میں دہلی کے مشہور جریدے ساقی میں شائع ہوئی۔ 1932ء میں پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ شاعری میں انھوں نے فانی بدایونی سے اصلاح لی۔ تابش بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے۔ غزل کی صنف کے علاوہ تابش دہلوی نے نعت، مرثیہ، ہائیکو، آزاد نظم، گیت اور قومی نغمے بھی تخلیق کئے۔
تخلیقات
تابش دہلوی کے مندرجہ ذیل 6 شعری مجموعے اور 1 نثری مجموعہ شائع ہوچکے ہیں۔
دیدہ بازدید (مضامین)نمروز ( 1963ء ) شاعری چراغِ سحر ( 1982ء ) شاعری  غبارِ انجم ( 1984ء ) شاعری تقدیس ( 1984ء ) شاعری ماہِ شکستہ ( 1993ء ) شاعری دھوپ چھاؤں ( 1996ء ) شاعری
 

" تابش دہلوی " کی شاعری

1 - ربط کیا جسم و جاں سے اٹھتا ہے

2 - بارِ حیات اٹھائیے تنہا اٹھائیے

3 - موسمِ ہجر و وصال اچھا ہے

4 - آسماں سر پہ ہے جہاں جاؤں

5 - کبھی ایک دجلہ ہے خون کا کبھی ایک بوند لہو کی ہے

           
>