تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

شاعر آغا حشر کاشمیری

آغا محمد حشر ابن آغا غنی شاہ بنارس میں 1879ء میں پیدا ہوئے تعلیم و تربیت بنارس میں ہوئی۔ آپ کے والد مذہبی معاملات میں قدامت پسند تھے۔ اس لیے آغا حشر ابتداء میں انگریزی تعلیم سے محروم رہے۔ دینیات کی تعلیم مولوی عبدالصمد سے حاصل کی اور سولہ پارے حفظ کیے۔آغا حشر موزوں طبیعت رکھتے تھے۔ چھوٹی عمر میں شعر کہنے لگے اور فائز بنارسی کو کلام دکھانے لگے۔ مہدی حسن احسن لکھنوی مشہور ڈرامہ نویس سے جھڑپ ہوجانے پر ڈرامہ نگاری کا خیال پیدا ہوا۔ چنانچہ 1897 میں آپ کا پہلا ڈرامہ (آفتاب محبت) کے نام سے شائع کیا جو بہت مقبول ہوا۔ آغا حشر نے انیس سال کی عمر میں ڈرامہ نگاری میں نام پیدا کر لیا تھا تاہم وہ آگے چل کر اردو زبان کے شیکسپئر کہلائے۔ آغا حشر نے انگریزی زبان سیکھی اور شیکسپئر اور دیگر غیر ملکی ڈرامہ نویسیوں کے ڈرامے پڑھے اور بعض کا اردو میں ترجمہ کیا۔ آپ نے نظمیں بھی لکھیں اور غزلیں بھی لکھیں۔ 1935ء میں لاہور میں فوت ہوئے اور یہیں دفن ہوئے۔آغا حشر نے بے شمار ڈرامے لکھے جن میں خواب ہستی ، رستم و سہراب، مرید اشک، اسیر حرص، ترکی حور، آنکھ کا نشہ ، یہودی کی لڑکی، خوبصورت بلا، سفید خون بہت مشہور ہوئے۔
آغ۔احشرؔکاشمیری کے حالاتِ زندگی اورشخصیت​
آغا محمد شاہ نام ، حشرؔ تخلص ، والدکا اسمِ گرامی آغا غنی شاہ تھا۔ آغا غنی شاہ کے ماموں سید احسن اللہ شاہ اور بڑے بھائی عزیزاللہ شاہ شالوں کی تجارت کے سلسلے میں سری نگر سے بنارس آئے اور پھر یہیں مستقل سکونت اختیار کی ۔سید احسن اللہ شاہ نے کچھ عرصہ بعد آغا غنی شاہ کو بھی بنارس بلا لیا اور اپنی سالی سے شادی کر دی ۔ آغا حشرؔ کی پیدائش یکم ا پریل ۱۸۷۹ ء کوبنارس میں ہوئی۔ 
حشرؔ کے برادرِخورد آغا محمودشاہ کاشمیری حشرؔکی پیدائش کے بارے میں لکھتے ہیں ’’آغا محمد شاہ حشرؔ یکم ا پریل ۱۸۷۹ء جمعہ کے روز ناریل بازار محلہ گوبند کلاں شہر بنارس میں پیدا ہوئے۔ زندگی بھر انھوں نے اپنی وطنیت کو اپنی ذات سے علیحدہ کرنا پسند نہ کیا اور خود کو ہمیشہ کاشمیری کہتے اور لکھتے رہے ‘‘۔ (۱۰)
حشرؔکی عربی وفارسی کی تعلیم گھر پر ہوئی اور انگریزی تعلیم انھوں نے جے نرائن مشن اسکول بنارس میں حاصل کی ۔
آغا حشرؔ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ وہ نہ صرف اعلیٰ درجے کے مایۂ ناز ڈراما نگار تھے بلکہ باکمال شاعر ، شعلہ بیان مقرر اور خطیب بھی تھے ۔ ان کی تعلیم تو واجبی ہی تھی مگر ذاتی مطالعے کی بنا پر انھوں نے اردو ، فارسی اور ہندی میں فاضلانہ استعداد حاصل کر لی تھی ۔ ان زبانوں کے علاوہ انھیں عربی ، انگریزی، گجراتی اور بنگلہ کی بھی خاصی واقفیت تھی۔انھیں مطالعے کا بے انتہا شوق تھا،یہاں تک کہ جس پڑیا میں سودا آتا تھا اس کو بھی پڑھ ڈالتے تھے۔ مطالعے کے ساتھ ساتھ حافظہ بھی بلاکاپایاتھا۔یہی وجہ تھی کہ مختلف موضوعات پر بڑے اعتماد اوربے تکلّفی سے گفتگو کرتے خواہ وہ موضوعات ادب سے متعلق ہوتے یا مذہب سے یا سیاست سے ۔
حشرؔ مشرقی تہذیب کے دل دادہ تھے ۔ مغربی تہذیب سے انھیں سخت نفرت تھی۔ملک کی سیاسی اورقوم کی زبوں حالی پر ان کا حسّاس دل تڑپ اٹھتاتھا۔ حب الوطنی اور حصولِ آزادی کا جذبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔ مغربی تہذیب ومعاشرت کی کورانہ تقلید انھیں انتہائی نا پسند تھی ۔ ان کے کئی ڈرامے ان نظریات کی ترجمانی کرتے ہیں ۔ حشر ایک طرف مشرقی اقدار کے پرستار اور دوسری طرف جذبۂ اسلام سے سرشار تھے۔’’شکریۂ یورپ‘‘ اور ’’موجِ زمزم‘‘ ان کی وہ بے مثال نظمیں ہیں جن کا ایک ایک لفظ اسلام سے محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے۔ یہ نظمیں زبان وبیان ، فنّی کاریگری ، ادبی لطافت اور ابلتے ہوئے جذبات کا حسین امتزاج اور شاہکار ہیں۔ان نظموں میں علامہ اقبالؔ کا رنگ غالب ہے ۔
آغا حشرؔ کے زورِخطابت اورتقریرکا ا عتراف ان کے دوست تو کرتے ہی تھے مگر حریف بھی ان کی قابلیت کا لوہا مانتے تھے۔ ’’انجمن حمایتِ اسلام‘‘ لاہور کے جلسوں اور بمبئی کی مجالسِ مناظرہ میں روح پرور تقریروں کی بدولت حشرؔ سامعین کے دلوں پر چھا جاتے ۔ مناظروں میں مبلغین اور آریہ سماجیوں کے چھکّے چھڑا دیتے ۔ ان مناظروں میں حشرؔ کے ساتھ مولانا ابو الکلام آزاد ، سجّادؔ دہلوی، خوا جہ حسنؔ نظامی، مولانا ابوالنصرؔ اور نذیرحسین سخاؔ ہوتے جن کے سامنے مخالفین گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتے۔اسلام کی تبلیغ اور اس کے تحفظ کے لیے آغا حشرؔنے ہمیشہ مذہبی جوش اورسرگرمی کا ثبوت دیا۔’’انجمنِ حمایتِ اسلام‘‘ لاہور کے جلسے میں جس وقت انھوں نے ’’ شکریۂ یورپ‘‘ کے مناجات والے بند کا پہلا شعر پڑھا ؂
آہ جاتی ہے فلک پر رحم لا نے کے لیے
بادلو ! ہٹ جاؤ دے دو راہ جانے کے لیے
تو سامعین کے ہاتھ بے اختیار دعا کے لیے اُٹھ گئے اور آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب جاری ہو گیا۔
آغا حشرؔ خلیق اور با مروت ، وسیع القلب اور وسیع الذہن انسان تھے غرور وتکبّر سے انھیں سخت نفرت تھی۔ سخن فہموں کے قدر دان تھے ۔ لطیفہ گوئی اور بذلہ سنجی میں ان کا کوئی ہمسر نہ تھا۔ ان کا کما ل یہ تھا کہ لطیفوں اور چٹکلوں میں خشک سے خشک بحث بھی اس طرح کرتے کہ سننے والا متاثر ہو جاتا ۔ دوسروں کی مدد کرنا ان کا شیوہ تھا ۔ ان کے غصے میں بھی پیار تھا۔ حشرؔ گالیاں دینے میں بڑے ماہر تھے ۔ حتیٰ کہ مشہورفن کارہ اور گلو کارہ مختار بیگم کو جنھیں وہ اپنی جان سے زیادہ چاہتے تھے گالیاں دینے سے نہ چوکتے ۔ اس فن کارہ نے ان کی زندگی اور ڈراما نگاری میں بڑا اہم رول ادا کیا تھا۔ حشرؔ نے ان سے شادی کر کے اپنی بے پناہ محبت کا ثبوت دیا۔ بقول مختار بیگم مرحومہ ’’میں جب ان کی زندگی میں داخل ہو گئی تو انھوں نے بتایا کہ میں ساری زندگی اپنے آپ کو مصرع سمجھتا رہا ۔ تمھارے ملنے سے شعربن گیاہوں، میری نا مکمل زندگی کے ساتھ ساتھ تم نے میری شاعری کوبھی مکمل کر دیا ہے۔ اب میری تحریر اس قدر بلندی پر جاپہنچی ہے کہ مجھے کوئی دوسرا نظر ہی نہیں آتا ‘‘۔ (۱۱) 
حشرؔ شراب کے عادی تھے لیکن آخری عمر میں انھوں نے منہ سے لگی ہوئی اس کافر کو چھوڑدیا تھا اور پھر کبھی نہ پی۔
حشرؔکی آخری عمر لاہورمیں گزری۔وہ زندگی کے اخیردنوں میں بیمار تھے اورحکیم فقیر محمد چشتی کے زیرِ علاج رہے جو ان کے عزیز ترین دوستوں میں سے تھے ۔ وہ اپنے ڈرامے بھیشم پر تگیا (بھیشم پتاما) ‘‘ کو فلمانے کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ۲۸! اپریل۱۹۳۵ ء کو پیغامِ اجل آپہنچا۔ لاہور میں قبرستان میانی صاحب میں سپردِخاک کیے گئے۔ یہیں آغا حشرؔکی بیوی بھی دفن ہیں۔
حشرؔکے انتقال پرابوالاثرحفیظؔجالندھری،حکیم محمدیونس،پنڈت نرائن پرشاد بیتابؔ بنارسی اور فرحت اللہ بیگ نے قطعات اور تاریخِ وفات کہی۔ بیتابؔ نے حشرؔ کے فن کی عظمت کا اعتراف اور ان کی وفات پر اپنے جذبات کا اظہار اس طرح کیا ہے ۔
اے حشرؔ کہ تو رقیبِ فن تھا میرا
آخر مجھے تو نے جیت کر ہی چھوڑا
لکھنے میں تو تھا ہی توٗ ہمیشہ آگے 
مرنے میں بھی بیتابؔ سے پیچھے نہ رہا
ناٹک جو لکھا ملک میں مقبول ہوا
فقرہ جو تراشا وہی منقول ہوا
تھا رنگِ زباں بھی اس قدر معنی خیز
اسٹیج پہ تھوکا بھی تواک پھول ہوا
آغا حشرؔ کا فنِ تمثیل نگاری​
آغا حشرؔکو ڈرامے سے ذہنی لگاؤ اورطبعی مناسبت تھی۔ان کے دورانِ تعلیم بنارس میں الفریڈ کمپنی پہنچی ۔ اس زمانے میں ڈرامے کی دنیا میں میر حسن احسنؔ لکھنوی کا بڑا شہرہ تھا ۔ اس کمپنی کے دکھائے گئے کھیلوں میں سب سے زیادہ کامیابی احسنؔ کے ’چندراؤلی‘کوملی۔حشرؔبھی کھیل دیکھنے جاتے تھے، چنانچہ ان کی سوئی ہوئی صلاحتیں جاگ اٹھیں اور انھوں نے ’’ آفتابِ محبت‘‘ کے نام سے اپنا پہلا ڈراما لکھا۔گویا ان کی ڈراما نگاری کے سفرکا یہ آغاز تھا۔حشرؔنے کمپنی کے مالک کوجب اپنا یہ ڈراما دکھا یا تو اس نے اُسے اسٹیج کرنے سے انکارکر دیا ۔ مالک کے رویے اور اس کے انکار کا ردِعمل حشرؔ پر یہ ہوا کہ انھوں نے اپنی پوری زندگی ڈراما نگاری کے لیے وقف کر دی اور کچھ ہی عرصے بعد وہ اسٹیج کی دنیا پر چھا گئے ۔ حشرؔ کا یہ پہلا ڈراما ، اسٹیج تو نہ ہو سکا لیکن ’’ بنارس کے جواہراکسیر کے مالک عبد الکریم خاں عرف بسم اللہ خاں نے ساٹھ روپے میں خرید لیا اور اپنے پریس میں چھاپ ڈالا۔ سال طباعت ۱۸۹۷؁ء ہے ‘‘۔(۱۲)
متعدد وجوہ ایسی تھیں کہ حشرؔ بنارس میں رہ کر نہ تو فنِ تمثیل نگاری کی خدمت کر سکتے تھے اور نہ اپنے طبعی رجحان اور جذبے کی تکمیل کر سکتے تھے۔دوسرے اس زمانے میں شرفا ڈراما دیکھنا پسند کرتے تھے نہ اس کے فن کو سراہتے تھے بلکہ اس میں شریک ہونا بھی باعثِ عار سمجھتے تھے ۔ تیسرے ڈرامے کو ادبی اور علمی کام نہیں سمجھا جاتا تھا ۔ اس لیے حشرؔ اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے کے لیے بنارس چھوڑکر بمبئی چلے گئے ۔ ’’ بمبئی میں کاؤس جی کھٹاؤنے ۳۵روپے ماہانہ پر آغا صاحب کو اپنی کمپنی میں ملازم رکھ لیا ۔ یہ آغا حشرؔ کی تمثیل نگاری کا سنگِ بنیاد تھا ‘‘۔(۱۳) اس کے بعد انھوں نے اردشیردادا بھائی ٹھونٹی کی کمپنی میں ملازمت کی ۔کچھ عرصہ ا لفریڈ ٹھیئٹریکل کمپنی سے وابستہ رہے ۔ نیو الفریڈ تھیئٹریکل کمپنی کے تو وہ خاص ڈراما نگار تھے ۔ حشرؔ کے ڈرامے پارسی اسٹیج پر عرصۂ دراز تک کھیلے جاتے رہے جس سے حشرؔ کی شہرت میں چار چاند لگ گئے اور کمپنیوں کو بھی خوب مالی فائدہ ہوا ۔ حشرؔ نے اپنی ایک کمپنی حیدر آباد میں قائم کی لیکن یہ بند ہو گئی۔ ۱۹۱۲ء یا ۱۹۱۳ء میں لاہو رمیں اپنی دوسری کمپنی’ ’انڈین شیکسپیرتھیئٹریکل کمپنی‘‘ کے نام سے بنائی لیکن کچھ عرصے بعد یہ کمپنی بھی بند ہو گئی۔ 
۱۹۱۴ء میں آغا حشرؔکی رفیقۂ حیات کا انتقال لاہور میں ہو گیا۔ ناسازگاریٔ حالات کی وجہ سے وہ کلکتہ چلے گئے ۔ علم الدین سالک لکھتے ہیں کہ’’ کلکتہ میں آغا صاحب جے ۔ایف۔میڈن کے پاس گیارہ روپیہ ماہوار پرملازم ہو گئے اور کئ برس وہاں مقیم رہے‘‘۔(۱۴) اس دوران حشرؔ نے زیادہ تر ہندی ڈرامے لکھے ۔ کلکتہ میں میڈن تھیٹرز میں حشرؔکے ڈراموں کی کامیابی کے بارے میں ممتاز فن کارہ مختار بیگم نے اپنے ایک انٹرویو میں اس طرح اظہارِ خیال کیا ہے ’’آغا حشرؔکے اسٹیج ڈر اموں کی مقبولیت کی وجہ سے میڈن تھیٹرز بہت عروج پر جاچکا تھا۔ آغا صاحب اپنے ڈراموں کی موسیقی خود ہی ترتیب دیتے تھے ۔ حالانکہ وہ گا نہیں سکتے تھے لیکن یہ اُن کی بڑی خوبی تھی کہ وہ اپنے خیالات اشاروں کنایوں سے میوزک ڈا ئرکٹرکوسمجھاکراپنا مقصد پورا کر لیتے تھے اور بہترین طرزیں بنالیتے تھے ۔ ان سب خوبیوں کے باوصف ان میں اچھی آواز کی کمی تھی ۔ ان کے ڈرامے جس قدر معیاری تھے اور جس طرح ان کی بر صغیر میں دھوم مچی تھی ،اس لحاظ سے میڈن والوں کے پاس فنِ موسیقی کی اعلیٰ درجہ کی کوئی فنکارہ نہیں تھی‘‘۔
’’۱۹۲۸ء میں جب یہ کمپنی امرتسرآئی تو آغاحشرؔکے ڈراموں ’’ آنکھ کا نشہ‘‘ ’’ترکی حور‘‘ اور ’’یہودی کی لڑکی‘‘ نے ایک حشر برپا کر دیا‘‘ ۔(۱۵)
علم الدین سالکؔ کا یہ بھی بیان ہے کہ’’۱۹۲۴ء میں آپ نے میڈن تھیئٹرسے قطع تعلق کر لیا اور اپنی کمپنی بناکر آگرہ ، بنارس ، الہ آباد، اور دیگر مقامات کی سیرکی ، ہزہائینس چرکھاری نے آپ کا کھیل دیکھا ۔ پچاس ہزار روپیہ دے کرکمپنی خریدلی اور خود آغا صاحب کی شاگردی اختیار کر لی ۔ یہ کمپنی کچھ عرصے کے بعدپھر آغا صاحب کو عطاکر دی گئی جو بانس بریلی جاکر بند ہو گئی‘‘۔ (۱۶) چرکھاری سے جب دوبارہ کلکتہ پہونچے تو ڈراما کی دنیا ہی بدل چکی تھی ۔ متکلم فلموں نے تھیٹرؤں کا بازار بالکل سرد کر دیا تھا ۔ آغا صاحب نے ’’شیریں فرہاد‘‘کے بعد’’ عور ت کاپیار‘‘ لکھ کر ہندوستانی فلموں میں قابل قدر اضافہ کیا ‘‘ ۔(۱۷) کلکتہ سے آغا حشرؔ لاہور چلے گئے جہاں انھوں نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔
’’شریں فرہاد‘‘ اور ’’عورت کا پیار ‘‘ کے علاوہ حشر نے ’’یہودی کی لڑکی ‘‘ ’’قسمت کا شکار‘‘ ’’چنڈی داس‘‘ ’’دل کی آگ‘‘ ’’شہیدِفرض‘‘ ’’بلوامنگل ‘‘ ’’لوکش‘‘ ’’رستم وسہراب‘‘ او ر ’’بھیشم پتاما‘‘ فلمی ڈرامے لکھے‘‘۔ (۱۸)
دورانِ گفتگو’’عورت کا پیار‘‘ کی مقبولیت کا ذکرکرتے ہوئے مختار بیگم نے راقمہ سے فرمایا تھا کہ یہ ڈراما بہت کامیاب رہا ۔ سب سے زیادہ مشہور ہوا ۔ ایک ایک شہر میں دس دس بار دکھا یا گیا ۔ اس ڈرامے میں یہ غزل میں نے گائی تھی‘‘
چوری کہیں کھلے نہ نسیمِ بہار کی 
 
خوشبو اڑا کے لائی ہے گیسوئے یار کی 
اللہ رکھے اس کا سلامت غرورِحسن
آنکھوں کو جس نے دی ہے سزا انتظار کی
گلشن میں دیکھ کر مرے مستِ شباب کو
شرمائی جارہی ہے جوانی بہارکی
اے میرے دل کے چین مِرے دل کی روشنی 
آ، اور صبح کر دے شبِ انتظارکی 
اے حشرؔ دیکھنا تو یہ ہے چودہویں کا چا ند
یا آسماں کے ہاتھ میں تصویر یار کی(۱۹)
آغا حشرؔ ۳۲ یا ۳۳ سال تک ڈرامے کی خدمت کرتے رہے ۔ انھوں نے بیک وقت اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں ڈرامے لکھ کر اپنی فن کارانہ صلاحیت اور زبان دانی کا لوہا منوالیا۔ آغا جمیل صاحب نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ اردو ہندی ڈراموں کے علاوہ ۱۹۲۲ ء میں اسٹار تھیئٹر یکل کمپنی کلکتہ کے لیے دو ڈرامے ’’اپرادھی کے ‘‘ اور ’’مصر کماری‘‘ بنگلہ زبان میں آغا صاحب نے لکھے تھے جو بہت مقبول ہوئے ‘‘۔ بیتابؔ بنارسی نے آغا حشرؔ کو ہندی میں ڈرامالکھنے کا چیلنج دیا تھا جس کے جواب میں حشرؔ نے ہندی میں ’’بلوامنگل‘‘ (سورداس) ’’بن دیوی عرف بھارت رمنی‘‘ لکھ کر بیتاب کا منہ بند کر دیا ۔ ’’مدھرمرلی‘‘’’ آنکھ کا نشہ‘‘ ’’بھگیرت گنگا‘‘ ’’سیتا بن باس‘‘ اور ’’بھیشم پر تگیا‘‘ کے سامنے تو بیتابؔ کے ہندی ڈراموں کی شہرت ماند پڑگئی۔
حشرؔ نے اپنے کئی ڈراموں کے پلاٹ شیکسپیر اور دوسرے مغربی مصنفین کے ڈراموں سے اخذ کیے ہیں ۔ جیسے ’’اسیرِحرص‘‘ شیریڈن کے ’’پزارو (Pizarro)‘‘ سے، ’’مریدِ شک‘‘ شیکسپیر کے ’’دی ونٹرس ٹیل‘‘ (The Winter's Tale) ‘‘ سے ، ’’صیدِ ہوس‘‘ ’’کنگ جان‘‘ (King John)‘‘ سے ، ’’شہیدِ ناز‘‘ ’’ میثر فارمیثر (Measure For Measure)‘‘ سے ، ’’سفید خون‘‘ ’’کنگ لیئر (King Lear) ‘‘ سے ، ’’خوابِ ہستی ‘‘ ’’میکبتھ (Macbeth)‘‘ سے ، ’’سلورکنگ یا نیک پروین یا اچھوتا دامن یا پاک دامن‘‘ ’’ہنری آرتھر جونز اور ہنری ہیرمین (Henry Arther jones) اورHenry Herman) کے سلورکنگ ‘‘سے ، اور ’’یہودی کی لڑکی ‘‘ ڈبلیو ، ٹی ، مانکریف (W.T.Moncriefe) کے ’’دی جیوس‘‘ (The Jewess)‘‘ سے ماخوذ ہے ۔
حشرؔ نے مندرجہ بالا ڈرا موں کو اردو کا لباس اس طرح پہنایا ہے کہ کہیں ان کے کچھ اجزا بعینہٖ لے لیے ہیں‘کہیں قدرے تبدیلی کے ساتھ انھیں پیش کیا ہے اور کہیں صرف مفہوم پر اکتفا کیا ہے۔ان ڈراموں کے پلاٹ انگریزی ڈراموں سے لیے تو ضرور گئے ہیں مگر حشرؔ نے انھیں ہندوستانی تہذیب ومعاشرت اور ماحول وروایت کا جامہ اس طر ح پہنا یا ہے کہ وہ غیر زبان اورمغربی تہذیب کی دین نہیں معلوم ہوتے بلکہ ان میں مانوس کرداروں اور جانے پہچانے ماحول کی عکاسی ملتی ہے۔ اس کے علاوہ ان میں اپنے طرزِمعاشرت کے نمونے اور ملک وقوم کے ذہنی پس منظر کی ترجمانی بھی ہے اورمشرقی اقدار کی آئینہ داری بھی۔ برخلاف انگریزی ڈراموں کے حشرؔ کے ڈراموں کا انجام طربیہ ہے۔
حشرؔکے چند ڈرامے ایسے ہیں جو قدیم ہندوستانی تہذیب ومعاشرت اور ہندو دیو مالایعنی رامائن اور مہا بھارت کے قصوں پر مبنی ہیں۔جیسے بلوا منگ%2

" آغا حشر کاشمیری " کی شاعری

1 - چوری کہیں کھلے نہ نسیمِ بہار کی

2 - آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کیلئے

           
>