تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

14 سالہ آروشی کی لاش اس کے کمرے سے ملی تھی

  12 اکتوبر‬‮ 2017   |    06:42     |     شوبز

نئی دہلی (نیوز ڈیسک)15 مئی 2008ء کی رات 14 سالہ آروشی کی لاش اس کے کمرے سے ملی تھی، اس کے والدین نے اپنے نوکر ہیمراج پر قتل کا الزام عائد کیا لیکن اس سے اگلے ہی روز اس کی لاش بھی چھت سے ملی جس سے کیس پیچیدہ ہو گیا۔ بھارتی شہر نوئیڈا میں 2008ء کو پیش آنے والے مشہور آروشی قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے۔ الہٰ آباد کی عدالت نے اپنی

بیٹی آروشی اور نوکر ہیمراج کے قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا بھگت رہے والدین کو بری کر دیا ہے۔ غازی آباد کی عدالت نے اس پُراسرار قتل واقعہ میں آروشی کے والدین ڈاکٹر راجیش اور نوپور تلوار کو قصوروار قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔دونوں ملزمان نے اس فیصلے کیخلاف الہٰ آباد ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ والدین ڈاکٹر راجیش اور نوپور تلوار نے اپنی بیٹی کو قتل نہیں کیا تھا۔ موجودہ ثبوتوں اور گواہوں کی بنیاد پر انھیں قصوروار نہیں مانا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ کیس کے تفتیش کار یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ تلوار جوڑے نے اپنی بیٹی کا قتل کیا تھا۔ محض شبہے کی بنیاد پر کسی کو مجرم نہیں قرار دیا جا سکتا۔یاد رہے کہ 15 مئی 2008ء کی رات آروشی کی لاش اس کے کمرے سے برآمد ہوئی تھی، اس کے والدین نے اس قتل کا الزام اپنے نوکر ہیمراج پر لگایا، لیکن کیس اس وقت پیچیدہ ہو گیا جب 17 مئی کی صبح ہیمراج کی بھی خون سے لت پت لاش فلیٹ کی چھت سے برآمد ہو گئی۔ اس کے بعد پولیس نے 23 مئی کو ڈاکٹر راجیش تلوار کو بیٹی آروشی اور نوکر ہیمراج کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا۔ اس دہرے قتل کے بعد انڈیا بھر میں سنسنی پھیل گئی تھی۔یکم جون کو اس معاملے کی سی بی آئی کو منتقل کر دی گئی تھی۔ 9 فروری کو سی بی آئی نے اپنی تفتیش کی بنیاد پر جوڑے کے خلاف قتل کیس درج کیا۔ اسی تفتیش کی بنیاد پر غازی آباد کی عدالت نے 26 نومبر 2013ء کو آروشی کے والدین کو قتل کا قصوروار مانتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ اس کے بعد سے دونوں جیل میں بند ہیں۔خیال رہے کہ آروشی قتل کیس سے سے پورے ہندوستان میں سنسنی پیدا ہو گئی تھی۔ اس واقعے پر سینکڑوں مضامین اور ایک کتاب بھی لکھی گئی۔ یہی نہیں بلکہ اس واقعے پر ایک فلم بھی بنائی گئی تھی۔ عدالت کے فیصلے کے بعد یہ اس سوال نے ایک بار پھر سر اٹھا لیا ہے کہ اگر تلوار جوڑے نے اپنی بیٹی اور نوکر کا قتل نہیں کیا تو اخر اصل قاتل کون ہے؟

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین تصاویر


>