تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر غیاث النبی طیب نے کہا ہے

  14 ‬‮نومبر‬‮ 2017   |    09:03     |     شوبز

لاہور (ڈیلی آزادنیو زڈیسک) پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر غیاث النبی طیب نے کہا ہے کہ گھریلو کھانوں کو ترجیح دیے بغیر موٹاپا اور ذیابیطس جیسے امراض سے محفوظ نہیں رہا جا سکتا ،خواتین کا فرض ہے کہ وہ باورچی خانوں کو آباد کریں۔ انہوں نے کہا کہ شوگر کے مرض کا کنٹرول مریض کے اپنے ہاتھ میں ہے مناسب احتیاط اور باقاعدہ علاج کے ساتھ

ساتھ معمولات زندگی کو بہتر انداز میں تشکیل دے کر پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے ذیابیطس کے عالمی دن پر لاہور جنرل ہسپتال میں منعقدہ آگاہی سیمینار سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر غیاث النبی طیب نے کہا کہ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو شوگر کی بیماری ہارٹ اٹیک ،فالج اور آنکھوں و پاؤں کو متاثر کر سکتی ہے جبکہ یہی بیماری اندھے پن کی سب سے بڑی وجہ بن رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ امسال ذیابیطس کے عالمی دن کاپیغام "خواتین اور ذیابیطس ، صحت مند مستقبل ہمارا حق "ہے جس کے ناطے خواتین پر زیادہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ذیابیطس جیسی عام ہوتی ہوئی بیماری پر قابو پانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں ،انہوں نے کہا کہ کسی خاتون کو شوگر کی بیماری لاحق ہو جائے تو پورا گھر اس سے متاثر ہوتا ہے ہم سب کا مشترکہ فرض ہے کہ اس ضمن میں حفاظتی اقدامات کی آگاہی کو زیادہ سے زیادہ عام کریں اور ذیابیطس سے بچاؤ کا پیغام ہر گھر تک پہنچائیں ،پروفیسر غیاث النبی طیب نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا ذیابیطس سمیت اہم بیماریوں کے مریضوں کیلئے6ارب روپے کی مفت ادویات فراہم کرنے کا اقدام لائق تحسین ہے جس سے غریب اور مستحق افراد کو خصوصی فائدہ پہنچے گا ،انہوں نے ذیابیطس سے آگاہی کیلئے میڈیا کے کردار کو اہمیت کا حامل قرار دیا ۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر عمران حسن خان ، ڈاکٹر ملیحہ حمید ،ڈاکٹر سلمان شکیل اوردیگر طبی ماہرین نے کہا کہ سگریٹ نوشی سے پرہیز ، متوازن غذا ، ورزش اور واک سے ذیابیطس کے مرض پر قابو پایا جا سکتا ہے اور اس بیماری کے ساتھ بھی صحت مندانہ زندگی گزاری جا سکتی ہے ، انہوں نے بتایا کہ2014تک ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد42کروڑ سے تجاوز کر چکی تھی جبکہ پاکستان میں ہر تیسرا شخص Aیا Bٹائپ کی شوگر کا شکار ہے جن کو عطائیوں یا ٹوٹکوں کے ذریعے علاج معالجے کی بجائے مناسب طرز زندگی اور باقاعدہ علاج کا راستہ اختیار کرنا چاہیے ،جنرل ہسپتال میں ہونے والے آگاہی سیمینار میں پروفیسر ز ، ڈاکٹرز ،نرسز اور پیرا میڈکس کے علاوہ مریضوں اور لواحقین کی بڑی تعداد بھی موجود تھی جنہوں نے بعد ازاں ذیابیطس سے بچاؤ کیلئے منعقدہ واک میں شرکت کی جس کے شرکاء نے شوگر کی وجوہات ، بچاؤ اور علاج و پرہیز سے متعلق مختلف پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جبکہ معروف ٹی وی اداکار عرفان کھوسٹ نے اس موقع پر خصوصی شرکت کی اور انہوں نے شوگر سے آگاہی کیلئے جنرل ہسپتال میں سیمینار اور واک کے انعقاد کو سراہا ۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین تصاویر


>