تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

شیر اور لومڑی

  10 جنوری‬‮ 2017   |    12:49     |     ڈیلی آزاد سپیشل

جنگل کے بادشاہ شیر اور ہاتھی میں زبردست لڑائی ہوئی۔ اس لڑائی میں شیر سخت زخمی ہو اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتہائی کمزور کا شکار ہو اور اپنا پیٹ بھرنے کے لئے جانوروں کا شکار کرنے سے بھی عاجز ہوا۔ وہ جانور جو اس کے شکار کے بچے کھچے حصے سے اپنا پیٹ بھرتے تھے وہ بھی پیٹ بھرنے کے قابل نہ رہے۔ لومڑی ہمیشہ اپنی مکاری کے لئے مشہور رہی ہے۔ لہذا شیر نے اس کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے لومڑی سے کہا کہ کسی گدھے کو اپنی مکاری کے جال میں جھکڑ کر کسی طرح میرے پاس لے آئے تاکہ ہم دونوں اپنے پیٹ کا دوزخ بھر سکیں۔ لومڑی نے کہا کہ اے جنگل کے بادشاہ تیرا حکم سر آنکھوں پر لہذا میں کسی گدھے کی تلاش میں نکلتی ہوں تاکہ اسے بہلا پھسلا کر تیرے پاس لے آﺅں۔ لہذا لومڑی دھوبی کے گدھے کے پاس جا پہنچی۔ وہ ایک مسکین سا گدھا تھا۔ لومڑی نے اس سے سلام دعا کی اور کہا کہ آپ اس پتھریلے اور خشک علاقے میں کیا کر رہے ہیں۔ گدھے نے جواب دیا کہ رازق اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور وہی رزق تقسیم کرتا ہے۔ میں اس کی اس تقسیم پر راضی ہوں اس نے جتنا رزق میرے حصے میں لکھا ہے میں اسی پر قناعت کرتا ہوں اور خوش ہوں۔ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے اس سے بھی بد تر حالت کا شکار نہیں بنایا۔ میں بہتر رزق کی تلاش نہیں کرتا کیونکہ بہتر نعمت کسی نہ کسی مصیبت میں گھری ہوتی ہے۔ گدھے کی باتوں کے جواب میں لومڑی بولی کہ اللہ کا حکم ہے کہ رزق تلاش کیا جائے اور رزق حلال کی تلاش تو عین فرض ہے۔ گدھے نے کہا کہ انسان تو اپنے بے صبر پن کی وجہ سے رزق کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہے اگر خدا پر بھروسہ کیا جائے تو وہ رزق ضرور پہنچاتا ہے کیونکہ اس نے رزق عطا کرنے کا ذمہ لے رکھا ہے۔ لومڑی نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جس توکل کے سہارے رزق خود بخود حاصل ہوتا ہے یہ توکل ہر کسی کے لئے مخصوص نہیں ہوتا بلکہ محض اللہ کے نیک بندوں کے لئے ہوتا ہے اور اگر توکل کا درجہ حاصل نہ ہو تب رزق کی تلاش میں کوئی مضائقہ نہیں۔ بہر کیف لومڑی اور گدھے کی گفتگو جاری رہی اور بالآخر لومڑی گدھے کو ورغلانے میں کامیاب ہوئی اور اسے بہلا پھسلا کر شیر کے پاس لے گئی۔ گدھا ابھی شیر کے قریب تھی نہ پہنچا تھا کہ بھوک سے بے تاب شیر اس پر حملہ آور ہوا لیکن چونکہ دونوں کے درمیان فاصلہ زیادہ تھا لہذا یہ حملہ ناکام اور گدھا بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ شیر نے دوبارہ لومڑی کی منت سماجت کی کہ گدھے کو دوبارہ گھیر کر لاﺅ۔ میں بھوک کے ہاتھوں بے تاب تھا اور میری عقل ٹھکانے نہ تھی اور میں نے جلد بازی سے کام لیا۔ تم دوبارہ گدھے کو رام کر کے لاﺅمیں اس کو کھا کر پیٹ بھروں گا اور میری طاقت بحال ہو گی۔ میں دوبارہ شکار کرنے کے قابل ہو جاﺅں گا اور تمہیں بھی شکار کر کے کھلاﺅں گا۔ میرا بچا کچا شکار تمام لوگوں کے ہی کام آئے گا۔ لومڑی نے کہا کہ ٹھیک ہے میں دوبارہ اپنی پوری کوشش کرتی ہوں لیکن اس مرتبہ تم جلد بازی سے کام نہ لینا۔ لومڑی ایک مرتبہ پھر گدھے کے پاس آن پہنچی۔ گدھے نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے تمہیں کیا نقصان پہنچایا تھا جو تم مجھے شیر کا لقمہ بنانے کے لئے اس کے پاس لے گئی تھی۔ تمہارا باطن خباثت سے بھرا ہوا ہے۔ شیطان بھی اس خباثت کی وجہ سے انسان کو ہلاکت تک پہنچاتا ہے۔ جس طرح تم مجھے بہلا پھسلا کر شیر کے پاس لے گئی تھی اس طرح شیطان انسان کو سبز باغ دکھا کر کنوئیں پر لے جاتا ہے اور اس کنوئیں میں اسے دھکا دے کر گرا دیتا ہے۔ جس طرح میں نے تجھے کوئی نقصان نہ پہنچایا تھا اسی طرح انسان نے بھی شیطان کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا ہے۔

لومڑی نے پینتر ا بدلا اور کہنے لگی کہ تم نے جو شیر دیکھا تھا وہ حقیقی شیر نہ تھا بلکہ طلسمی شیر تھا اور اسے سر سبز چراگاہ کی حفاظت کے لئے رکھا ہوا ہے تاکہ ہرا یرا غیر اس چراگاہ سے حاصل نہ کر سکے۔ مجھ سے یہ غلطی سر زد ہوئی تھی کہ میں نے تمہیں اس طلسمی شیر کے بارے میں نہ بتایا تھا۔ گدھے نے جواب دیا کہ میں تمہاری شکل دینے کا بھی روادار نہیں ہوں۔ میں اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا پسند نہیں کرتا۔ میں نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ اب کسی بہلا وے یا پھسلاوے میں نہیں آﺅں گا۔ شیر نے تمہیں دوبارہ مکرو فریب کا جال بچھانے کے لئے بھیجا ہے۔ میں تیرا ساتھ اختیار نہیں کر سکتا کیونکہ بُرا ساتھی انسان کو جہنم میں پہنچا دیتا ہے۔ لومڑی نے کہا کہ میں قصور وار ہر گز نہیں ہوں لیکن تمہیں وہم ہو گیا اور اسی وہم نے تمہیں دوست کی تمیز بھلا دی ہے۔ وہم کے حوالے سے دوستوں سے بد گمانی اچھی نہیں ہوتی کیونکہ اس طرح دوستی کو زوال آ جاتا ہے۔ غلطی کس سے نہیں ہوتی۔ لہذا بد گمانی ترک کر دو۔ بالآخر گدھا لومڑی کی چکنی چپڑی باتوں میں آ گیا۔ درحقیقت اس کے لالچ نے اس کے صبر کو مغلوب کر لیا تھا۔ اس نے سوچا کہ اگر یہ لومڑی کا مکرو فریب بھی ہے تب بھی بھوک کے ہاتھوں روز روز مرنے سے بہتر ہے کہ ایک ہی مرتبہ موت کو گلے لگا لیا جائے لالچ انسان کی عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے اور وہ اندھا اور بہرہ پن جاتا ہے۔ اس گدھے کا اس امر سے یقین اٹھ چکا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی بہتر راز ق ہے۔ اگر اللہ بھوک کی مصیبت میں مبتلا کرتا ہے تو اس کی بہتری پنہاں ہوتی ہے۔ لہذا گدھا شیر کا شکار بن چکا تھا۔ شیر کا پیٹ بھرا تو اس میں جان پڑ گئی اور وہ پانی پینے کے لئے روانہ ہوا۔ اس کی غیر حاضری میں لومڑی نے گدھے کے اعضائے رئیسہ یعنی دل، جگر، گردے، وغیرہ چٹ کر لئے۔ شیر جب واپس آیا تو اس نے گدھے کے ان اعضاءکے بارے استفسار کیا۔ لومڑی نے جواب دیا کہ اگر گدھے کے پاس دل اور دماغ ہوتا تو وہ کیسے دوبارہ بے وقوف بنتا اور تیرا لقمہ بننے کے لئے کیسے دوبارہ پاس چلا آتا۔ دوزخی بھی دوزخ میں یہی سوچیں کے کہ اگر ہم درست بات سن لیتے اور سمجھ جاتے تو آج ہمیں یہ دن دیکھنا کبھی نصیب نہ ہوتا۔ شیر نے جواب دیا کہ ہر جانور دل، دماغ اور جگررکھتا ہے۔ لہذا اس کے گدھے کے یہ اعضاءکہاں ہیں۔ لومڑی نے جواب دیا کہ اگر گدھا ان اعضاءکا حامل ہوتا تب وہ تیرے پاس کبھی نہ آتا۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
78%
ٹھیک ہے
6%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
17%
اپنی رائے کا اظہار کریں -

انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مین

loading...

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

تازہ ترین تصاویر


>