تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

مجھے اللہ سے شرم آرہی ہے!​

  14 ‬‮نومبر‬‮ 2017   |    06:55     |     ڈیلی آزاد سپیشل

خلیفہ سلیمان بن عبد الملک کا بھائی خلیفہ ہشام بن عبد الملا بن مروان بیت اللہ شریف کے حج کو آیا- طواف کے دوراں میں اس کی نگاہ زاہد و متقی اور عالم ربانی سالم بن عبداللہ بن عمر رض پر پڑی جو اپنا جوتا ہاتھ میں اٹھائے ہوئے خانہ کعبہ کا طواف کررہے تھے- ان کے اوپر ایک کپڑا اور ایک عمامہ تھا جس کی قیمت 13 درھم سے زیادہ نہیں تھی- خلیفہ ہشام نے کہا:"کوئی حاجت ہو تو فرمائے"-

سالم بن عبداللہ رض نے کہا:" مجھے اللہ شرم آرہی ہےکہ میں اس کے گھر میں ہوتے ہوئے کسی اور کے سامنے دست سوال دراز کروں"-یہ سننا تھا کہ خلیفہ کے چہرے کا رنگ سرخ ہونے لگا- اس نے سالم بن عبداللہ رض کے جواب میں اپنی سبکی محسوس کی- جب سالم بن عبداللہ حرم شریف سے باہر نکلے تو وہ بھی ان کے پیچھے ہی حرم سے نکل پڑا اور راستہ میں ان کے سامنے آکر کہنے لگا:" اب تو آپ بیت اللہ سے باہر نکل چکے ہیں ، کوئی حاجت ہو تو فرمائيں (بندہ حاضر ہے)"-سالم بن عبداللہ گویا ہوئے:" آپ کی مراد دنیاوی حاجت سے ہے یا اخروی حاجت سے؟!"-حلیفہ ہشام نے جواب دیا:"اخروی حاجت کو پورا کرنا تو میرے بس میں نہیں؛ البتہ دنیاوی ضرورت پوری کرسکتا ہوں؛ فرمائيں-سالم بن عبداللہ کہنے لگے:" میں نے دنیا تو اس سے بھی نہین ماںگی ہے جس کی یہ ملکیت ہے- پھر بھلا میں اس شخص سے دنیا کیوں طلب کرسکتا ہوں جس کا وہ خود مالک نہیں؟!"-یہ کہ کر اپنے گھر کی طرف چل دیے اور ہشام بن عبدالملک اپنا سا منہ لے کر رہ گیا-

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

ڈیلی آزاد سپیشل

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین تصاویر


>