تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

شادی عمومی طورپر زندگی میں ایک ہی بار ہوتی ہے اور اس مقدس بندھن کے لیے

  20 ‬‮نومبر‬‮ 2017   |    07:03     |     ڈیلی آزاد سپیشل

شادی عمومی طورپر زندگی میں ایک ہی بار ہوتی ہے اور اس مقدس بندھن کے لیے زندگی کی آسائشوں اور بہتر سے بہتر رشتہ دیکھا جاتاہے لیکن بھارتی ریاست اتر پردیش کے ایک گاؤں میں پانی سمیت زندگی کی بنیادی سہولیت ہی میسر نہ ہونے کی وجہ سے وہاں کے مردوں کیساتھ کوئی لڑکی شادی کرنے کو تیار نہیں۔ہندوستان ٹائمز کے مطابق اتر پردیش کے گاؤں شری تاراماجرا میں کوئی دوسرے

علاقوں کی عورت شادی کرنے کو تیار نہیں اور اسے ’کنواروں کا گاؤں ‘ بھی کہا جاتاہے کیونکہ یہاں آج بھی پانی کی قلت ہے۔زیرزمین انتہائی گہرائی میں موجود پانی بھی استعمال کے قابل نہیں، آج بھی اس گاؤں میں بجلی جیسی سہولت بھی دستیاب نہیں جس کی وجہ سے ممکنہ دلہنیں اس گاؤں کے مکینوں سے شادی کرنے کو تیار نہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نہ صرف 35کلومیٹر دور الہ آباد کی مکین بلکہ نواحی اضلاع پراتاپھگڑھ ، کوشمبی اور چتراکوٹ جیسے علاقوں کی خواتین بھی اس گاؤں کے نوجوانوں کی شادی کی تجویز مسترد کردیتی ہیں کیونکہ ان نوجوانوں سے شادی کرنے کا مطلب اپنی زندگی کو مزید مشکلات میں ڈالنا ہےگاؤں کی مجموعی آباد ی تقریباً ایک ہزار نفوس پر مشتمل ہے اور18سے 29سال کے 50افراد کو اب بھی دلہنوں کی تلاش ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

ڈیلی آزاد سپیشل

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین تصاویر


>