تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

نو منتخب صدر کی امریکی سائنس دانوں کو فرانس آنے کی دعوت

  9 مئی‬‮ 2017   |    02:41     |     ٹیکنالوجی

پیرس(ویب ڈیسک)فرانس کے صدارتی انتخابات میں ایمانویل میکرون واضح اکثریت حاصل کر کے فرانس کے کم عمر ترین صدر منتخب ہوگئے ہیں اور صدر منتخب ہوتے ہی انہوں نے اپنا پہلا ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے موسمیاتی تغیرات یعنی کلائمٹ چینج سے لڑنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر جاری کیے گئے اپنے پیغام میں صدر میکرون نے امریکی سائنس دانوں کو فرانس منتقل ہو کر اس خطرے سے لڑنے اور اپنے صلاحیتوں کے اظہار کی دعوت دی ہے۔ اپنے پیغام میں انہوں نے امریکی سائنس دانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’میں جانتا ہوں کہ کس طرح آپ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کلائمٹ چینج کے بارے میں توہمات کا شکار ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے بجٹ میں بھی بے حد کمی کردی ہے‘۔ان کا کہنا تھا، ’لیکن میں آگاہ کردوں کہ مجھے کلائمٹ چینج (کے رونما ہونے) میں کوئی شبہ نہیں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ اس مسئلے کے بارے میں نہایت خلوص سے کام کرنا ضروری ہے‘۔

انہوں نے امریکا میں کلائمٹ چینج پر کام کرنے والے افراد کو فرانس آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایجادات اور تخلیق کار بہت پسند ہیں۔ ’ہم ٹیکنالوجی، توانائی اور ماحول دوست ایجادات پر کام کرنے والے افراد کا کھلے دل سے استقبال کریں گے‘۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ کلائمٹ چینج کے تاریخی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے بھی فرانسیسی بجٹ بھی محفوظ رکھیں گے۔یاد رہے کہ کلائمٹ چینج کا یہ تاریخی معاہدہ 2 برس قبل پیرس میں ہونے والی عالمی کانفرنس میں طے پایا تھا جس میں 195 ممالک نے دستخط کر کے اس بات کا عزم کیا تھا کہ وہ اپنی صنعتی ترقی کو محدود کریں گے۔ اس ترقی کے باعث زہریلی گیسوں کا اخراج دنیا بھر کے موسموں میں تبدیلی لارہا ہے اور درجہ حرارت میں اضافہ کر رہا ہے یعنی کلائمٹ چینج رونما ہورہا ہے۔ اس کے ساتھ یہ تمام ممالک ماحول دوست اقدامات کرنے اور ماحول کے لیے نقصان دہ عوامل کو کم یا ختم کرنے کے بھی پابند ہیں۔تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ انہوں نے امریکا میں سابق صدر اوباما کے شروع کیے گئے ماحول دوست اقدامات بھی منسوخ کردیے ہیں۔ اب جبکہ امریکا یہ زہریلی گیسیں خارج کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے، اس کا اس معاہدے سے دستبردار ہونا ماحول کی بہتری کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات پر سوالیہ نشان ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مین

loading...

>