تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

جب ٹیلی فون کے کی پیڈ میں ان بٹنوں کو ڈالا گیا تو اس وقت

  1 ‬‮نومبر‬‮ 2017   |    06:48     |     ٹیکنالوجی

لاہور (نیوز ڈیسک)جب ٹیلی فون کے کی پیڈ میں ان بٹنوں کو ڈالا گیا تو اس وقت ان علامتوں بارے کسی کو علم نہیں تھا۔ موبائل فون میں سٹیرک * اور ہیش # کے بٹن تو آپ دیکھتے ہی ہونگے اور ان کے استعمال سے بھی واقف ہونگے مگر آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ جب ٹیلی فون کے کی پیڈ میں ان بٹنوں کو ڈالا گیا تو اس وقت ان علامتوں بارے کسی کو

علم نہیں تھا اور نہ ہی جس کمپنی نے اپنے ٹیلی فون میں پہلی باران علامات کے حامل بٹن لگائے اسے پتہ تھا کہ یہ بٹن کس لگائے جا رہے ہیں اور انکا استعمال کیا ہو گا۔اس وقت کے ٹیلیفون ٹچ ٹون کی پیڈ استعمال کرتے تھے، یعنی ان پر موجود کسی بٹن کو دبانے سے دو آوازیں پیدا ہوتی تھیں، جنہیں سن کر ٹیلیفون سسٹم فیصلہ کرتا تھا کہ کونسا نمبر دبایا گیا ہے۔ ان دو باتوں کے امتزاج سے کل 12 مختلف اشارے پیدا کئے جاسکتے تھے، لیکن ٹیلیفون کے کی پیڈ پر صرف 0 سے لے کر 9 تک ہندسے تھے، یعنی کل 10 ہندسے۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ تین قطاروں میں کل 9 ہندسے تھے جبکہ آخری قطار میں صرف 0 تھا، جبکہ اس کے دائیں اور بائیں خالی جگہ تھی۔ ٹیکنالوجی کمپنی AT&T نے 1968ءمیں فیصلہ کیا کہ صفر کے دائیں بائیں بھی دو بٹن لگا دئیے جائیں، تاکہ کی پیڈ دیکھنے میں اچھا لگے۔اب یہ سوال کھڑا ہوا کہ ان دو بٹنوں پر کونسے ہندسے لکھے جائیں، کیونکہ اس وقت نمبر ڈائل کرنے کے لئے صرف 0 سے لے کر 9 تک کے اعداد ہی استعمال ہوتے تھے۔ کمپنی نے فیصلہ کیا کہ دو نئے بٹنوں پر اسٹیرک* اور ہیش کی علامات لکھ دی جائیں، اگرچہ اس وقت ان کا کوئی استعمال نہیں تھا۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ شاید بعدازاں ٹیلی فون صارفین خود ہی ان کا کوئی استعمال ڈھونڈ لیں گے، اور واقعی بعد میں ایسا ہی ہوا۔ تقریباً ایک دہائی بعد ٹیلی فون صارفین کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے کمپنی اس نتیجے پر پہنچی کہ اسٹیرک (*) کے بٹن کو کال بیک کے لئے استعمال کیا جائے، اور اسی طرح ہیش (#) کے بٹن کو بعد ازاں وائس میل سسٹمز کے لئے استعمال کیا جانے لگا۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


>