تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

یہ آٹھ طریقے آپ کو انٹرنیٹ پر محفوظ رکھ سکتے ہیں

  4 ‬‮نومبر‬‮ 2017   |    08:22     |     ٹیکنالوجی

لاہور (نیوز ڈیسک)انٹرنیٹ کے بہت سے فوائد کے ساتھ ساتھ نقصانات بھی لا تعداد ہیں۔ اگر انٹرنیٹ کا محفوظ استعمال نہ کیا جائے تو انسان کسی خطرے کا شکار ہو سکتا ہے۔ انٹرنیٹ آج کے دور کی اہم ضرورت ہے۔ جہاں اِس کے ہزار فوائد ہیں وہیں اِس کے نقصانات بھی ہیں۔ ان نقصانات کی زَد میں آ کر لوگ اپنا شدید نقصان کروا بیٹھتے ہیں۔ دنیا بھر میں بہت سے ادارے

لوگوں میں انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال کے حوالے سے آگاہی پھیلا رہے ہیں۔ اگر آپ بھی انٹرنیٹ پر محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو ذیل میں دیے گئے آٹھ نکات پر عمل کریں۔انٹرنیٹ پر اپنے کسی بھی اکائونٹ کا پاسورڈ لکھنے سے پہلے کم از کم دو بار سوچیں۔ ایک ایسے پاسورڈ کا انتخاب کریں جو پیچیدہ ہو۔ ایک انٹرنیٹ کمپنی سپلیش ڈیٹا کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا پاسورڈ 123456 ہے جبکہ دوسرے نمبر پر لفظ پاسورڈ ہی پاسورڈ کے طور پر رکھا جاتا ہے۔ اگر آپ انٹرنیٹ کا محفوظ استعمال کرنا چاہتے ہیں تو اپنے پاسورڈ کا انتخاب سوچ کر کریں۔ اپنے پالتو جانور یا اپنی یونیورسٹی کا نام پاسورڈ کے طور پر نہ رکھیں۔بعض لوگ پیچیدہ پاسورڈ تو رکھ لیتے ہیں مگر اُس کو کبھی تبدیل نہیں کرتے یا ہر اکائونٹ کا وہی پاسورڈ رکھتے ہیں۔ یہ یاد رکھیں کہ کوئی بھی پاسورڈ مکمل حفاظت کا ضامن نہیں ہوتا۔ ہیکرز کسی بھی پاسورڈ کو توڑ کر آپ کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اپنا پاسورڈ وقتاً فوقتاً بدلتے رہیں اور مختلف اکائونٹ کے لیے مختلف پاسورڈ استعمال کریں۔ پیچیدہ پاسورڈ کو یاد رکھنا بھی ایک مشکل کام ہوتا ہے۔ اِن کو یاد رکھنے کے لیے پاسورڈ مینیجنگ سروسز کا سہارہ لیا جا سکتا ہے۔جب بھی آپ انٹرنیٹ کا استعمال کریں، اپنی نشست چھوڑںے سے پہلے برائوزر کی ہسٹری ڈیلیٹ کرنا نہ بھولیں۔ خاص طور پر اگر آپ کسی اور کا کمپیوٹر استعمال کر رہے ہیں تو مزید احتیاط کریں۔ اگر آپ ہسٹری ڈیلیٹ نہیں کریں گے تو کوئی اور برائوزر کی ہسٹری میں جا کر آپ کے انٹرنیٹ کے استعمال کے بارے میں تفصیلات جان سکتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ دنیا میں کچھ بھی مفت نہیں ہوتا۔ جہاں کوئی چیز مفت مل رہی ہو سمجھ جائو کہ وہاں خطرہ ہے۔ فری وائی فائی کے حوالے سے یہ بات بالکل درست ہے۔ آج کل ہر ریستوران، کیفے، ہوٹل، سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں فری وائی فائی کی سہولت میسر ہوتی ہے۔ لوگ اِس فری وائی فائی کی سہولت سے جی بھر کر مستفید بھی ہوتے ہیں۔ فری وائی فائی کی سہولت زندگی کو آسان تو بہت بنا دیتی ہے مگر اس سے آپ کی پرائیویسی آپ تک محدود نہیں رہتی۔ جہاں تک ہو سکے فری وائی فائی کے استعمال سے پرہیز کریں۔فلیش ڈرائیو نے ایک کمپیوٹر سے دوسرے کمپیوٹر تک ڈیٹا کی منتقلی بہت آسان بنا دی ہے۔ یہ چھوٹی سی ڈرائیو کسی بھی جیب میں سما سکتی ہے۔ اسی وجہ سے لوگ اس کا استعمال بھی خوب کرتے ہیں۔ فلیش ڈرائیو کے ذریعے ایسے وائرس کا تبادلہ بھی آسان ہو گیا ہے جو کسی بھی ڈیوائس کو ہیک کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ اپنے کمپیوٹر میں کوئی بھی فلیش ڈرائیو لگانے سے پہلے مکمل اطمعنان کر لیں اور اُس کے بعد ہی فلیش ڈرائیو کو اپنے کمپیوٹر میں لگائیں۔انٹرنیٹ کیفے اُن لوگوں کے لیے بہت مفید ہیں جن کے پاس اپنا ذاتی کمپیوٹر نہیں ہوتا۔ انٹرنیٹ کیفے پر موجود کمپیوٹر بہت سے لوگ استعمال کرتے ہیں اور اسی وجہ سے کوئی بھی کسی کے بھی انٹرنیٹ استعمال کے متعلق جان سکتا ہے۔ ایسے لوگ خاص سوفٹ وئیر کی مدد سے آپ کی ای میل اور دیگر اکائونٹ کا پاسورڈ حاصل کر کے آپ کا ڈیٹا چرا سکتے ہیں۔ ایسے کمپیوٹرز کے استعمال سے حتی الامکان گریز کریں۔اپنے کمپیوٹر اور دیگر ڈیوائس کی حفاظت کے لیے اینٹی وائرس کا استعمال کریں۔ کچھ اینٹی وائرس مفت ہیں اور کچھ کے استعمال کے لیے پیسے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ آپ اپنی مرضی اور ضرورت کے مطابق کسی بھی اینٹی وائرس کا استعمال کر سکتے ہیں۔ اینٹی وائرس ہیکنگ کی کوششوں کو ناکام بنانے میں کافی حد تک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔انٹرنیٹ پر ہمیشہ اُن لوگوں سے رابطہ کریں جنہیں آپ جانتے ہیں۔ کسی بھی اجنبی سے بات چیت سے احتراز کریں۔ اکثر کیسز میں ہیکرز نے کسی کا اکئونٹ ہیک کر کے اُس کے دوستوں سے رابطہ کیا اور اُن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ اگر آپ کو کبھی اپنے کسی دوست کی بات چیت کا انداز معمول سے ہٹ کر محسوس ہو تو فوراً سے پہلے انٹرنیٹ پر اپنی حفاظت کو یقینی بنائیں۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


>