تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

بھاپ سے چلنے والا پہلا انجن فرانسیسی انجینئر نیکولس جوزف کگناٹ نے بنایا جس نے جدید سفر کی بنیاد رکھی

  29 ‬‮نومبر‬‮ 2017   |    09:55     |     ٹیکنالوجی

لاہور (روزنامہ دنیا ) دنیا کی کسی بھی دوسری ایجاد کی طرح موٹر کار نے بھی رفتہ رفتہ ترقی کی ہے، ورنہ اگر آپ شروع کی کاریں دیکھیں تو ہنس پڑیں۔ اکثر بچے یہ پوچھتے ہیں کہ یہ مفید اور خوبصورت چیز کس نے بنائی تھی جو ایک پرزہ گھماتے ہی ہوا سے باتیں کرنے لگتی ہے۔ زمین پر چلنے والی تمام سواریوں میں موٹر کار کو سب سے اچھا

سمجھا جاتا ہے۔ ہر گاڑی کا اب ایک کے بعد دوسرا نمونہ یا ماڈل آتا ہے اور زیادہ تر خریدار نئے ماڈل کی گاڑی خریدناچاہتے ہیں۔ یوں تو تیز رفتار سواری کی آرزو ہرزمانے میں رہی ہے لیکن موٹرکار کی ایجاد کی صورت اسی وقت ممکن ہو سکی جب انٹرنل کمبوسشن انجن ایجاد ہو گیا۔ اس انجن میں یہ خوبی تھی کہ وہ صاف ستھرا، طاقت ور اور تھوڑی جگہ لیتا تھا۔ وزن بھی کچھ ایسا زیادہ نہیں تھا۔ آپ شاید جانتے ہوں کہ جیمز واٹ نے بھاپ سے چلنے والا انجن بنایا تھا اس وقت لوگوں کو یہ خواہش ہوئی کہ اس انجن سے گاڑی کھینچنے کا کام لیا جائے۔ بھاپ ایک نئی طاقت کی شکل میں ابھری۔ لوگوں نے بھاپ کے انجن کو مزید ترقی دینے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں ایک فرانسیسی انجینئر نیکولس جوزف کگناٹ کا نام قابل ذکر ہے۔ وہ ایک فوجی انجینئر تھا۔ وہ دس سال تک مختلف تجربے کرتا رہا۔ وہ چاہتا تھا کہ اپنی گاڑی کو کسی مشین یا انجن سے چلائے۔ بالآخر وہ کامیاب ہو گیا۔ اس کی بنائی ہوئی بھاپ سے چلنے والی گاڑی ابھی تک عجائب گھر میں موجود ہے۔ یہ بہت سست رفتار تھی۔ اس کے بعد اسے صاف کرنے اور نئی بھاپ جمع کرنے کے لیے کھڑا کرنا پڑتا تھا۔ اسی زمانے میں برطانیہ میں بھی اس مسئلے پر تحقیقات ہورہی تھیں۔ وہاں ایک انجینئرتھا جس کا نام رچرڈ ٹریو تھک تھا۔ اسے اکثر انجنوں کا باپ کہا جاتا ہے۔ اس نے 1801ء میں ایک کام یاب انجن بنایا اور دوسرے سال بھاپ سے چلنے والی ایک اور موٹر تیار کر لی۔ اس نے اسے تقریباً نوے میل تک کامیابی سے چلایا۔ ایک اور موجد ولیم مڑدک نے بھی بھاپ سے چلنے والی ایک اور کار بنائی جس کے تین پہیے تھے۔ شاید یہی شخص موٹر کار کا موجد کہلاتا، لیکن واٹ بھی ایسے منصوبے بنا رہا تھا ۔ ان دنوں یہ شخص چپ چاپ کام کرتا تھا اور اپنی موٹر کار کو رات کے وقت باہر نکالا کرتا تھا تاکہ اسے چلانے کی مشق کر سکے۔ ایک مرتبہ ایک پادری اس بھیانک گاڑی کو دیکھ کر ڈر گیا اور بری طرح بھاگا۔ 1800ء سے 1836ء تک بھاپ سے چلنے والی طرح طرح کی گاڑیاں ایجاد ہوئیں جن میں سب سے اچھی رفتار 15میل فی گھنٹہ تھی۔ پھر کچھ ترقی ہوئی تو ایک ایسی گاڑی بنی جو بغیر کسی خرابی کے 420 میل کا فاصلہ طے کر سکتی تھی لیکن اس میں ایک آدمی بیٹھ سکتا تھا۔ اسی زمانے میں بجلی دریافت ہوئی۔ ایک جرمن انجینئر ڈیملر نے اسے موٹر کار کے انجن میں استعمال کر نا چاہا۔ اسی زمانے میں گیس سے چلنے والے انجن بھی تیار کیے گئے جو پاور انجن کہلاتے تھے۔ پہلے پہل گیس روشنی کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ لیکن بعد میں اسے توانائی کے طور پر بھی استعمال کیا جانے لگا۔ 1806ء میں ایک فرانسیسی نے ایک گیس انجن بنایا جو عام استعمال میں لایا جاسکتا تھا۔ دوسرے سال ایک جرمن نکولس آٹو نے ایک نمونہ انجن تیار کیا۔ بھاپ سے چلنے والے انجن میں یہ دقت تھی کہ اس کے لیے کوئلہ، لکڑی، بہت ساپانی، ایک بڑا سا برتن جو بھٹی کی شکل میں ہو، پانی کے لیے ایک اور برتن ،یہ سب چیزیں ضروری تھیں۔ ظاہر ہے کہ یہ میلا اور دقت طلب کام تھا۔ انجینئروں نے ایک ایسا انجن بنانا چاہاجس کی بند حصے میںگیس پیدا کی جائے اور وہ جل کر پسٹن کو حرکت میں لائے۔ آٹھ انجینئروں نے یہ تجربے کیے۔ وہ چاہتے تھے کہ گیس ہوا کے ساتھ شامل ہو جائے یا پٹرول گرم ہو کر گیس میں تبدیل ہو جائے اور یہ گیس انجن کے بند حصے میں پہنچا دی جائے۔ وہاں وہ چلے اور پھسلنے کی کوشش کرے اور اس سے پسٹن اور اس کے ساتھ گاڑی کے پہیے حرکت میں آجائیں۔ 1884ء میں ڈیملر نامی ایک انجینئر نے ایک ایسا انجن بنایا جس میں گیس استعمال نہیں ہوتی تھی۔ ایک فرانسیسی انجینئر نے اس ایجاد کا فائدہ اٹھایا اور 1891ء میں ایک مکمل موٹر بازار میں بھیج دی۔ انہیں دنوں ایک اور جرمن انجینئرجس کا نام کارل بینز تھا گیس کا انجن بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ ڈیملر بھی اسی قسم کی کوششوں میں مصروف ہے۔ غرض موٹرکار کے سلسلے میں بہت سے موجد آپس میں کچھ اس طرح مل گئے کہ یہ بتانا مشکل ہو جاتا ہے کہ موٹر کار کس نے بنائی۔ کچھ لوگ ڈیملر کو موٹر کا رکا موجد سمجھتے ہیں اور کچھ کارل بنزکا نام لیتے ہیں۔ اس سلسلے میں سگفریڈ فاکس کا نام بھی لیا جاتا ہے کیونکہ اس نے 1875ء میں چارپہیوں والی موٹر کار بنائی تھی۔ جہاں تک کار کی شکل و صورت کا تعلق ہے اسے تیار کرنے میں ایک فرانسیسی کریب کا نام لیا جاتا ہے۔ کاریں بنانے کے فن نے اب بہت ترقی کرلی ہے۔ اب یہ کام خود کار مشینوں نے بہت آسان کر دیا ہے اور اس کی رفتار بھی بڑھ گئی ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

تازہ ترین تصاویر


>