تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

مودی کے خلاف فتوے پر امام مسجد کی گرفتاری کا مطالبہ

  9 جنوری‬‮ 2017   |    04:28     |     بین الاقوامی

نئی دہلی(ڈیلی آزادنیوزڈیسک)بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے کلکتہ کے ایک امام مسجد پر وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف فتویٰ دینے پر پولیس کو شکایت درج کروا دی اور ان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ بھارتی ریاست مغربی بنگال کے دارالحکومت کلکتہ کی ٹیپو سلطان مسجد کے شاہی امام محمد نور الرحمٰن برکتی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف فتویٰ جاری کیا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ مودی 500 اور 1000 روپے کے نوٹوں کی بندش کے اقدام کے ذریعہ عوام کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔ آل انڈیا مجلس شوریٰ اور آل انڈیا مائنرٹی فورم کی مشترکہ کانفرنس کے دوران خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ مودی کے اس اقدام کی وجہ سے ہر روز ہزاروں لوگ مشکلات اٹھا رہے ہیں اور انہیں ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے مودی کے خلاف فتویٰ جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی اس پالیسی سے لوگوں کو بیوقوف بنا رہے ہیں اور کوئی انہیں اس عہدے پر براجمان نہیں دیکھنا چاہتا۔ امام برکتی کے فتوے نے بی جے پی کو سیخ پا کردیا۔ بی جے پی کے ریاستی سربراہ دلیپ گھوش نے ایک بھارتی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امام مسجد نے نہ صرف وزیر اعظم بلکہ ملک کی عوام کی توہین کی ہے۔ ’ہم انہیں سلاخوں کے پیچھے دیکھنا چاہتے ہیں‘۔ انہوں نے امام مسجد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا عندیہ بھی دیا۔

دلیپ گھوش کا کہنا تھا کہ انہوں نے امام مسجد کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروائی ہے اور پولیس سے کہا ہے کہ وہ اس پر ایف آئی آر کی حیثیت سے اقدامات اٹھائیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل مذکورہ امام مسجد نے دلیپ گھوش کے خلاف بھی فتویٰ جاری کیا تھا۔ گھوش نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی تھی۔ دوسری جانب بی جے پی کے مرکزی سیکریٹری سدھارتھ ناتھ سنگھ نے کہا کہ ہم مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری امام مسجد کی گرفتاری کا حکم دیں۔ ان کا اقدام سخت قابل مذمت ہے۔ یاد رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت میں بڑے پیمانے پر جعلی کرنسی اور کالے دھن کو جواز بنا کر 500 اور 1000 کے کرنسی نوٹوں کی قانونی حیثیت ختم کرنے کا اعلان کیا تھا اور نوٹوں کی تبدیلی کے لیے عوام کو بہت کم وقت دیا گیا تھا۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مین

loading...

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

تازہ ترین تصاویر


>