تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

سعودی عرب دوستی اور محبت کا پیغام لے کرآیا ہوں: لبنانی صدر

  10 جنوری‬‮ 2017   |    11:46     |     بین الاقوامی

دبئی (ڈیلی آزادنیوزڈیسک)لبنان کے نو منتخب صدر میشل عون نے اپنے دورہ سعودی عرب کے دوران ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کے دورے کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان پائے جانے والے شکوک اور ابہام دور کرنا اور محبت ودوستی کو فروغ دینا ہے۔ سعودی عرب کے نیوز چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں لبنانی صدر میشل عون نے کہا کہ خانہ جنگیاں صرف سیاسی مساعی سے ختم ہوسکتی ہیں۔ دہشت گردی سعودی عرب سمیت پوری دنیا کا مشترکہ مسئلہ ہے اور ہمیں مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنا ہوگی۔ دہشت گردی کا تعلق صرف مشرق وسطیٰ یا کسی ایک ملک کے ساتھ نہیں۔ اس ناسور سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے کی ضروررت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں لبنانی صدر کا کہنا تھا کہ میں ریاض کے دورے پر سعودی قوم کے لیے محبت اور دوستی کا پیغام لے کرآیا ہوں۔ میں اس لیے آیا ہوں تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان پائے جانے والے ابہام دور کیے جاسکیں۔ لبنان کی داخلی صورت حال پر بات کرتے ہوئے صدر عون نے کہا کہ توقع ہے کہ لبنان اپنا داخلی توازن نہ صرف برقرار رکھے گا بلکہ زیادہ مستحکم اور مضبوط ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں میشل عون کا کہنا تھا کہ شام میں ہزاروں شہروں کی نقل مکانی کا بوجھ لبنان کو اٹھانا پڑا ہے۔ انتہائی قلیل مدت میں لبنان میں آبادی کے بوجھ میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ شامی پناہ گزینوں کے بوجھ کے باوجود ہم شام میں تباہی و بربادی کے حامی نہیں بلکہ تنازع کا جلد سیاسی حل دیکھنا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ صدر میشل عون سوموار کو اپنے دورہ سعودی عرب پر ریاض پہنچے تھے۔ صدر منتخب ہونے کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ سعودی عرب ہے۔ اپنے اس دورے کے دوران انہوں نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز سمیت دیگر رہ نماؤں سے ملاقات سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور باہمی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان کے ہمراہ سعودی عرب کا دورہ کرنے والے لبنانی رہ نماؤں میں وزیر برائےامور تارکین وطن جبرایل باسیل، وزیر تعلیم مروان حمادۃ، وزیرخزانہ علی حسن خلیل، وزیر دفاع یعقوب صراف، وزیر داخلہ وبلدیات نہاد المشنوق، وزیر برائے صدارتی امور بیار رفول، وزیر اطلاعات ملحم الریاشی، وزیر تجارت راید خوری، اور سعود عرب میں لبنان کے سفیر عبدالستار عیسیٰ شامل تھے۔ لبنانی صدر کے دورہ سعودی عرب کو نہایت اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب لبنان میں طویل کوششوں کے بعد صدر کا چناؤ عمل میں لایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سعد حریری کی قیادت میں ایک نئی کابینہ تشکیل دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لبنانی وفد نے سعودی عرب میں حکام کے ساتھ بات چیت میں سعودی شہریوں کے لبنان سفر پر پابندیوں کے اٹھائے جانے اور دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی، دفاعی اور تجارتی تعلقات ماضی کی طرز پر بحال پر کرنےپر تفصیلی بات چیت کی ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مین

loading...

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

بین الاقوامی خبریں

 
 

تازہ ترین تصاویر


>