تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

افغانستان کے سرکاری ریڈیو ٹی وی اسٹیشن پر حملہ

  17 مئی‬‮ 2017   |    01:46     |     بین الاقوامی

جلال آباد(ویب ڈیسک) افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد میں واقع سرکاری ریڈیو ٹی وی اسٹیشن پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا جبکہ صحافی اور عملہ عمارت کے اندر ہی محصور ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حکومتی ترجمان عطاء اللہ خوگیانانی نے بتایا کہ ’تین مسلح دہشت گرد ریڈیو ٹیلی وژن افغانستان (آر ٹی اے) میں داخل ہوئے‘۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں سے دو دہشت گردوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے جبکہ ایک اب بھی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مزاحمت کررہا ہے۔فائرنگ کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد عمارت سے بچ نکلنے والے آر ٹی اے کے ایک فوٹو گرافر نے بتایا کہ اس کے بعض ساتھی عمارت کے اندر محصور ہیں۔ اس حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے البتہ افغانستان کے صوبے ننگرہار میں شدت پسند تنظیم داعش سرگرم ہے اور جلال آباد اس کا دارالحکومت ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ امریکی فوج نے صوبہ ننگر ہار میں ہی ’سب سے بڑا غیر جوہری بم‘ گرایا تھا جس کے نتیجے میں داعش کے درجنوں کارکن ہلاک ہوئے تھے۔

امریکا کی جانب سے کسی بھی جنگ میں پہلی بار اس بم کو استعمال کیا گیا تھا جسے ’تمام بموں کی ماں‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس حملے کے بعد دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی جبکہ بعض نے افغانستان کی سرزمین کو اس بم کا تجربہ کرنے کے لیے استعمال کرنے پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا اور کہا تھا کہ افغانستان میں داعش سے بڑا خطرہ طالبان ہیں لیکن امریکا نے داعش کے خلاف یہ بم استعمال کیا۔افغانستان میں موجود امریکی فورسز کا دعویٰ ہے کہ انتشار اور لڑائی میں ہونے والے جانی نقصان کی وجہ سے داعش کی افغانستان میں موجودگی کم ہورہی ہے اور جنگجوؤں کی تعداد 3 ہزار سے کم ہوکر صرف 800 تک رہ گئی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع نے مبینہ طور پر وائٹ ہاؤس سے درخواست کی ہے کہ وہ طالبان کے خلاف جنگ میں آنے والے تعطل کو ختم کرنے کے لیے مزید امریکی فوجیوں کو افغانستان بھیجے۔ اس وقت افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 8400 کے قریب ہے جبکہ نیٹو افواج کے 5000 فوجی بھی وہاں موجود ہیں۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

بین الاقوامی خبریں

 
 

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین تصاویر


>