تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مظالم، میانمار فوج نے خود کو بری الذمہ قرار دیدیا

  14 ‬‮نومبر‬‮ 2017   |    02:23     |     بین الاقوامی

یانگون(ویب ڈیسک ) میانمار کی فوج نے روہنگیا مسلمانوں پر تشدد، قتل اور اجتماعی زیادتی کے واقعات سے خود کو بری الذمہ قرار دے دیا۔برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق فوج کی ایک اندرونی رپورٹ میں کہا گیا کہ گا ئو ں کے لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ سیکیورٹی فورسز روہنگیا مسلمانوں کے قتل، جنسی تشدد، خواتین کے ساتھ زیادتی، گاں کے لوگوں کی قیمتی

اشیا چرانے اور گھروں اور مساجد کو نذر آتش کرنے میں ملوث نہیں ہیں۔ اس میں مزید کہا گیا کہ یہ روہنگیا کمیونٹی کے کچھ عسکریت پسند تھے، جنہوں نے ریاست رخائن میں بے شمار دیہاتوں کو نذر آتش کیا اور جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ وہاں سے فرار ہوئے کیونکہ انہیں دہشت گردوں سے خطرہ تھا اور انہیں ایسا کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔فوجی رپورٹ میں 6 لاکھ روہنگیا مسلمانوں کے ملک چھوڑنے کے ذمہ دار فوجی جنرل مونگ مونگ سوئے کے تبادلے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔جنرل مونگ مونگ سوئے میانمار کی ریاست رخائن میں عسکریت پسندی کے خلاف نام نہاد آپریشن کا انچارج تھے۔واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سینئر عہدیدار نے میانمار کی فوج کو اجتماعی زیادتی اور انسانیت کے خلاف دیگر جرائم کا مرتکب قرار دیا تھا۔میانمار فوج کے منظم جرائم کی تصدیق بنگلہ دیش میں پناہ گزین کیمپوں کے دورے کے بعد کی گئی۔دوسری جانب انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایک ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ میانمار کی فوج نے یہ واضح کردیا ہے کہ اسے احتساب کو یقینی بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اب یہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے اقدامات اٹھائیں کہ اس قسم کے جرائم کرنے والے سزا سے بچ نہ سکیں۔دوسری جانب برطانوی وزیراعظم کا کہنا کہ روہنگیا مسلمانوں کو نسل کشی جیسی صورتحال کا سامنا ہے اور میانمار کی انتظامیہ اور فوج کو حالات کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔جبکہ امریکی وزیر خارجہ کے دورے کے موقع پر میانمار حکومت کو سخت پیغام دیے جانے کا بھی امکان ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین تصاویر


>