تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

لندن میں قائد اعظم کے مجسمے کی تقریب رونمائی

  29 ‬‮نومبر‬‮ 2017   |    11:05     |     بین الاقوامی

لندن (ویب ڈیسک) وسطی لندن میں قائم برطانوی میوزیم میں قائد اعظم محمد علی جناح کے مجسمے کی رونمائی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں 400 کے قریب افراد نے شرکت کی۔افتتاحی تقریب کے بعد قائد اعظم کے مجسمے کو لنکونز ان (Lincoln’s Inn) منتقل کردیا گیا جہاں اسے نصب کردیا گیا۔خیال رہے کہ کئی سالوں سے

لنکونز ان آگہی مہم چلارہا ہے جس میں کہا گیا کہ لنکونز ان بار میں پاکستان کے بانی کے اعزاز میں سالانہ عشائیے کا اہتمام کیا گیا تھا۔یاد رہے کہ قائد اعظم کو لنکونز ان کے بار میں 29 اپریل 1896 کو اعشائیہ دیا گیا تھا۔تاہم تقریب رونمائی لنکونز ان میں تعمیراتی کام کی وجہ سے منعقد نہیں کی جاسکی تھی۔لندن میں مقیم پاکستانی ہائی کمشنر سید ابن عباس کا کہنا تھا کہ 'ہم پاکستان کی 70 ویں آزادی پر قائداعظم کو خراج عقیدت پیش کرنا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں کچھ رضاکارانہ طور پر چندے کی پیشکش ہوئی تھی لیکن اس مجسمے کے اخراجات پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے ادا کیے گئے جبکہ اس منصوبے کی تیاری گذشتہ تین سالوں سے کی جارہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ مجسمے تیار کرنے کی ذمہ داری ایک اسکاٹش سنگ تراش فلپ جیکسن کو دی گئی تھی جبکہ اس کام کے لیے ہم نے قائد اعظم کی تمام تصاویر، فلموں اور ان لوگوں کی کتابیں جو ان سے مل چکے ہیں کو دیکھا جس کے بعد ہم اس کو تیار کر پائے۔فلپ جیکسن کے ہاتھوں سے تیار کردہ یہ مجسمہ قائد اعظم کے کردار کے ساتھ ان کی تصویر پیش کرتا ہے جس میں انہوں نے بل دار کوٹ پہنا ہے جو ان کی مغربی لباس سے محبت ثابت کرتا ہے۔مجسموں میں موجود ایک آنکھ والا چشمہ بتاتا ہے کہ فلپ جیکسن قائد اعظم کو سیاسی شخصیت کے بجائے ذہین آدمی بتانا چاہتے ہیں۔محمد علی جناح کے چہرے کے تاثرات بتاتے ہیں کہ تقسیم ہند کے وقت ان کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری تھی۔پاکستان کی 70 ویں آزادی کا جشن منانے کے لیے لندن میں پاکستان فیشن ویک کا بھی انعقاد کیا گیا جبکہ لندن کی ڈبل ڈیکر بسوں پر اشتہارات بھی لگائے گئے تھے۔پاکستان کی جانب سے لندن میں اپنی آزادی کے جشن پر کچھ ہفتوں قبل آزاد بلوچستان کے پوسٹر نے داغ لگایا تھا۔ہائی کمیشن کی جانب سے ان پوسٹرز کو ٹیکسی اور بسوں پر سے ہٹوا دیا گیا تھا تاہم اب بھی کچھ اشتہارات کو ہورڈنگز پر دیکھا جا سکتا ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

بین الاقوامی خبریں

 
 

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین تصاویر


>